علماے فرنگی محل پر ایک تحقیقی دستاویز ـ نورین علی حق 

 

ڈاکٹرخوشترنورانی محتاج تعارف نہیں،انھوں نے ماہنامہ جام نورجاری کیاتومذہبی صحافت میں انقلاب آگیا۔ان کے اداریوں اوررسالے کے مضامین ومقالات کابھرپورنوٹس لیا گیا۔ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں انھوں نے اپنے دائرہ کار میں تحقیق کوبھی شامل کیااورخوب اشہب قلم دوڑایا۔علامہ فضل حق خیرآبادی:چندعنوانات، تحریک جہاد اور برٹش گورنمنٹ: ایک تحقیقی مطالعہ،سرسید کے مذہبی عقائدوافکار :ایک مکالمہ،تذکرہ مشائخ رشید یہ،تذکرہ علمائے ہندوستان اوراب علماے فرنگی محل پرتحقیقی کام پیش کرکے انھوں نے محققین کی طلائی کڑی اور معتبر ناموں میں اپنانام بھی درج کرالیاہے۔

علماے فرنگی محل دراصل امام وقت حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلی کے رسالے آثارالاول من علماء فرنگی محل کی تدوین،ترجمہ اورتحشیہ کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔آثارالاول من علماء فرنگی محل صفحات کے اعتبارسے چھوٹاسارسالہ تھا،جس پرانتہائی محققانہ کام کرکے خوشترصاحب نے 478صفحات پرپھیلادیا۔پوری کتاب کاہرصفحہ لائق مطالعہ اورقابل دیدودادہے۔ نورانی صاحب کی یہ خصوصیت ہے کہ جس کام سے انھیں دلچسپی نہیں ہوتی وہ اس طرف الٹ کردیکھتے بھی نہیں اورجوکام کرناچاہتے ہیں، اس کے تمام اطراف روشن کردیتے ہیں۔بات اطراف کی آگئی ہے توعرض کرتاچلوں کہ علماے فرنگی محل کاپہلاباب اسلامیان ہندکاایک گم شدہ قائدکے عنوان سے ہے،جس میں نورانی صاحب نے کتاب کے مصنف امام وقت حضرت مولاناقیام الدین عبدالباری فرنگی محلی کی حیات وخدمات پربات کی ہے اوراس باب کے تمام اطراف کوروشن کردیاہے۔خانوادہ فرنگی محل اورمولانا عبدالباری فرنگی محلی سے واقفیت رکھنے والاکوئی بھی قاری کتاب اٹھائے گااوراس کے ذہن میں دوران مطالعہ کسی بھی طرح کاسوال یااشکال آئے گاتووہ تشنہ نہیں رہے گا، 80صفحات پرمشتمل اس باب میں صاحب کتاب کے حوالے سے تمام طرح کی باتیں کی گئی ہیں۔اس باب کے جن صفحات اورسطورپرمحقق اورمیرے مشترکہ محترم حضرات نے جواعتراضات کیے ہیں۔انہی سطورنے مجھے سب سے زیادہ سکون پہنچایاہے۔تقریباایک صدی تک خانوادۂ فرنگی محل کی نجابت، شرافت اورخاموشی کاجس طرح ناجائزفائدہ اٹھایاگیا،بلکہ انھیں متہم کرنے اور مولوی مولوی کہہ کر بونا دکھانے کی کوشش کی گئی ہے- پچھلی ایک صدی سے ایک طبقے نے اس پوری تاریخ کا ایک ہی Narrative پیش کیا ہے، جس سے نابالغ ذہنوں میں یہ بات جاگزیں ہوگئی کہ مولانا عبدالباری امام وقت نہیں بلکہ ایک دنیا دار سیاست داں تھے، جنھیں مولانا سے خطاب کرنا بھی شریعت کی توہین ہے- ایک صدی کے بعد خوشتر صاحب نے اس تاریخ کا وہ Narrative پیش کیا ہے،جو دستاویزات کی روشنی میں حقائق سے مملو ہے- ظاہرہےاس کو ہضم کرنا سب کے بس کی بات نہیں-پھر یہ کہ شعوری طور پر ایسا کرنے والوں کے ذہن میں یہ جرثومہ بھی تھا کہ اپنے عہد کے علمائے اکمل اور قائدین ملت کی ڈاؤن سائزنگ کرکے ہی ہم اپنا قد اونچا کرسکتے ہیں-انھوں نے ایسا کیا بھی- اس کام میں ان کے اندھ بھکتوں نے بھی ان کا خوب ساتھ دیا اور اب تک دے رہے ہیں،مگر تاریخی حقائق ایک دن اپنے چہرے سے نقاب الٹ ہی دیتے ہیں-

ڈاکٹرخوشترنورانی نےایک صدی کاحساب چکتا کر دیا ہے۔اس باب میں نورانی صاحب نے بہت سے بے بنیاد دعووں پربھی زبردست قدغن لگایاہے۔امیدہے کہ اس کتاب کی اشاعت کے بعدفرنگی محل کے علاوہ کسی بھی مدرسے کومنظم اور غیرمنظم طریقے سے کوئی ام المدارس بھی کہنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ڈاکٹرخوشترنورانی کایہ باب تو اس لائق ہے کہ الگ سے اسے چھاپ کرعوام میں تقسیم کیاجائے،جس سے معاصرعلماومشائخ کوبھی راہ راست مل سکے کہ اسی ہندوستان میں تقریباایک صدی قبل ایک ایساعالم دین بھی تھا،جس کے درپرگاندھی جی،سروجنی نائیڈوجیسے معتبر سیاست داں بھی حاضری دیاکرتے تھے اورہندوستان کی دیگرآبادی کوبھی معلوم ہوسکے کہ مسلمانوں کی ملک کے لیے خدمات کیارہی ہیں۔

اصل کتاب کے عربی متن کاترجمہ بھی عمدہ ہے اوراس سے زیادہ اہم کتاب کے حاشیے ہیں،جس سے قاری کوتشفی ملتی ہے۔شخصیات فرنگی محل کے تمام مآخذ تک نورانی صاحب کی رسائی ہے۔وہ کتابوں کاحوالہ بھی دیتے ہیں اورتمام کتابوں میں درج باتیں بھی درج کردیتے ہیں۔اس کتاب کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں شخصیات کے انڈیکس کے ساتھ کتابوں کاانڈیکس بھی پیش کیاگیا ہے۔کتاب کے تمام ابواب اورتمام صفحات پرنورانی صاحب کی محنت سینہ تانے کھڑی نظرآتی ہے، اسلوب تحریراس پر مستزادہے۔مجھے لگتاہے کہ خانوادۂ فرنگی محل کی حوالہ جاتی کتابوں میں بھی اس کتاب کووہی اہمیت حاصل ہوچکی ہے،جو روزروشن کوحاصل ہوتی ہے۔اس طرح کے تمام علمی خانوادوں کوڈاکٹرنورانی کاشکرگزارہوناچاہئے،جنھیں گزشتہ چھ سات دہائیوں سے بہ جبرمظلوم ومجہول بنادیاگیاہے اورڈاکٹرنورانی کے کاموں کی ستائش کرنی چاہئے۔ہندوستانی قارئین یہ کتاب مکتبہ جام نور،مٹیامحل،جامع مسجد،دہلی اورپاکستانی قارئین ورلڈویوپبلی شرز،لاہورسے حاصل کرسکتے ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*