یو ڈی ایس اتحاد ایک خوش آئند قدم ـ شمس عالم قاسمی

ان دنوں پورے بہار میں انتخاب کی آندھی بہت تیزی کے ساتھ چل رہی ہے، اگرچہ ابھی الیکشن کمیشن کی جانب سے چناؤ کی تاریخ کا آفیشیل اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم امید کی جارہی ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں بہار میں انتخاب کرایا جائے گا
جس کی تیاری میں ریاست کی تمام چھوٹی بڑی پارٹیاں لگ چکی ہیں اور ہر پارٹی زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر اپنی دعویداری پیش کر رہی ہے،
ایک طرف بہار کے سابق وزیر اعلی جیتن رام مانجھی عظیم اتحاد کو چھوڑ کر این ڈی اے میں شامل ہوچکے ہیں تو دوسری طرف رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی این ڈی اے سے الگ ہونے کا من بنا رہی ہےـ
جن ادھیکار پارٹی کے صدر راجیش رنجن عرف پپو یادو بھی اپنی پارٹی کی ترقی کیلئے خوب محنت کر رہے ہیں ـ
اسی بیچ کل(بروز سنیچر) کی شام سے یہ بہت بڑی خبر سیاسی گلیاروں میں خوب ہلچل مچائے ہوئی ہے کہ
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور سماج وادی جنتا دل کے مابین اتحاد ہو گیا ہے یعنی یہ دونوں پارٹیاں اب مل کر بہار ودھان سبھا چناؤ لڑیں گی ـ
مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی اور سماج وادی جنتا دل ڈیموکریٹک کے راہنما بہار کے معروف سیاستداں سابق مرکزی وزیر اور متعدد بار ممبر پارلیمنٹ رہ چکے ڈاکٹر دیویندر پرساد یادو نے مشترکہ کانفرنس کرکے بہار کی عوام کو یہ بڑی خبر سنائی، اس اتحاد کو یونائٹیڈ ڈیموکریٹک سیکولر الائنس کا نام دیا گیا ہے جس کا اشارہ صدر مجلس بہار اخترالایمان بارہا اپنے بیان میں کر رہے تھے ـ
یقینا یہ الائنس سیکولر لوگوں اور اقتدار میں اشتراک کی چاہت رکھنے والوں کیلئے ایک خوش آئند قدم اور امید کی کرن ہے ـ
امید ہے کہ یہ نیا اتحاد اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرے گا، دیگر سیاسی پارٹیوں کو بھی اس اتحاد میں شامل کرکے سیکولر ووٹ کی تقسیم کو روکنے کی حتی الامکان کوشش کرے گا تاکہ بہار کی سیاست میں ایک تیسرا مورچہ کھڑا ہو، بہار کی مظلوم و بے بس عوام کی آواز بن کر ان کے بنیادی ضروریات اور دیگر سہولیات کا بندوبست کرے، بہار بھی ترقی راہ پر گامزن ہو، اور اہل بہار اس اتحاد سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*