علماۓ حق،سرکاری علما اور ائمۂ مساجد-مسعود جاوید

ذاکر نگر دہلی میں چھ سات سال قبل ایک مسجد میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی بعد میں وہاں کے امام صاحب نے ان کا باضابطہ تعارف کرایا کہ وہ اس وقت اس مسجد میں معاون امام ہیں۔پہلے بہار میں ایک مسجد میں قاری صاحب امامت کرتے تھے قرآن بہت اچھا پڑھتے اور پڑھاتے تھے پھر کچھ ایسا ہوا کہ گلے میں تکلیف ہوئی اور آواز جاتی رہی علاج کے بعد بھی ان کی آواز پوری طرح نہیں لوٹی اب وہ قرأت سے معذور ہیں۔ قاری صاحب جس مسجد میں امامت کرتے تھے اس مسجد کی عمارت میں بہت ساری دکانیں تھیں یہ جگہ کسی صاحب خیر نے وقف کی تھی اور وہ پاکستان ہجرت کر گئے تھے۔ مسجد کی دوکانوں کو کرایہ پر چڑھانا عملاً وہاں کے دبنگ اور مافیا قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں تھا انہوں نے امام صاحب کو مہرہ بنا کر کرایہ داروں کے ساتھ خوب زیادتی کی۔ اس ضمن میں امام صاحب کو بھی تحفظ کے لئے ” دو ایک باڈی بلڈر قسم کے جوان مہیا کرایا گیا تھا۔ اور دیکھتے دیکھتے امام صاحب بھی دبنگوں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ علاقے کے پولیس اور افسران سے ربط ضبط رہنے لگا۔ کسے بند کرانا ہے کسے چھڑانا ہے اس کی پیروی کرنے لگے۔ اس کے بعد اللہ کی رسی ٹائٹ ہونے لگی اور بالآخر انہیں برخاست کر دیا گیا۔ شہر کی کسی مسجد میں ان کو جگہ نہیں ملی مجبوراً وہ دہلی آگئے۔
علماء حق اور ائمہ کرام کا جو معیار ہے اس میں ان کی للہیت خدا ترسی تقوی پرہیزگاری بدون خوف لومة لائم حق گوئی اور سادگی ہے۔ بعض علماء اور ائمہ مساجد کی نازیبا حرکتوں سے علماء کو عمومیت کے ساتھ متہم کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ” باؤنسر” پروٹیکشن، لال بتی گاڑی یا حکومتی اداروں کی دوسری نوازشات اور "ہٹو بچو” سے دنیاوی لوگوں کی نظر میں چند سالوں کے لئے وہ وی آئی پی بن تو جاتے ہیں مگر العلماء ورثه الانبياء والمرسلين کی وجہ سے ان سے محبت کرنے اور عقیدت رکھنے والوں کی نظر میں گر جاتے ہیں۔ یہ سادہ لوح خدا ترس مسلمان ان کی خدمت کرنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ بہت سے متوسط طبقہ اور غریب مسلمانوں کے یہاں کچھ خاص پکوان بنتا ہے اسے امام صاحب کی خدمت میں پیش کرکے اپنے آپ کو نیک انسانوں کی فہرست میں شامل کرتے ہیں۔ ان کے معمولی قسم کے کھانوں کو امام صاحب قبول کر لیتے ہیں تو یہ سادہ لوح مسلمان اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کرتے ہیں۔ لیکن جب ان جبہ و دستار والے سرکاری علماء اور ائمہ مساجد دین پر دنیا کو ترجیح دینے لگتے ہیں تو ان بھولے بھالے عقیدت مندوں کی عقیدت چکنا چور ہو جاتی ہے اور وہ تمام علماء اور ائمہ مساجد کے بارے میں بدظن ہو جاتے ہیں۔
سیاست مولویوں کے لئے شجر ممنوعہ نہیں ہے۔ جو دانشور حضرات ان کے اس طرح کے تصرف پر اعتراض کرتے ہیں بلکہ ان کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں ان کو مسجد کے لوٹے اور مدرسے کی چٹائی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جمہوریت میں یہ ہر شہری، بشمول مولوی مولانا، کا بروۓ دستور حق حاصل ہے۔ اس پر غیر مولویوں کی مونوپولی نہیں ہے۔ تاہم علماء اور ائمہ مساجد کو یہ بات ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے کہ آپ کے متبعین عقیدت مندوں اور مقتدیوں میں مختلف سیاسی فکر کے حامل لوگ ہوتے ہیں۔ آپ اپنے اس عہدے پر باقی رہتے ہوئے کسی ایک سیاسی پارٹی کی حمایت یا کسی سیاسی پارٹی کی مخالفت کرکے اس عہدے کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ بہت سے سادہ لوح عقیدت مند اسے آپ کا ” فتویٰ” تسلیم کرتا ہے۔ اس طرح کا مذہبی استحصال کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ہے کہ ووٹ کرنا ہر شخص کا دستوری حق ہے مالی منفعت نقد یا سامان وغیرہ سے متاثر کرنا رشوت ہے اور رشوت لینا اور دینا دونوں حرام ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الراشي والمرتشي كلاهما في النار.

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)