20 C
نئی دہلی
Image default
بین الاقوامی خبریں

عمیرالیاسی اورایم جے اکبرنے جنیوا پہنچ کرسی اے اے پرحکومت کی طرف داری کی

 

جنیوا: بھارت میں چل رہے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سخت احتجاج،عالمی برداری کی تشویش ،بین الاقوامی دباواورحکومت ہند پر سخت داخلی اوربیرونی پریشرکے درمیان بھارت نے جنیوا میں ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میں اپنا موقف پیش کرنے کی کوشش کی۔اس خدمت کے لیے اس بارسنگھ پریوارکےمبینہ قریبی مولاناعمیرالیاسی اورایم جے اکبرکولے جایاگیا۔اس سے پہلے کشمیرپرجب عالمی برادری نوٹس لے رہی تھی تومولانامحمودمدنی جنیواجاکرحکومت ہندکے فیصلے کادفاع کررہے تھے۔کانفرنس میں عمیرالیاسی نے سرکارکادفاع کرتے ہوئے کہاکہ بھارت میں مسلمان جیتنے محفوظ ہیں اتنے دنیا میں کہیں اور نہیں ہیں۔مولانا الیاسی نے دوہرایا کہ نئے قانون کے باوجود کہیں کا بھی کوئی بھی مسلمان شہریت کے لیے قانونی درخواست دے سکتا ہے۔لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایاکہ اس کی صورت کیاہوگی اوراین آرسی لاگوہونے کے بعدسی اے اے کے ذریعے مذہبی بنیادپرامتیازکس طرح نہیں برتاجائے گا۔ کانفرنس میں حصہ لے رہے ایم جے اکبر، مولاناعمر الیاسی سمیت یوروپی ممبر پارلیمنٹ نے اس قانون سمیت بھارت میں مسلمانوں کی صورت حال پر بھارت کا موقف رکھتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت میں مسلم کمیونٹی کے حالات دنیا میں کسی بھی اور ملک سے کہیں زیادہ بہترہیں۔سابق وزیرمملکت اور بی جے پی کے لیڈرجن کومی ٹومہم کے دوران نام آنے انھیں استعفیٰ دیناپڑاتھا، ایم جے اکبر نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت میں تمام مذاہب کو برابر کے حقوق ہیں اور یہی بھارتی آئین کی بنیاد ہے۔ اکبر نے کانگریس ممبر پارلیمنٹ ششی تھرور کے حالیہ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ششی تھرور کے بیان حقیقت سے باہرہیں۔ انہوں نے ایک بارپھرواضح کیاہے کہ شہریت قانون سے کسی کی بھی شہریت چھینی نہیں جائے گی۔وہیں کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے بھارت میں مولانا عمیر الیاسی نے کہاہے کہ بھارت میں مسلم کمیونٹی کی تعداددنیامیں دوسری سب سے زیادہ ہے اور تمام ہندوستان میں آئین کے تحت برابر کا حق حاصل ہے۔پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مولانا الیاسی نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ بھارت میں مسلمان جیتنے محفوظ ہیں اتنے دنیا میں کہیں اور نہیں ہیں۔مولانا الیاسی نے دوہرایا کہ نئے قانون کے باوجود کہیں کا بھی کوئی بھی مسلمان شہریت کے لیے قانونی درخواست دے سکتا ہے۔لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایاکہ اس کی صورت کیاہوگی اوراین آرسی لاگوہونے کے بعدسی اے اے کے ذریعے مذہبی بنیادپرامتیازکس طرح نہیں برتاجائے گا۔بھارت کے ساتھ بہت سے یوروپی ممبران پارلیمنٹ نے بھی کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے تحت کسی کی شہریت لینے کی قطعی کوئی شرائط نہیں ہیں اوراسے لے کر کوئی تنازعہ نہیں ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment