Home اسلامیات عمرہ کی فضیلت اور اس کا آسان طریقہ- ڈاکٹر محمد واسع ظفر

عمرہ کی فضیلت اور اس کا آسان طریقہ- ڈاکٹر محمد واسع ظفر

by قندیل

استاذ و سابق صدر، شعبہ تعلیم، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ

حج کی طرح عمرہ بھی ایک ایسی عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ اس کا خصوصی تعلق مسجد حرام سے ہے یعنی یہ عبادت صرف حرم مکہ میں ہی کی جاسکتی ہے۔ اس کے لئے کوئی تاریخ متعین نہیں، حج کے خاص ایام یعنی ذی الحجہ کی ۹، ۱۰، ۱۱، ۱۲ اور ۱۳ تاریخ کو چھوڑ کر سال کے کسی بھی دن عمرہ کیا جاسکتا ہے اور اس کی تعداد کی بھی کوئی حد نہیں ہے جب کہ حج سال میں صرف ایک ہی بار کیا جاسکتا ہے۔ گو حج کے مقابلہ میں عمرہ میں ارکان کم ہیں لیکن جس طرح حج کی فضیلت میں رسول پاک ﷺ سے بہت سی روایتیں منقول ہیں، عمرہ کے تعلق سے بھی منقول ہیں۔ مثلاً آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ حج ا و رعمرہ پے درپے کیا کرو کیوں کہ یہ تنگدستی اور گناہوں کواس طرح دور کردیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کو دور کردیتی ہے۔ (سنن ترمذیؒ، رقم الحدیث ۸۱۰، بروایت عبداللہ بن مسعودؓ)۔ آپؐ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ حج اور عمرہ کو جانے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں، اگر وہ اللہ سے دعا کریں تو وہ اسے قبول فرماتا ہے اور اگر اس سے مغفرت طلب کریں تو وہ ان کو بخش دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہؒ ، رقم الحدیث ۲۸۹۲،بروایت ابی ہریرہؓ)۔ نبی کریم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ دو عمرے ان گناہوں کا کفارہ ہیں جو ان کے درمیان کئے گئے ہوں۔ (صحیح مسلمؒ، رقم الحدیث ۳۲۸۹، بروایت ابی ہریرہؓ)۔ آپؐ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کرنے کے برابر ہے۔ (صحیح بخاریؒ، رقم الحدیث ۱۷۸۲، بروایت عبداللہ بن عباسؓ)۔ آپؐ کا یہ بھی ارشاد منقول ہے کہ رمضان میں عمرہ کرنامیرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔ (صحیح بخاریؒ، رقم الحدیث ۱۸۶۳، بروایت عبداللہ بن عباسؓ)۔

عمرہ کی شرعی حیثیت کے سلسلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ حنفی اور مالکی فقہاء نے ہر صاحب استطاعت کے لیے زندگی میں ایک بار عمرہ کرنے کو سنت مؤکدہ لکھا ہے اور ایک مرتبہ سے زیادہ عمرہ کرنے کو مستحب بتایا ہے جب کہ امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور کچھ دوسرے فقہاء حج کی طرح عمرہ کو بھی عمر بھر میں ایک مرتبہ کرنا فرض اور ایک سے زائد مرتبہ کرنا نفل قرار دیتے ہیں۔ عمرہ میں فقط چار کام کرنے ہوتے ہیں: (۱) میقات سے عمرہ کا احرام باندھنا یعنی عمرہ کی نیت کرکے تلبیہ پڑھنا (۲) مکہ معظمہ پہنچ کر کعبہ یعنی بیت اللہ کا طواف کرنا (۳) صفا و مروہ پہاڑیوں کے درمیان سعی کرنا (۴) حلق یا قصر کرنا۔ ان چار کاموں میں سے شروع کے دو کاموں کو علماء نے فرض اور آخر کے دوکاموں کو واجب بتایا ہے۔ عمرہ کے افعال کی ترتیب آپ اس طرح قائم کرسکتے ہیں:

