داعیِ اسلام عمر گوتم کی گرفتاری: دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا ـ مولانا طاہر مدنی

و من أحسن قولا ممن دعا إلي الله و عمل صالحا و قال إنني من المسلمين.
اور اس سے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے اور نیک عمل کرے اور اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں ـ
قرآن و سنت کی روشنی میں دعوت الی اللہ افضل ترین عمل ہے اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا اسوہ حسنہ ہے؛ قل هذه سبيلي ادعو الي الله علي بصيرة انا و من اتبعني. اے نبی! اعلان کر دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے، میں علی وجہ البصیرت اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں اور میرے متبعین بھی ـ
ہر مسلمان داعی ہے اور اس بات کا مکلف ہے کہ بقدر استطاعت اللہ کا پیغام عام کرے اور بندگان خدا کو جنت کے راستے پر لانے کی کوشش درد مندی اور خلوص سے کرتا رہےـ یہ ایک اہم دینی فریضہ ہے اور امت مسلمہ کا مقصد وجود ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آخری رسول تھے، آپ کے بعد قیامت تک دعوت کا فریضہ امت مسلمہ ہی کو ادا کرنا ہےـ
ہندوستان میں دعوت اسلامی کی تاریخ بہت قدیم ہے، مخلص داعیان اسلام کی کوششوں سے ملک کے کونے کونے میں اسلام کی دعوت پہونچی اور بڑی تعداد میں لوگ مشرف باسلام ہوئےـ یہ کام ہر دور میں انجام پایا اور آج بھی ہو رہا ہےـ اسلام دین فطرت ہے، اپنی اصلی شکل میں جب یہ انسانوں تک پہونچتا ہے تو دلوں کو اپیل کرتا ہےـ اسلام کی دعوتی طاقت ہر دور میں باطل کو کھٹکتی ہے اور اس راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں ـ داعیان اسلام کو پریشان کیا جاتا ہے اور انہیں شدید آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہےـ اس راہ میں ہمت، حوصلہ، استقامت اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے:
اف یہ جادہ کہ جسے دیکھ کر جی ڈرتا ہے
کیا مسافر تھے، جو اس راہ گزر سے گزرے
اس وقت ہندوستان میں داعیان اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور تبدیلی مذہب کے تعلق سے سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں ـ داعیان اسلام کو بدنام کرنے کے لیے سرکاری ایجنسیوں کو استعمال کیا جا رہا ہے اور میڈیا کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہےـ تازہ ترین مثال یوپی اے ٹی ایس کے ذریعے جناب عمر گوتم صاحب اور مفتی جہانگیر صاحب کی گرفتاری ہے، ان پر تبدیلی مذہب کے تعلق سے جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں اور میڈیا کے ذریعے ان کی امیج خراب کرنے کی کوشش ہو رہی ہےـ
جناب عمر گوتم صاحب خود ایک نومسلم ہیں اور برسوں سے دعوت و تبلیغ کے میدان میں سرگرم عمل ہیں ـ عام طور پر نومسلم بھائیوں کا ایمان اور دعوتی جذبہ، خاندانی مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہےـ یہ بہت مخلص داعی اسلام ہیں اور نو مسلموں کے مسائل حل کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں ـ مفتی جہانگیر صاحب ان کے معاون ہیں، یہ لوگ کوئی خفیہ کام نہیں کر رہے تھے، کھلے عام اپنی سرگرمیاں انجام دے رہے تھےـ ملک کا آئین بھی شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ کی پوری آزادی دیتا ہےـ ایک آئینی حق کا استعمال کس طرح جرم ہوسکتا ہے؟ یہ مخلص داعیان اسلام بے قصور ہیں، ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، ان کا میڈیا ٹرائل غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہےـ ان شاء اللہ ان کی براءت ثابت ہوگی، لیکن اس میں کتنا وقت لگے گا؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہےـ
اس وقت ضرورت ہے کہ سب لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوں ـ عدالت، ذرائع ابلاغ، سیاسی گلیارے، رائے عامہ اور انسانی حقوق کے فورم، ہر جگہ ان کا دفاع کیا جائے. دینی جماعتیں، دعوتی ادارے، سرکردہ شخصیات آواز بلند کریں ـ یہ خاموش رہنے کا وقت نہیں ہےـ یاد رکھیں، آج اگر خاموش رہیں گے تو کل آپ بھی دعوت کا کام نہیں کر سکیں گےـ سازش کو سمجھنا بہت ضروری ہے. اگلے برس یوپی میں الیکشن ہے، ماحول مزید خراب کیا جائے گا اور ہندو مسلم کارڈ کھیلا جائے گاـ عوام کو آگاہ کرنا اور بنیادی مسائل کو موضوع بحث بنانا بہت ضروری ہے:
اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا کبھی پھر اور:
دوڑو، زمانہ چال قیامت کی چل گیا