عبید صدیقی:زندگی ریت کی دیوار اٹھانے میں کٹی-معصوم مرادآبادی

وہ 9جنوری 2020کی ایک سرد ترین دوپہر تھی۔میں نئی دہلی کے آکاشوانی بھون میں برادرم نعمان شوق کے ساتھ ’رفتار زمانہ‘ کی ریکارڈنگ میں مصروف تھا۔موبائل فلائٹ موڈ پرتھا۔ایک گھنٹہ بعدجب باہر نکلا توموبائل پر برادرم قربان علی کی کئی کالیں تھیں۔میں نے فون ملا کر خیریت پوچھی تو انھوں نے رندھی ہوئی آواز میں بتایا کہ”
ہمارے مشترکہ دوست عبید صدیقی نہیں رہے۔“
میرے لئے یہ خبر اتنی غیر متوقع تھی کہ اب تک اس پر یقین نہیں آرہاہے۔ حالانکہ میں خو د سینکڑوں لوگوں کے ساتھ انھیں جامعہ قبرستان میں سپرد خاک کرکے آیا ہوں۔ یہ درست ہے کہ وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور ان کے بدن میں جدید آلات نصب تھے جو ڈاکٹروں کو ان کی اندرونی کیفیت کا پتہ دیتے تھے۔لیکن ان کی اپنی شخصیت اور مزاج میں جو طلاطم برپا تھا‘ اس کا پتہ لگانا ان آلات کے بس کا بھی روگ نہیں تھا۔
عبید صدیقی ایک بے چین روح کا نام تھا۔ وہ بہت’’زود رنج اور نازک مزاج“انسان تھے اور کہیں اطمینان سے نہیں بیٹھتے تھے۔ ان کے ساتھ دوستی نبھانا بھی آسان کام نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود وہ ہمارے اچھے دوست تھے۔ اب جبکہ وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں تو ان کی بہت سی باتیں یاد آرہی ہیں۔
ان سے اکثر ملا قاتیں ہوتی تھیں۔ابھی کچھ دن پہلے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی تھی لیکن انھوں نے ذرا بھی احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ اپنا بوریا بسترسمیٹ رہے ہیں۔ہاں ان کی طبیعت ایسی ضرور تھی کہ وہ کہیں زیادہ دنوں ٹکتے نہیں تھے۔دنیا تو ویسے بھی سرائے فانی ہے اور یہاں کسی کو زیادہ دنوں تک قرار کہاں ملتا ہے۔عبید بھائی اپنے مزاج کی نزاکتوں اور طبیعت کی پیچیدگیوں کے سبب رشتوں کوبناتے اور بگاڑتے رہتے تھے۔ بی بی سی کے ان کے پرانے ساتھی یاور عباس نے ان کی زندگی کے بارے میں کہا کہ”وہ ایک ا سکاٹش ادیب رابرٹ لوئیس اسٹیونسن کے ناول ’ڈاکٹر جیکِل اینڈ ہائیڈ‘ کے کردار کی مانند تھے جو دوہری شخصیت اور لاابالی پن کی صفات کی وجہ سے کسی بھی وقت کچھ بھی کہہ سکتے تھے۔“
مجھے یاد نہیں کہ عبید بھائی سے پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی تھی لیکن برسوں سے ہم دونو ں کے درمیان برادرانہ مراسم تھے۔ وہ مجھ سے عمر میں چار پانچ سال اور تجربے میں اس سے بھی بڑے تھے۔ لیکن انھوں نے کبھی اپنی سینئرٹی کا رعب نہیں دکھایاحالانکہ وہ پکے’علی گیرین‘ تھے اور ان کی ذہنی تربیت علی گڑھ کے مخصوص ماحول میں ہوئی تھی۔
عبید صدیقی میرٹھ کے ایک روایتی مسلم خاندان میں ضرورپیدا ہوئے تھے، مگرمذہب کے بارے میں ان کا تصور بہت دھندلا تھا۔ مگر مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ10 جنوری کی دوپہر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ان کے جنازے میں لگ بھگ ایک ہزار لوگوں کا مجمع تھا۔انھیں سپرد خاک کرنے والوں میں آل انڈیا ریڈیو، بی بی سی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ کے ساتھی موجود تھے۔ جامعہ قبرستان میں ان کی تدفین پر کچھ افسروں کواعتراض تھا کیونکہ انھوں نے اپنی معطلی کے خلاف جامعہ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ لیکن یہ اعتراض کارگر نہیں ہوسکا اوروہ اپنے دوست جاوید حبیب کے پہلو میں دفن ہوئے۔