روانگی کا دن: روانگی سے پہلے اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص کریں یعنی عمرہ کے سفر سے صرف اللہ کو راضی اور خوش کرنے کی نیت ہو۔ ریا، شہرت ،سیاحت یا تجارت غرض نہ ہو ورنہ ساری محنت بر باد اور سارا خرچ اکارت ہو جائے گا۔ روانگی کے دن بدن کی صفائی اورغسل سے فارغ ہوکر احرام کے کپڑے بدلیں پھر دورکعت نماز پڑھ کر (اگر مکروہ وقت نہ ہو) جہاز پر سوار ہوں۔ جب میقات کے قریب پہنچیں تو عمرہ کی نیت کریں۔ اتنا کہہ لینا کافی ہے: اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک عُمْرَۃً یا اردو میں کہیں یا اللہ میں عمرہ کی نیت کرتا ہوں اس کو میرے لیے آسان فرما اور قبول فرما۔ ہندوستان کا میقات یلملم ہے جو جدہ سے تقریباً ۷۵ میل پہلے ہے۔ اگر جہاز میں نیند آجانے یا دوری کے پتہ نہ چلنے کا اندیشہ ہو تو میقات سے پہلے ہی عمرہ کی نیت کرلیں۔ عمرہ یا حج کی نیت کرکے تلبیہ پڑھنے کو ہی احرام باندھنا یا احرام میں داخل ہونا کہتے ہیں۔ یاد رہے کہ بغیر احرام کے یعنی بغیر عمرہ کی نیت کیے اور تلبیہ پڑھے میقات سے گزر جانے پرایک دم (قربانی) واجب ہوجاتا ہے، اس لیے اس سے غافل نہ ہوں۔ اگر جہاز جدہ کے بجائے مدینہ منورہ جا رہی ہو تو راستہ میں احرام باندھنے کی ضرورت نہیں۔ مدینہ منورہ سے مکہ کے سفر میں ذوالحلیفہ سے عمرہ کے احرام کی نیت کریں۔ بہر حال نیت کے بعد مرد بلند آواز سے اور عورتیں آہستہ آواز سے تلبیہ پڑھیں۔ نیت کرکے ایک بار تلبیہ پڑھنے سے ہی آدمی احرام میں داخل ہوجاتا ہے لیکن تلبیہ جب بھی پڑھیں تین بار پڑھیں اور پورے سفر میں اس کا ورد زبان پر ہو خصوصاً تغیر حالات کے وقت یعنی ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہوتے وقت۔ تلبیہ یہ ہے؛ ’’لَبَّّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَ الْنِّعْمَۃَ لَکَ وَ الْمُلْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ‘‘ (ترجمہ): میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں آپ کاکوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، بیشک سب تعریف اور نعمت آپ ہی کے لیے ہے اور سارا جہان ہی آپ کا ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں۔

تلبیہ پڑھتے ہی آپ احرام کی حالت میں آگئے لحاظ کچھ چیزیں آپ پر ممنوع (Prohibited) ہوگئیں اس کا خیال رکھیں جیسے:(۱) مرد کو سلا ہوا کپڑا پہننا۔ عورت سب کچھ پہن سکتی ہے صرف دستانہ نہ پہنے۔ (۲) سر اور چہرہ کا ڈھانکنا (عورت سر ڈھانکے گی لیکن چہرہ نہیں)۔ (۳) خوشبو کا استعمال کرنا اور زیب و زینت اختیار کرنا ۔ (۴) سر یا جسم سے بال دور کرنا۔ (۵) ناخن کاٹنا۔ (۶) خشکی کا شکار کرنا حتی کہ جوں، کھٹمل، چیونٹی وغیرہ کو بھی مارنے سے پرہیز کرے۔ (۷) مرد کے لیے جوتا اور موزہ پہننا،عورت دونوں پہن سکتی ہے۔(۸) شہوت کی باتیں (obscene talk) یاشہوت کے کام(indecent acts)میں ملوث ہونا(۹) لڑائی جھگڑے کرنا۔(۱۰)گناہ کا کوئی بھی کام کرنا۔

