اُمتِ مسلمہ کا ماضی اور حال:ایک طائرانہ نظرـ احمد سعید قادری بدایونی 

 

تم ہی اب وہ نہیں رہے ورنہ

وہی عالم وہی خدائی ہے

 

تاریخ کا ایک وہ دور تھا جب مسلمان کو اخلاقِ حسنہ کا استعارہ سمجھا جاتا تھا، مسلمانوں کے اخلاق کی مثالیں پیش کی جاتی تھیں، متنازعہ معاملات میں مسلمانوں کو حکم و فیصل بنا کر اُن کے فیصلوں پر آنکھ بند کر کے عمل کیا جاتا تھا، کسی بات کے سچ ہونے کے لئے بس اتنا کافی تھا کہ اس بات کا کہنے والا ایک مسلمان ہے۔

مسلمان كى ایمانداری و دیانتداری ایسی تھی کہ غیر بھی اُس کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے اور خود ایمان داری کو مسلمان کی جاگیر کہلوانے پر ناز تھا۔

مسلمان نام تھا ایک ایسی زندہ قوم کا جو حق کے لئے مر مٹنے کو تیار رہتی تھی۔ ایک ایسی قوم جو باطل کو شکست دینے کے لئے سر بکف پھرا کرتی تھی۔ مخلوقِ خدا کی خدمت کا عالم یہ تھا کہ اگر کسی راہ گیر کو سڑک پر ٹھوکر لگتی تو بے ساختہ زبان سے نکلتا کہ شاید آج اس راہ سے کسی مسلمان کا گزر نہیں ہوا ورنہ یہ پتھر مجھے بیچ راہ میں نہ ملتا۔ ایک ایسی قوم جس کی حرارت ایمانی کے سامنے ایران کے آتش کدے بھی ٹھنڈے پڑگئے اور ایک ایسی با رعب قوم جس کی ہیبت کے مارے بت بھی سہمے ہوئے رہتے تھے۔

مزاج میں ایسی سادگی کہ چار لاکھ مربع کلومیٹر زمین پر حکومت کرنے والی قوم کا خلیفہ ہاتھ کو تکیہ بنا کر زمین پر سو جاتا تھا تو کبھی راتوں کو رعایا کے خبر گیری کو نکلتا اور اپنی پیٹھ پر اناج کی بوریاں لاد کر ضرورت مندوں کے گھر پہچاتا۔

اسی عاجزی و انکساری نے مسلمانوں کو قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کا حاکم بنایا تھا، اسی عدل و مساوات اور ہمت نے مسلمانوں کو مصر جیسے قدیم و مثقف ملک کا حکمران بنایا تھا مگر افسوس:

تھے تو وہ آبا تمہارے مگر تم کیا ہو؟

آج مسلمان میں اپنے اسلاف کی کوئی خوبی نظر نہیں آتی ہر وہ بات جو کبھی مسلمان کا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھی آج اُن باتوں کا فقدان مسلمانوں کا طرۂ امتیاز ہےـ وہ سچ جو کبھی مسلمان کی زندگی کا جز ما بہ الامتیاز تھا آج اس کی جگہ جھوٹ نے لے لی ہے، شبِ تیرہ کی سیاہی کچھ اس طرح بِکھری ہے کہ مسلمان شعلگیِ شمع حرم بھول گیا ہے۔

آج دنیا کے ہر کونے میں مسلمان مارا جا رہا ہے، فلسطین سے لے کر کشمیر، سیریا سے یمن اور عراق سے شام تک خونِ مسلم کی ارزانی ہے جس کو سارے مسلم ممالک تماشائی بنے دیکھ رہے ہیں مزید ستم یہ کہ پٹتا بھی مسلمان ہے اور الزام بھی اسی کے سر آتا ہے، کٹتا بھی مسلمان ہے اور کاٹنے کے جرم کی سزا بھی اسی کو ملتی ہے۔

 

ہائے رے افسوس اب تو اعصاب بھی شکستہ ہو چلے ہیں، نگاہیں بھی چھلنی ہیں، فصل بہار و خزاں کا احسان بھی ختم ہوگیا ہے، احساس ہر لمحہ اُداسی کے تسلط میں ہے، یہ سانس کا سلسلہ بھی اب نیزے کے انی کی طرح چبنے لگا ہے۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم ماضی کے حسین خوابوں سے باہر نکلیں اور مستقبل کی تدبیر کریں؟ يقين جانو! آج بھی وہی دور واپس آ سکتا ہے، آج بھی آگ گلزار بن سکتی ہے، آج بھی تاریکی سے روشنی پھوٹ سکتی ہے، آج بھی مسلمان معزز ہوسکتا ہے، آج بھی مسلمان کو بالا دستی حاصل ہوسکتی ہے بس شرط اتنی سی ہے کہ

مسلمان رہو سربلند رہوگے۔ انتم الاعلون إن كنتم مؤمنين ـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)