عبید صدیقی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔انہیں اپنے عہد کے اہم ادیبوں اور شاعروں کی صحبت میسر آئی اور ان سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔ انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے سری نگر اسٹیشن سے ایک ایسے دور میں وابستگی اختیار کی جب ریڈیو کابڑا شہرہ تھا۔پھر وہ لندن جاکر بی بی سی اردو سروس سے وابستہ ہوگئے۔کوئی دس برس گذار کر جب دہلی آئے تو این ڈی ٹی وی میں چلے گئے۔ پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایم سی آرسی(ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر)میں پروفیسر ہوگئے اور بعد کو وہ اس اہم ادارے کے ڈائر یکٹر بھی بنے۔لیکن اس درمیان یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ان کا ایسا ٹکراؤ ہوا کہ بات ان کی معطلی تک جا پہنچی۔ عبید بھائی ماننے والے کہاں تھے۔ انھوں نے اپنی معطلی کو عدالت میں چیلنج ہی نہیں کیا بلکہ وائس چانسلر پر جوابی الزامات بھی لگائے۔ وائس چانسلرطلعت احمد اپنی مدت پوری کرکے واپس چلے گئے لیکن عبید بھائی کا مقدمہ ابھی عدالت میں ہی تھا کہ وہ زندگی کا مقدمہ ہی ہار گئے۔ یوں تو عبید بھائی نے اپنی زندگی میں کئی مقدمے لڑے لیکن ان کی زندگی سب سے اہم مقدمہ شعروشاعری کا مقدمہ ہے، جس کے بارے میں ان کے شاعری کے استاد شہریارؔ نے دلچسپ تبصرہ کیا ہے۔
”حقیقت چاہے جو بھی ہو شاعر اور ادیب آج بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ اپنی تخلیقات کے ذریعے اس دنیا کو بد صورت ہونے سے بچاسکتے ہیں اور سماج میں پائی جانے والی ناہمواریوں کو دور کرسکتے ہیں۔عبید صدیقی کی شاعری کا بڑا حصہ اسی خوش فہمی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔“(’رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے‘)
شاعری دراصل عبید صدیقی کی ایسی کمزوری تھی جس کو وہ نہ تو چھپانا چاہتے تھے اور نہ ہی کسی پر ظاہر کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مجموعہ کلام شاعری شروع کرنے کے پچیس برس بعد منظر عام پر آیا۔وہ علی گڑھ کی طالب علمی کے زمانے میں اپنے دور کے آزاد منش شاعروں کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ تھے۔ان میں فرحت احساس اور مہتاب حیدرنقوی تو ان کی رگ جاں کے قریب تھے۔ لندن کے قیام کے دوران افتخارعارف‘ ساقی فاروقی اور رضا علی عابدی جیسے شاعروں اور ادیبوں کی صحبت نصیب ہوئی۔ ان کی شاعری پر سب سے گہرا اثر شہریار کا تھا۔ انہوں نے شہر یار پر ایک دستاویزی فلم بھی بنائی۔ شہریار جب بھی کسی مشاعرے میں شرکت کے لئے دہلی آتے تو عبید صدیقی سائے کی طرح ان کے ساتھ رہتے تھے۔ مشاعرے میں بھی دونوں ساتھ ہی آتے تھے۔ شہریار اسٹیج پر چڑھ جاتے اور عبید بھائی سامعین اپنی جگہ سنبھال لیتے۔ یوں بھی عبید بھائی مشاعرں کے شاعر نہیں تھے۔ وہ سنجیدہ اور اچھی شاعری کرتے تھے۔ انھوں نے شاعری کو مالی منفعت کا ذریعہ کبھی نہیں بنایا اور اپنا مجموعہ کلام بھی اپنی جیب خاص سے شائع کرایا۔ 2010 میں جب ان کا مجموعہ ”رنگ ہوا میں پھیل رہاہے“ شائع ہوا تو بڑی محبت سے اس کا ایک نسخہ اپنے دستخط کے ساتھ مجھے بھیجاتھا۔