جدہ پہنچنے کے بعد ضروری کار روائیوں سے فارغ ہوکر آپ مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے۔ اگر آپ پہلے مدینہ منورہ پہنچ گئے ہیں تو وہاں سے مکہ روانگی کے دن ذوالحلیفہ سے عمرہ کا احرام اسی طریقہ پر باندھیں جیسا شروع میں ذکر ہوا۔

مکہ پہنچنے کا دن: مکہ پہنچنے اور ہوٹل میں داخلہ کے بعد سامان وغیرہ ترتیب سے رکھ کر ضروریات سے فارغ ہوں پھر وضو کرکے حرم کی طرف چلیں۔ مسجد حرام میں جس دروازہ سے داخل ہوں اس کا نمبر ذہن نشیں کرلیں تاکہ لوٹنے میں آسانی ہو۔ کعبہ پر جب پہلی نگاہ پڑے تو تکبیر یعنی اللّٰہ اکبر کہیں پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کریں، اس وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ اب آپ کو عمرہ کے اعمال ادا کرنے ہیں یعنی طواف،سعی اور حلق یا قصر۔ سب سے پہلے طواف کریں۔

طواف: طواف کے لیے کعبہ کے حجر اسود والے کونے کی طرف آئیں ۔ طواف شروع کرنے سے پہلے تلبیہ پڑھنا بند کر دیں۔ مرد احرام کی چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر اوڑھ لیں، اسے اضطباع کہتے ہیں جو کہ سنت ہے۔ پھر طواف کی نیت کریں۔ دل میں ارادہ کرلیں کہ میں عمرہ کا طواف کر رہا ہوں پھر حجر اسود والے رکن (Corner) کے بالکل سامنے آجائیں، کعبہ کی طرف رخ کرکے ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ اَکْبَرُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ‘‘ کہہ کر ہاتھ اٹھا کر گرا دیں پھر استلام کریں یعنی حجراسود کو بوسہ دیں یا کم از کم چھولیں۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ہاتھ سے اس طرف اشارہ کریں اور ہاتھوں کو بوسہ دے لیں۔ اس کے بعد دائیں طرف سے چکر لگانا شروع کریں اور مرد اکڑ کر تھوڑی تیز رفتار سے چلیں، اسے رمل کہتے ہیں، یہ صرف شروع کے تین چکروں میں ہوگا باقی چار چکر عام رفتار سے چلیں۔ طواف شروع کرتے ہی تیسرا کلمہ پڑھنا شروع کردیں۔ طواف حطیم کے باہر سے کریں۔ رکن یمانی پر پہنچنے پر اسے دائیں ہاتھ سے چھولیں اور اگر دور ہوں تو ہاتھ سے اشارہ کرنے کی ضرورت نہیںہے۔ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان ’’رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً‘‘ دعا پڑھیں یا اورجو دعا یاد ہو پڑھیں۔ حجر اسود سے حجر اسود تک ایک شوط یا ایک چکر ہوا۔ اسی طرح سات چکر لگانے ہیں۔ ہر بار جب حجر اسود پر پہنچیں تو ’’اللّٰہُ اَکْبَرُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ‘‘ کہیں اور استلام کریں۔ طواف میں اگر چار چکر کے اندر وضو ٹوٹ جائے تو وضو کرکے از سر نو طواف کریں اور اگر چار کے بعد وضو ٹوٹے تو وضو کے بعد جتنے چکر باقی ہوں اُتنے پورا کریں لیکن بہتر یہ ہے کہ ہر صورت میں از سر نو طواف کرلیں۔ طواف کے دوران اگر کسی پنجگانہ نماز کی اقامت ہوجائے تو جس جگہ ہوں وہیں رک جائیں اور نماز کے بعد جتنے چکر باقی ہوں اُتنے ہی پورا کریں، از سر نو طواف کرنے کی ضرورت نہیں۔ طواف کے سات چکروں کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز نمازِ طواف ادا کریں جس کی پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھیں۔ نماز کے وقت چادر کو درست کرلیں یعنی نماز میں اضطباع نہیں ہے۔ نماز کے بعد آب زمزم پئیں پھر مقام ملتزم پر جا کر دعا کریں، دل کھول کر اللہ سے دعامانگیں، پھر حجر اسود کا استلام کرکے صفا کی طرف سعی کے لیے جائیں۔

