عبید صدیقی:اچانک اٹھے اور جانے لگے ـ مالک اشتر

پچھلے برس آج ہی کا دن تھا۔ سردی کی وجہ سے وہ صبح پہلے ہی کافی اداس اور خاموش تھی۔ پونے آٹھ بجے کا وقت رہا ہوگا جب پروفیسر عبید صدیقی کی فیس بک وال پر ایک چھوٹا سا پیغام شیئر ہوا۔ عبید صاحب سوشل میڈیا پر بہت سرگرم رہتے تھے لیکن پچھلے لگ بھگ ایک ماہ سے ان کی ٹائم لائن خاموش تھی۔ اب جو اتنے دن بعد ان کی ٹائم لائن پر پوسٹ دیکھی تو سب ذرا سا چونکے۔ پانچ سطروں کا پیغام تھا:
Dear all,
This is Sauban Siddiqui,brother of obaid siddiqui, and i am sharing with you about his present medical conditions.He is in coma right now.We request you to pray for him.I will keep you updated. Thank you
سب کے دل دھک سے ہوکر رہ گئے۔ شام ہونے سے پہلے پہلے خبر آ گئی کہ عبید صاحب انتقال کر گئے ہیں۔ اپنے رعب اور بھاری بھرکم آواز کی وجہ سے ہر محفل میں الگ نظر آ جانے والا شخص بڑی خاموشی سے چلا گیا تھا۔ کچھ مہینے پہلے جب عبید صاحب نے اپنی وال پر یہ شعر:
میں رونا چاہتا ہوں، خوب رونا چاہتا ہوں میں
پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں
شیئر کیا تھا تو کس نے سوچا ہوگا کہ کچھ ہی دنوں بعد عبید صاحب ابدی نیند سو جائیں گے؟ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے عبید صاحب کا طویل تعلق رہا۔ اپنی یونیورسٹی سے ان کو ایسی محبت ہوئی کہ مرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے اس قبرستان میں سلا دیے گئے جو جامعہ سے ایکدم متصل ہے۔
عبید صاحب سے میرے دو تعلق رہے، ایک تو یہ کہ جس وقت میں نے جامعہ کے ماس کمیونیکیشن ریسرچ سینٹر میں پڑھائی کی تب وہ وہاں کے ڈائریکٹر تھے۔ دوسرا یہ کہ وہ بہت اچھے شاعر تھے اور اچھی شاعری میری سب سے بڑی کمزوری رہی ہے۔ پہلے تعلق کا قصہ یوں ہے کہ میں نے ان کا نام ہی نام سنا تھا لیکن ملا کبھی نہیں تھا۔ ماس کمیونیکیشن ریسرچ سینٹر میں داخلے کے انٹرویو والے دن انہیں پہلی بار دیکھا۔ بھاری بھرکم جسم، چہرے پر سختی اور گونج دار آواز۔ اس دن زیادہ تر سوالات انٹرویو پینل کے دوسرے ممبران نے کئے۔ عبید صاحب نے بھی سوال کیا، پوچھا کہ آپ اس کورس میں داخلہ کیوں چاہتے ہیں؟ میں نے نپے تلے الفاظ میں اپنی بات کہنے کی کوشش کی۔ عبید صاحب نے میری بات ختم ہونے پر صرف گردن ہلائی، ان کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل تھا کہ میرا جواب انہیں کیسا لگا؟۔ داخلہ امتحان کا نتیجہ آیا تو میرا انتخاب ہو گیا تھا۔
