علما کے ہاتھوں مفتی عبداللہ پٹیل کی سوانحِ حیات کا اجرا

دیوبند:(سمیر چودھری)مرکزنوائے قلم دیوبند کے زیراہتمام آج یہاں محلہ خانقاہ میں گجرات کے مشہور عالم دین اور متعدد عربی اردو کتابوں کے مصنف وشارح مفتی عبداللہ پٹیل رویدروی کی شخصیت وخدمات پر محیط‘‘ایک مردآہن کی داستان‘‘ نامی کتاب کی رسم اجرا اہل علم وقلم شخصیات کے بدست انجام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر اپنے تأثرات پیش کرتے ہوئے معروف عالم دین اور ماہ نامہ ترجمان دیوبند کے مدیر مولاناندیم الواجدی نے کہا کہ مفتی عبداللہ پٹیل گجراتی علم وتحقیق کا ذوق رکھنے والے بساغنیمت آدمی تھے، انہوں نے ریاست گجرات میں مولانا کے ذریعہ انجام دی گئی دینی وملی کاوشوں کا بطورخاص تذکرہ کیا ۔مولانا نے کہا کہ یہ کتاب اچھی لکھی گئی ہے ،اس میں مولانا عبد اللہ کی سوانح کے مختلف نقوش ابھر کر سامنے آتے ہیں ۔ انہوںنے کتاب کے مصنف مفتی محمدصادق مظاہری تھانوی کی کاوشوں کی ستائش کی۔دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ اور معروف ادیب مولانانسیم اخترشاہ قیصر نے کتاب مذکور کے مشمولات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سیرت وسوانح کی جن فنی خوبیوں سے کتاب کی افادیت ہوتی ہے ان کی جھلک کتاب میں جا بجا محسوس ہوتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس طرح معلوماتی کتاب سے متعلق شخصیت کی زندگی کے لگ بھگ سبھی ابواب سامنے آجاتے ہیں اور شخصیت کا ہر عکس کاغذ پر اتر آتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ نوجوان عالم دین مفتی محمد صادق تھانوی نے مفتی عبداللہ پٹیل کے نقوش زندگی کو بہتر انداز میں ترتیب دیا ہے ۔در اصل شخصیتوں کے گذرنے کے بعد ان کے کارہائے نمایاں پر مشتمل کتابیں چھپنا عام سی بات ہے اور یہ ہونا بھی چاہئے یہی کتابیں انہیں بعد ا ز مرگ زندہ رکھتی ہیں ۔اس عمل سے جہاں شخصیت کا تعارف ہوتا ہے وہاں وقت کے اہم اور تاریخی و علمی حالات و واقعات بھی سامنے آ جاتے ہیں ۔ مولانا نے کتاب کے مصنف مفتی محمدصادق مظاہری تھانوی کو مبارک باد بھی پیش کی۔ ماہ نامہ صدائے حق گنگوہ کے مدیر مفتی محمدساجدکھجناوری نے کہا کہ نمونہ کی زندگی گزارنے والے کتاب وقلم کے حامل افراد ایک ایک کرکے آخرت کو سدھاررہے ہیں جس سے ہمارا دینی وملی ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے لیکن ان اہل علم کے نقوش حیات کو زیب قرطاس کرنے والے احسان شناس ابھی موجود ہیں جن کی محنت سے ہم اپنے سلف سے وابستہ رہ سکتے ہیں، خوشی کی بات ہے کہ مفتی محمدصادق مظاہری نے اسلاف بیزاری کے حصار سے باہر نکلنے کی کوشش کی ہے۔ اس موقعہ پر معہد العلوم الاسلامیہ پلم نیر آندھراپردیش کے معتمد مولاناعبدالعلیم جنید قاسمی، الکتاب فاؤنڈیشن نوادہ کے ڈائریکٹر مولانانوشاد زبیر ملک، جامعہ صفۃ الابرار شیرپور کے ناظم مولانامحمدراحت مظاہری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ صدارت مولانا ندیم الواجدی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مفتی محمدصادق مظاہری نے انجام دئے ۔