انھوں نے شاعری 1969 میں شروع کردی تھی اور ان کی پہلی غزل اسی سال ’بیسویں صدی‘ میں شائع بھی ہوئی تھی۔ عبید صدیقی کی زندگی میں 1997سے لے کر 2009تک تقریباً13 برس کا عرصہ ایسا بھی گذرا جس میں انھوں نے ایک بھی شعر نہیں کہا اور انھیں یوں محسوس ہونے لگا کہ شاید شاعری کا سوتہ خشک ہوگیاہے۔ کوشش کے باوجود ان کی طبیعت شعر گوئی کی طرف مائل نہیں ہوئی۔احباب اور بزرگوں کے پیہم اصرار کے باوجودمجموعے کی اشاعت کے لئے دل نہیں چاہتا تھا۔تخلیقی جمود کا یہ سلسلہ دسمبر 2009 میں اس وقت ٹوٹا جب یوم غالب کے ایک مشاعرے میں انھوں نے غا لبؔ کی زمین میں ایک غزل کہی۔ اس کے بعد شاعری کا سوتہ دوبارہ بہہ نکلا اور یہی ان کے مجموعے کی اشاعت کا محرک بھی بنا۔
عبیدصدیقی مغربی یو پی کے شہر میرٹھ میں 1958میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم میرٹھ کے مشہور فیض عام انٹر کالج میں ہوئی‘ جہاں سے انھوں نے بارہویں کلا س تک تعلیم حاصل کی۔مشہور شاعر حفیظ میرٹھی اسی کالج سے وابستہ تھے اور شعر وسخن کی دنیا میں ان کا سکہ چلتا تھا۔وہ شعر گوئی کے اسرار ورموز سے خوب واقف تھے۔ یہیں عبید صدیقی کو شعر گوئی کا شوق پیدا ہوا اور انھوں نے طویل عرصے تک حفیظ میرٹھی سے اصلاح لی۔کچھ عرصے بعد ان کاتعارف شہر کے ایک اور بزرگ شاعر انجم جمالی سے ہوا۔انجم جمالی شہر کے واحد شاعر تھے جو ’شب خون‘ کے خریدارتھے اور نئی شاعری کا مطالعہ کرتے تھے۔ عبید صدیقی نے ان سے ’شب خون‘ مستعار لے کر پڑھنا شروع کیا۔
ان کی شاعری میں نیا موڑ اس وقت آیا جب انھوں نے 1975 میں گریجویشن کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔وہاں ان کا قیام وقار الملک ہال میں تھا جہاں وہ ہال کی میگزین ’وقار‘کے ایڈیٹر ہوئے اور پھر آگے چل کر ’علی گڑھ میگزین‘کی ادارت سنبھالی۔علی گڑھ میں نوجوان شاعروں اور ادیبوں کا بہت بڑا حلقہ موجود تھا۔یہ نوجوان شعروادب کی دنیا میں نئے تجربے کررہے تھے اور ایک مخصوص’بوم کلب‘کے ممبر کہلاتے تھے۔ان بیدار مغز نوجوانوں میں جاوید حبیب،فرحت احساس،آشفتہ چنگیزی،مہتاب حیدر نقوی، ابوالکلام قاسمی،عقیل احمد،غضنفر علی،اسعدبدایونی،سید محمد اشرف،طارق چھتاری‘اظہارندیم، نسیم احمد،پیغام آفاقی وغیرہ شامل تھے۔مگر علی گڑھ میں عبیدصدیقی کا پہلا تعارف فرحت احساس سے ہوا۔ فرحت احساس سے دوستی ہوجانے کے بعد ہی اس حلقے کے دوسرے نوجوانوں اور شہریار تک ان کی رسائی ہوئی۔
1980میں علی گڑھ سے ایم اے کرنے کے بعد وہ دہلی آگئے اور یہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو میں بطور پی ایچ ڈی اسکالر داخلہ لیا۔ ان دنوں پروفیسر گوپی چند نارنگ صدر شعبہ تھے اور وہی ان کے نگراں مقرر ہوئے۔ انھیں میراجیؔ پر ریسرچ کرنی تھی لیکن ان کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔انھوں نے درس وتدریس کے بجائے صحافت کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ انھیں برسوں بعد یعنی 2004 میں اسی جامعہ میں درس وتدریس سے واسطہ پڑا۔
