امتِ مسلمہ سے قرآن کریم کاخطاب-یاوررحمن

(تیسری قسط)

مجھے قول یا عمل سے رد کر دینے والوں کے لئے تو صرف ذلت اور پستی ہے۔ پھر کس نے تمھیں میرے بغیر دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات کی گارنٹی دے دی ؟

تم جو مجھے پلٹ کر دیکھتے تک نہیں، میرے ہوتے ہوئے بھکاریوں کے در کے بھکاری بن گئے، گمراہوں کو اپنا رہبر مان بیٹھے، رہز نوں کو اپنا محافظ سمجھ گئے، بے عقلوں کو اپنا لیڈر اور رہنما مان لیا، بے ضمیر وں اور خدا کے غداروں کو اپنا ملجا و ماوی سمجھ بیٹھے، کیا ہو گیا ہے تمہاری عقل کو ؟

کہاں ہیں وہ سینے جو میری یاد سے منور تھے ؟ وہ دل جو میری وعیدوں پر خوف سے لرز اٹھتے تھے ؟ وہ زبانیں جو میری تلاوت سے حلا وت حاصل کرتی تھیں ؟ وہ آنکھیں جو مجھے پڑھ کر آنسوؤں سے بھر جایا کرتی تھیں ؟ وہ ضمیر جو میری ملامتوں سے پانی پانی ہو جایا کرتے تھے ؟ وہ روحیں جو میری قرات سے وجد میں آ جایا کرتی تھیں ؟ وہ سر اطاعت جو میری ہر ھدایت پر بے ساختہ جھک جاتے تھے ؟ اور وہ دیوانے جو مجھے لیکر راہ عزیمت پر نکل پڑتے تھے ؟

کچھ لوگ، آٹے میں نمک کے برابر لوگ تمھیں سمجھانا چاہتے ہیں، تمھیں حکم رسول یاد دلاتے ہیں کہ آؤ گمرہی اور فتنوں کے اس دور میں پلٹو اللہ‎ اور اسکے رسول کی طرف، پھر فیصلہ کرو کہ گمراہ عقائد کی اس یلغار میں میزان حق کیا ہے تو تم ہنستے ہو، جھگڑتے ہو، تہمتیں دھرتے ہو، بحثیں کرتے ہو اور مجھ پر، نبی صادق پر، آخرت کی پوچھ تاچھ پر، جنّت کے عیش پر اور جہنم کی ہولناکیوں پر ایمان رکھنے کا دعوی کرنے کے باوجود میری طرف اور اپنے نبی کے طریقے کی طرف عملا لوٹنے سے کترا جاتے ہو !

آخر تم اتنے مغرور اور گھمنڈی کیوں ہو ؟ اس قدر بے پرواہ کیوں ہو؟ اتنے بے حس اور مطمئن کیوں ہو ؟ آخر کس چیز نے تمھیں اتنا مدہوش کر دیا ہے کہ آخرت کی بازپرس سے ذرا بھی نہیں ڈرتے ؟ روز مرتے ہو، کتنے رشتےداروں اور دوست و احباب کو اپنے ہاتھوں سے قبر کی تنہائیوں میں دفن کر چکے ہو، جانتے ہو کہ موت برحق ہے، اس کا تجربہ کرتے رہتے ہو، جانتے ہو اور خوب جانتے ہو کہ تمہارا کوئی بھی پل موت کا پل ہو سکتا ہے، کوئی بھی صبح تمہاری آخری صبح ہو سکتی ہے، کسی شام بھی تمہاری زندگی کا چراغ گل ہو سکتا ہے، کسی بھی پہر سانسوں کے قافلے اپنا سفر روک سکتے ہیں، کسی بھی پل فرشتۂ اجل تمھیں آ کر گرفتار کر سکتا ہے، پھر بھی تم اتنے بے حس ہو! ایسی پریشان کن اور غیر متوقع دنیا میں اتنے مگن ہو؟ حیرت ہے ، کس مٹی سے بنے ہو تم ؟

اکثر تمہاری راتیں دہشت کے سائے میں گزرتی ہیں، صبح تمہاری آنکھ خوف و ہراس کی فضا میں کھلتی ہے، شام ہوتے ہی اضطراب تمہیں گھیر لیتا ہے، سوتے ہو تو پریشان کن خواب تمہاری آنکھوں پر ڈیرہ ڈال دیتے ہیں، دہشت گردی کے الزاموں میں مارے جاتے ہو، فسادات کی آگ میں جلائے جاتے ہو، جنگوں کی بمباری میں اڑائے جاتے ہو، خبریہ چینلوں پر تماشا بنا کر دکھائے جاتے ہو، اخباروں میں گالیوں کی صورت چھاپے جاتے ہو، پھر بھی میری طرف نہیں پلٹتے، کیسے بے حس اور بد عقل ہو تم ؟

کس کس انداز میں تمھیں سمجھایا ہے کہ میں اللہ‎ کی مضبوط رسی ہوں، دلدلوں میں پھنسنے سے بچنا چاہتے ہو تو مجھ سے چمٹ جاؤ۔ کیسے کیسے تمہیں بلایا ہے کہ میں بحر ظلمات میں اللہ‎ کے نور کی کشتی ہوں، ڈوبنے سے بچنا چاہتے ہو تو مجھے تھام لو! کیا اب بھی نہ پلٹو گے جبکہ تمہارے اوپر مسجدوں کے دروازے بند ہو گئے ہیں؟ اب بھی نہ آؤگے میری طرف جبکہ تم اپنے گھروں میں محصور ہو گئے ہو؟ اب بھی مجھے بڑھ کر نہیں تھاموگے جبکہ تمہارے بے دین چرواہوں نے تمھیں ایک خطرناک نفسیاتی خوف میں مبتلا کر دیا ہے؟

سیاست پر معیشت پر اور معاشرت پر خدا کے نافرمانوں اور سرکشوں کا قبضہ ہے، تمہارے ہاتھوں میں کشکول گدائی ہے، بھیک کا پیالہ ہے۔ انکے چہروں پر کبر و نخوت کا جلال ہے، تمہاری آنکھوں میں حسرتیں ہیں، ملال ہے۔ انکی زبانوں پر تمہارے لئے گالیاں ہیں، رسوائیاں ہیں، طعنے ہیں اور قہر ہے، تمہارے ہونٹوں پر خاموشی کی مہر ہے۔ انکی گردنیں تنی ہوئی ہیں، تمہارے سر جھکے ہوئے ہیں۔ انکے ہاتھوں میں زمام اقتدار ہے، سرداری ہے، خسروی ہے، جہاں بانی ہے، تمہارے پیروں میں آبلے ہیں، زنجیریں ہیں، زخم ہیں، پھپھولے ہیں، تمہارے فکر و نظر پہ ظالم کی پہریداری ہے۔ خدا کی قسم ! اس نے تمھیں آزاد ہی نہیں بلکہ لیڈر، رہنما، قائد اور حکمراں بنا کر بھیجا تھا۔۔۔۔آہ! تم مجھے چھوڑ کر کیا سے کیا ہو گئے !!

(جاری )

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*