عبید صاحب بڑے سخت منتظم مانے جاتے تھے۔ مزاج ایسا کہ آپ کبھی اندازہ نہی لگا سکتے کہ آپ کی بات کے جواب میں وہ مسکرائیں گے یا ڈپٹ دیں گے؟ اس برتاؤ کے لوگ اپنے اپنے مطلب نکالا کرتے تھے۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ یہ ان کی صاف گوئی تھی تو کچھ اسے احساس برتری سمجھا کرتے۔ عبید صاحب جتنے دن وہاں رہے اپنے اس برتاؤ سے پیچھے نہی ہٹے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا یہ مزاج ان کے اور لوگوں کے درمیان ایک رکاوٹ بنا رہا اور لوگ نہیں جان سکے کہ اس روکھی شخصیت کے سینہ میں ایک نازک سا دل بھی ہے۔ میں نے ان کے اس دل کو ان کی شاعری میں پایا۔
شاعر عبید صاحب کو دیکھ کر یقین کرنا مشکل ہوتا تھا کہ یہی وہ عبید صاحب ہیں جو بہت ہی کھردرے مزاج کے ہیں۔ یہی ان کی سرد و گرم مزاج کی شخصیت تھی جس کی جھلک بہت سے مواقع پر دیکھنے کو مل جایا کرتی۔ وہ ان میں سے نہیں تھے کہ آپ کو اُن کے بارے میں کچھ ‘پِری ڈِکٹ’ کرنے دیں۔
میں نے اس دور میں جتنی بار بھی انہیں بولتے ہوئے دیکھا تو پایا کہ وہ بھول کر بھی ہندی/اردو میں بیان نہیں دیتے تھے۔ ایسے میں کون کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص اردو کا ایک اچھا شاعر ہی نہیں بلکہ بڑی شگفتہ نثر بھی لکھا کرتا ہے۔
سخت گیر طبیعت والے عبید صاحب کی نازک اور جذباتی طبیعت کا ایک قصہ اور سن لیجیے۔ جب ان کا شعری مجموعہ ‘رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے’ شائع ہونے کو تھا تو وہ ارادہ کئے ہوئے تھے کہ اشاعت کے بعد اس کی پہلی کاپی اپنی والدہ کی نذر کریں گے۔ بدقسمتی دیکھئے کہ کتاب پریس میں گئی بھی نہیں تھی کہ والدہ راہئ ملک عدم ہو گئیں۔ اس بات سے عبید صاحب کا دل کتنا گھائل ہوا اس کا اندازہ ان کے کچھ اشعار پڑھ کر ہو جاتا ہے، جو انہوں نے اپنی مرحوم والدہ کے لئے کہے:
دِکھانا تھا یہ دل دِکھایا نہیں
کہ تم سو گئے تھے جگایا نہیں
بہت دیر تک سامنے میں رہا
مگر پاس تم نے بلایا نہیں
پرانی کوئی بات پوچھی نہیں
نیا کوئی قصہ سنایا نہیں
بہت آج آنکھوں کو دقت ہوئی
کبھی تم نے رونا سکھایا نہیں
عبید صاحب کی زندگی میں بڑے نشیب و فراز رہے۔ ان کو کئی ایسے حوادث کا سامنا ہوا جن سے گذرنا کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔ البتہ ان کی شخصیت ایسی تھی کہ تھپیڑوں کا اثر ان کے چہرے سے کبھی ظاہر نہیں ہوا۔ کبھی کبھی وہ ایسے شعر ضرور شیئر کر دیا کرتے جن کو پڑھ ان کے من کی بپتا سمجھی جا سکتی تھی:
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا
عبید صاحب اگر اپنی پسند اور شرائط پر زندگی گذارتے تھے تو ان میں اس کی قیمت ادا کرنے کا حوصلہ بھی تھا۔آخر دم تک وہ قیمت چکانے کے اسی عذاب سے گذرتے رہے۔ ان کے دو اشعار نہ جانے کیوں ان کا ذاتی تجربہ محسوس ہوتے ہیں:
کار دنیا کے تقاضوں کو نبھانے میں کٹی
زندگی ریت کی دیوار اٹھانے میں کٹی
تشنگی وہ تھی کوئی کار وفا ہو نہ سکا
عمر بے مایہ فقط پیاس بجھانے میں کٹی