انھوں نے 1983 میں آل انڈیا ریڈیو کی ملازمت اختیار کی اورانھیں پہلی تقرری سرینگر میں ملی۔یہاں انھوں نے تقریباچھ برس گذارے‘جو ان کی پیشہ وارانہ زندگی کے لئے بہت اہمیت کے حامل تھے۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب پروفیسر آل احمد سرور کشمیر یونیورسٹی کے اقبال انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ تھے اور ممتاز شاعر مظہر امام دوردرشن سرینگر میں ڈائریکٹر تھے۔سرینگر کے قیام کے دوران عبید صدیقی کو ان دونوں بزرگوں کی سرپرستی اور رہنمائی کے علاوہ پروفیسر حامدی کا شمیری کا بھی قرب حاصل رہا‘جو اس زمانے میں شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی کے صدر تھے۔سرینگر کے قیام کے دوران انھوں نے خاصی شاعری کی جو ان کے رنگ وآہنگ اور لب و لہجے کے لحاظ سے ان کی باقی شاعری سے مختلف تھی‘ لیکن افسوس جن ڈائریوں میں یہ غزلیں لکھی ہوئی تھیں‘ وہ سری نگر سے لندن منتقل ہوتے وقت سامان میں کہیں گم ہوگئیں۔
1988 میں وہ آل انڈیا ریڈیو سے دوسال کی رخصت لے کرلندن گئے اور وہاں بی بی سی کی اردو سروس سے وابستہ ہوئے۔بی بی سی نے مزید دوسال کی توسیع کی اور جب چارسال پورے ہونے پر آل انڈیا ریڈیو نے مزید چھٹی دینے سے انکا ر کردیاتوانہوں نے آل انڈیا ریڈیو سے استعفیٰ دے کر بی بی سی کی مستقل ملازمت اختیار کرلی اور 1997 تک وہاں رہے۔بی بی سی سے ان کی رخصتی بھی خوشگوار انداز میں نہیں ہوئی۔یہ شاید ان کی زندگی کا سب سے زیادہ غلط فیصلہ تھا جس کا اعتراف انہوں نے 22 برس بعد گذشتہ سال اپنے سینئر ساتھی رضا علی عابدی سے ان الفاظ میں کیا تھا۔”عابدی صاحب!بی بی سی کو چھوڑنا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔“
رضا علی عابدی نے ان کے انتقال پر روز نامہ ’جنگ‘(17جنوری2020)میں ’ایک روشن دماغ تھا‘نہ رہا‘ کے عنوان سے جو تعزیتی مضمون قلم بند کیا ہے‘اس کا اقتباس ملاحظہ ہو:
”عبید صدیقی نے عجب مزاج پایا تھا۔ اپنی رائے قائم کرتے تھے تو اس رائے پر ڈٹ کر کھڑے ہوتے تھے۔ جو لوگ پسند تھے ان سے بہت قریب تھے لیکن جو لوگ اس سے مختلف ہوتے، ان سے فاصلہ رکھتے اور وہ بھی غضب کا فاصلہ۔ بے حد حسّاس، بہت زود رنج، نازک مزاج اور شکست تسلیم کرنے سے صاف انکار۔ بی بی سی سے خفا ہوئے تو استعفا دے مارا۔ احباب نے اور گھر والوں نے لاکھ سمجھایا، کسی کی ایک نہ سنی، ساقی فاروقی اور ارشد لطیف سے بہت قریب تھے لیکن اپنی رائے پر ان کو بھی اثر انداز نہیں ہونے دیتے تھے۔ جب نئے نئے لندن آئے تو ارشد لطیف کے ساتھ اپنے لیے مکان تلاش کرنے نکلے۔ انہوں نے مشرقی لندن کے پاکستانی علاقے میں ایک مکان دکھایا جہاں نہاری کی دیگیں کھنک رہی تھیں اور گرم جلیبیاں تلی جارہی تھیں، سخت برہم ہوئے اور بولے کہ اگر یہیں رہنا تھا تو دلّی میں کیا برے تھے۔“
رضا علی عابدی نے اس مضمون کے شروع میں لکھا ہے کہ:
”بی بی سی کی ملازمت کے دوران وہ ترقی کی راہ پر چل نکلے تھے اور انہیں اپنی لیاقت، قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر دور تک جانا تھا کہ ایک روز جی میں جانے کیا آئی کہ استعفا دیا اور واپس ہندوستان چلے گئے۔ احباب نے سمجھایا، قرابت داروں نے منایا مگر پسپا ہونا انہیں آتا ہی نہ تھا۔ مجھے یاد ہے، ان کے جانے سے پہلے ان کے احباب نے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا جس کی خاص بات یہ تھی کہ مشاعرے میں تنہا عبید پڑھیں گے۔ خدا جانے کیسا سماں بندھا تھا اور لوگوں پر کیا کیفیت طاری تھی، حاضرین نے ان کے ایک ایک مصرعے پر دل کھول کر داد دی اور تعریف و توصیف کا مسلسل اتنا شور ہوتا رہا کہ ایک بار خود عبید نے حیرت کا اظہار کیا۔ یہ شاید ان کے لیے شہر والوں کا الوداعی خراجِ تحسین تھا۔“