سعی: صفا پر پہنچ کر قرآن پاک کی آیت ’’اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآ ئِرِ اللّٰہِ‘‘ پڑ ھیں پھر سعی کی نیت کریں یعنی دل میںارادہ ہو کہ میں عمرہ کی سعی کرتا ہوں۔ پھر کعبہ کی طرف رخ کر کے تین بار اللّٰہُ اَکْبَرُ اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہیں پھر چوتھا کلمہ اور درود شریف پڑھ کر ہاتھ اٹھا کر دعا کریں۔ یہ عمل تین بار کریں، پھر مروہ کی طرف چلیں۔راستے میں اللہ کا ذکر کرتے رہیں۔جب ہری بتی (میلین اخضرین) پر پہنچیں تو مرد ہلکی دوڑ لگائیں اور اگلی ہری بتی پر پہنچ کر عام رفتار سے چلیں اور عورتیں مسلسل عام رفتار سے ہی چلیں گی۔ مروہ پر پہنچ کر کعبہ کی طرف رخ کرکے وہی عمل کریں جو صفا پر کیا تھا۔ یہ ایک چکر ہوا۔ پھر صفا کی طرف چلیں، جب ہری بتی پر پہنچیں تو پھر اگلی ہری بتی تک مرد ہلکی دوڑ لگائیں اس کے بعد عام رفتار سے صفا پر پہنچ کر اسی طرح عمل کریں جیسا کہ پہلے کیا تھا۔ یہ دوسرا چکر ہوا۔ اسی طرح سات چکر لگائیں اور ہر چکر میں دونوں ہری بتی کے درمیان دوڑیں۔ ساتواں چکر مروہ پر ختم ہوگا۔ سعی کے لیے وضو یا طہارت شرط نہیں ہے لہٰذا اگر سعی کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو سعی پھر سے کرنے کی ضرورت نہیں۔ سعی کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے اگر نہ پڑھ سکیں تو کوئی حرج بھی نہیں ہے۔

حلق یا قصر: سعی سے فارغ ہو کر مسجد حر ام سے باہر آجائیں اور حلق یا قصر کروالیں یعنی سر کے بال پوری طرح منڈوالیں یا انگلی کے ایک پور کے برابر پورے سر سے کم کروالیں۔ عورتیں قصر ہی کریں گی یعنی پوری چوٹی کے ہر لٹ سے ایک پور بال کاٹ لیں گی۔ اب آپ کا عمرہ مکمل ہوگیا، اللہ پاک قبول فرمائے۔ آمین! حلق یا قصر کے بعد آپ احرام کی پابندیوں سے بھی آزاد ہوگئے۔ اب آپ مکہ مکرمہ میں عام آدمی کی طرح قیام کریں اور نمازوں کا اہتمام جماعت کی پابندی کے ساتھ کریں اور زیادہ سے زیادہ خانہ کعبہ کا طواف کریں ۔ یہ طواف نفل ہوگا اور اسی طریقہ سے ہوگا جیسا اوپر ذکر ہوا، صرف نیت نفل کی ہوگی اور اس میں رمل نہیں ہوگا۔ نفل طواف کے بعدبھی دو رکعت نماز پڑھی جائے گی لیکن سعی نہیں کی جائے گی۔ یاد رکھیں کہ طواف وہ عبادت ہے جوآپ دوسری جگہ نہیں کر سکتے اس لیے قیام مکہ کے دوران اپنے وقت کی حفاظت کرکے خود کو زیادہ سے زیادہ اس میں مشغول رکھیں۔ اگر یاد آجائے تو اس بندۂ عاجز کو بھی اپنی دعاؤں میں شامل کرلیں عین نوازش ہوگی۔

You may also like