علما و دانشوران نے جامعہ مدنیہ سبل پور کے مہتمم مولانا ناظم کی جھوٹے مقدمہ میں گرفتاری کو قابلِ مذمت قرار دیا،کیس کی واپسی کا مطالبہ

سیتا مڑھی:جامعہ مدنیہ سبل پور کو ناجائز طور پر قبضہ کی نیت سے مدرسہ کے مہتمم مولانا ناظم کی جھوٹے مقدمہ میں گرفتاری کولے کربہارکے دانشورا ن کی زوم پر آن لائن میٹینگ منعقد ہوئی۔ جس میں تقریبا ہر مسلک ہر شعبہ کے دانشو ران نے حصہ لیا۔ میٹنگ کی صدارت سماجی کارکن و سیاسی رہنما حافظ انجینئر تنویر ظفر نے کی۔ میٹینگ میں شرکت کرنے والوں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر محمد سجاد، در بھنگہ سے ریاستی مدرسہ بورڈ کے سابق چیئرمین مولانا اعجاز قاسمی، مولانا پروفیسر خاد م حسین، دہلی سے بہار کے سابق وزیر و کانگریس کے سینئر لیڈر شکیل الزماں انصاری، عربی کے مشہور پروفیسر علی اختر اما ن اللہ، سعد ندوی، آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے نیشنل کوآرڈینیٹر شمیم علوی، ایڈوکیٹ اورنگزیب خان، سیتا مڑھی سے ائیر فورس ویٹرن کیپٹن ضیاء الرحمن، ٹائنی ٹوٹ اسکول کے چیئر مین نوشاد احمد، لو ک جن شکتی پارٹی کے سینئر لیڈر صبیح احمد، مشہور سماجی کارکن و صحافی قمر اختر، جن سنگھرش دل کے سینئر لیڈر غفران اسد خان، گیا سے پروفیسر زیارت حسین خان ، ابو قیس محمد خان، مشہور صحافی دانش اقبال، پٹنہ باڑھ سے نواب طارق رضوان، سہر سہ سے اعجاز انجم، پروفیسرحنظلہ، تاجر یاسر عرفات، مشرقی چمپار ن سے نیاز احمد و دیگر سماجی کارکن نے شرکت کر ملت اسلامیہ پر اندرون سے حملے کی سخت مذمت کی۔ واضح ہو کہ مدرسہ سبل پورپٹنہ پر غبن کے الزا م میں مقدمہ بازی نہایت ہی شرمنا ک ہے اور اْمّت کو زوال کی طرف دھکیلنا بھی، جاہلیت کا ا س سے بڑ ا اور کوئی ثبوت نہیں ہو سکتا۔ آن لائن زوم میٹنگ میں اندرونی مدرسہ کے جھگڑ ے او ر ناپا ک سازش کر سڑ ک پر لاکر گرفتاری تک کے عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے مولانا کے خلاف بلا شرط مقدمہ واپس لینے کی مخالف پارٹی سے تاکید کی گئی یا پھر امت مسلمہ کے سامنے وہ تما م بینک اکاؤنٹ جس کے زریعے مولانا نے ٹرسٹ کا پیسہ غبن کیا ہے سامنے لا نے اور ٹرسٹ کے ذمہ داران اور قریبی لوگوں کے ذاتی جائیداد اور آمدنی کا ذریعہ بھی بلا تاخیر پیش کرنے کئی سخت لہجے میں کہیں کیونکہ مدارس اور ادار ے عوامی چند ے سے چلتے ہیں اور عوام کو حسا ب جاننے کا پور ا حق حاصل ہے۔ اور ساتھ ہی مستقبل میں ا س طر ح کی گھناؤنی حرکتوں سے دور رہنے کی دانشورا ن نے ہدایت بھی کی ورنہ اس معاملے کو صوبائی سطح پر لوگوں کے درمیان لایا جائیگا تاکہ اْمت کو شرمسار اور رسوا نہ ہونا پڑ ے اور ادار ے کو خورد برد ہونے سے بچایا جا سکے۔ مدارس اسلامیہ اور ادار ے اْمت کی امانت ہے اور مہمان رسو ل کا گھر ھے نہ کہ ناکاروں نکموں کی چارہ گا ہ اور امبانی کی جائیدا د کہ باپ کے بعد بیٹا ہی مالک ہو۔ مدرسے اور ادار ے کو ذاتی ملکیت نہ سمجھیں کیونکہ اسکی پرور ش اْمت کے زکٰوۃ اور امداد سے ہوتی ہے اور یہ یتیم اور مسکین کی امانت ہے۔ بہار میں تقریبا اسی فیصد مدرسے دو گروہوں کے آپسی جھگڑ ے کے نظر ہو چکی ہے۔ اور بقیہ ذاتی ملکیت میں تبدیل ہے۔ورنہ جتنا ایسیٹ ہے اْمّت کے پا س کہ ہر ضلع میں بہترین اعلیٰ دینی و عصری تعلیم اْمّت کے نو نہالوں کومیسّرہوجائے۔انجینئرتنویرظفرنے بڑ ے دْکھ کے ساتھ یہ انکشاف کیا کہ ادار ے میں کسی نہ کسی بہانے غلط آدمی کے انٹری ہوتے ہی خلفشار شرو ع ہو جاتا ہے اور نوبت برباد ی تک جا پہنچتی ہے۔ دانشورا ن نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے یہ اپیل کی کہ جب تک مکمّل طور پر غبن ثابت نہیں ہو جاتے مدرسہ کے کسی بھی عالم دین کی گرفتار ی سے انکی پولیس گریزکرے کیونکہ یہ معاملہ مسلمانوں کا عوامی مسئلہ ہے اور سلجھانے کی کوشش بھی جار ی ہے۔ ساتھ ہی مقدمہ جھوٹا ثابت ہونے پرمدعی پر سخت سے سخت کاروائی کی جائے۔