بی بی سی کے مشہور ومعروف براڈ کاسٹر رضاعلی عابدی نے عبید صدیقی کی زود رنجی کی طرف جو اشارہ کیاہے، اس نے لندن میں ہی نہیں یہاں ہندوستان میں بھی ان کے دوستوں کو خوب ستایا، لیکن اس کے باوجود وہ یاروں کے یار تھے اور جن سے ان کی نبھتی تھی ان پر جان بھی خوب نچھاور کرتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ ان کی زود رنجی نے دوسروں سے کہیں زیادہ خود انھیں ہی ستایا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے دو شادیاں کیں لیکن دونوں کا انجام علیحدگی پر ہوا۔ دونوں بیویوں سے دو اولادیں بھی ہوئیں۔ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔
لندن کے قیام کے دوران عبید صدیقی نے مغربی معاشرے‘ تہذیب وتمدن اور سیاست کو بہت قریب سے دیکھا اور سمجھا‘ جس کے نتیجے میں مغرب کے بارے میں ان کا زاویہ نگاہ تبدیل ہوا اور بقول خود ایسی بہت سی غلط فہمیاں دور ہوئیں جو مغربی معاشرے کے بارے میں لا علمی کی بنا پرہمارے یہاں عام ہیں۔ بی بی سی میں انھیں رضاعلی عابدی کے علاوہ جن لوگوں کی صحبت ملی ان میں اطہرعلی،وقار احمد،آصف جیلانی، سارہ نقوی،شاہد ملک،ثریا شہاب،شفیع نقی جامعی‘ عارف وقار، یاور عباس اور راشد اشرف شامل ہیں۔ان دنوں لندن میں اردو مرکز کی وجہ سے جس کے سربراہ افتخارعارف تھے، بڑی ادبی چہل پہل رہتی تھی اور آئے دن ادبی جلسے اور مشاعرے ہوتے تھے۔ لندن کی ادبی زندگی جن لوگوں کی موجودگی سے عبارت تھی، ان میں ساقی فاروقی،صدیقہ شبنم،جتیندر بلو،مصطفی علی خاں شہاب،محسنہ جیلانی اور ارشد لطیف کے نام قابل ذکر ہیں۔
عبیدصدیقی نے اپنی شاعری کے بارے میں اپنے مجموعہ کے آغاز میں ’کیا سنے کوئی میری، میں لکھا ہے:
”اپنی شاعری کے بارے میں کسی خوش فہمی(یا غلط فہمی)میں مبتلا نہیں ہوں۔گذشتہ بارہ تیرہ برس کے دوران بھلے ہی شاعری نہ کی ہولیکن شاعری، بالخصوص آزادی کے بعدکی جانے والی غزلیہ شاعری کا مطالعہ بدستور جاری رکھا۔ شاعری کا ایک سنجیدہ قاری ہونے کے ناطے یہ بات شدت کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ ہمارے عہد کے کسی بھی شاعر کے لئے اردو غزل کی تاریخ میں اپنی کوئی مخصوص جگہ بنانااگر ناممکن نہیں تو حددرجہ دشوار ضرور ہے۔میں شعر کہتے وقت دو باتوں کا خاص طور پرخیال رکھتا ہوں۔ اول یہ کہ میرا کہا ہوا ہر شعر میرا اپنا ہو اور اس میں میری شخصیت کا عکس نظرآئے، جبکہ دوسری کو شش یہ ہوتی ہے کہ میرے اشعار سنتے یا پڑھتے وقت کسی کو اکتاہٹ اور بیزاری محسوس نہ ہو۔“
(’رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے‘ صفحہ21)
