عمر گوتم اور مفتی جہانگیر قاسمی کی گرفتاری غیر قانونی،انھیں فوراً رہا کیا جائے : ایس آئی او

 

نئی دہلی:(پریس ریلیز) لوگوں کو ورغلا کر زور زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے عمر گوتم اور مفتی جہانگیر قاسمی کو جلد رہا کیا جائے، ایسا مطالبہ ملک کی معروف طلبا تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن نے کیا ہے۔ محمد عمر گوتم صاحب ایک معروف شخصیت ہے، جنہوں نے خود اپنے علم وشعور اور آزاد مرضی سے کئی سال قبل اسلام قبول کیا تھا۔ یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے کہ وہ لوگوں کو زور زبردستی و لالچ کے ذریعہ اسلام کی طرف راغب کرتے تھے، طلبہ تنظیم ایس آئی او نے پریس کو جاری کردہ بیان میں کہا۔

ایس آئی او نے عمر گوتم اور مفتی جہانگیر قاسمی کی گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے انھیں فوری رہا کرنے کی اپیل کی۔ ایس آئی او اس قسم کی کوشش و ہراسانیوں کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ایس آئی او یہ سمجھتی ہے کہ اس کیس کو حکومت و میڈیا کا ایک گروہ فرقہ وارانہ منافرت و سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔ ایس آئی او نے اتر پردیش سرکار کی طرف سے بنائے گئے تبدیلی مذہب کے قوانین کی بھی مخالفت کی جو بنیادی حقوق جیسے مذہب کی تبلیغ و اپنے مرضی سے مذہب کی تبدیلی پر قدغن لگاتے ہیں جسے ہمارے دستور نے بنیادی حق تسلیم کیا ہے۔ہمیں امید ہے کہ ہائی کورٹ آئینی قدروں کی بالا دستی کو یقینی بناتے ہوئے ان کاوشوں پر روک لگائے گا، ایس آئی او کے صدر تنظیم محمد سلمان احمد نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا۔