یہ ایک ایسے شاعر کا اعتراف ہے جس نے اپنا شعری سفر شہریار، افتخار عارف،ساقی فاروقی، مظہر امام، محمود ہاشمی اور فرحت احساس جیسے شاعروں کے ساتھ طے کیاتھا۔ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو صرف ان ہی نسبتوں کے حوالے سے ایسی لن ترانیاں کرتا کہ عقل حیران رہ جاتی،لیکن عبید صدیقی اپن تمام تر سرکشی کے باوجود جب میر وغالب کی قلمرو میں داخل ہوئے تو ان کا سر جھکا ہوا تھا اور یہی بات ان کے سچے فن کار ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ ان کے مجموعے ”رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے“ کے دیباچے میں خود فرحت احساس نے ”دیکھو کیسا پھول کھلا ہے“ کے عنوان سے جو کچھ لکھا ہے، وہ عبید صدیقی کی شعری کائنات کو سمجھنے کے لئے کافی سے زیادہ ہے۔وہ لکھتے ہیں۔
”علی گڑھ کی سنہری 1970کی دہائی کا آخری باضابطہ مفرور شاعر بھی بالآخر پکڑا گیا اور اس کا سارا مال ’رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے‘ کی صورت میں برآمد کرلیا گیا۔ 1970کے اوائل میں، مسلم یونیورسٹی میں تخلیقیت کا جو حلقہ نورپیدا ہوا تھا، عبید خواب گزینوں اور ماورا نصیبوں کے اُس حلقے کے ایک لازمی جز تھے، لیکن کچھ اس طرح کہ ان کی آنکھ باہر کی طرف بھی کھلی رہتی تھی۔ یہی چشم بیروں بیں آگے چل کر ان کا ایک بڑا اثاثہ ثابت ہوئی۔ ایک دریچہ جس نے انھیں خارجی دنیا کی بنتی بگڑتی شکلوں کے درمیان، باطن میں موجود اُن کے اصل عکس کی بنیاد پر، ایک نئی ترتیب پیدا کرنے کی راہ دکھائی۔عبید کے ہاں اُن دنوں ایک خاص قسم کی تیزی و تندی اور شعلگی ہوا کرتی تھی جو شاید ان کے خاندانی پس منظراور ان کے خلقی عناصر کی عطا تھی۔ یہ شعلگی آج بھی برقرار ہے، مگر اب آگ میں روشنی کا عنصر زیادہ ہوگیاہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور وجودی قدر، جو عبید سے خاص ہے، ان کی مفاہمت نا آشنا صداقت مزاجی اور صداقت طلبی ہے جس نے انھیں اس دنیا میں رہتے بستے اور اسے اختیار کرتے ہوئے اس سے دور رہنے اور اس پر حملہ زن ہونے کی طاقت دی ہے۔لیکن اس سب سے بڑھ کروہ دریائے افسردگی بھی ان میں سے ہوکر بہتا ہے جو اُس پورے حلقے کی جائے پیدائش رہا ہے،دریائے افسردگی جو وجود کے خاکی کناروں کو سیراب کرتا ہے اور انھیں بہا بھی لے جاتا ہے۔“
(’رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے‘ صفحہ213)
فرحت احساس کے اس بیان سے جہاں عبید صدیقی کے تخلیقی رویوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے تو وہیں ان کے مزاج کی حملہ زنی کا اشارہ بھی ملتاہے۔خود عبید صدیقی نے لکھا ہے کہ فرحت احساس کوان کی ادبی اور جذباتی زندگی میں جو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اس کا اظہار الفاظ میں کرنا مشکل ہے۔ اب آخر میں عبید صدیقی کے وہ اشعار جو فرحت احساس کو بھی بہت پسند ہیں۔ملاحظہ کیجئے۔
کارِدنیا کے تقاضوں کو نبھانے میں کٹی
زندگی ریت کی دیوار اٹھانے میں کٹی
تشنگی وہ تھی کوئی کارِ وفا ہونہ سکا
عمر بے مایہ فقط پیاس بجھانے میں کٹی
ایک انگشت شہادت کہ ابھی باقی تھی
وہ بھی اس بار تری سمت اٹھانے میں کٹی
…….
ہمیں کچھ اور جینا ہے تو دل کو شاد رکھیں گے
بہت کچھ بھول جائیں گے بہت کچھ یاد رکھیں گے
ہمیں کچھ اور کرتب دیکھنے بھی ہیں اور دکھانے بھی
تماشہ گاہِ عالم ہم تجھے آباد رکھیں گے
…….
یہ شاخیں پھر بھی کیا ایسی لگیں گی
پرندوں کواُڑاکر دیکھتے ہیں
…….
ایسا نہیں کہ اس نے لبھایا نہیں مجھے
دنیا پہ اعتبار ہی آیا نہیں مجھے