طیب جی کنبہ اور اردو – تلخیص و ترجمہ: پروفیسر محمد سجاد

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ

2002ء میں روم یونی ورسٹی کی اسکالر میرین کرلٹزکی نے اس موضوع پر ایک تحقیقی مضمون شائع کیا۔ اسی کا خلاصہ پیش ہے:

طیب جی کنبہ کے بانی، بھوئیمی طیب علی اٹھارہویں صدی کے دوسرے نصف میں گجرات کے کیمبے سے بمبئ ہجرت کر گئے۔ یہ اسماعیلی شیعہ مسلک کے سلیمانی بوہرہ طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ بہت پہلے ہندو سے مسلمان ہوئے تھے، اور گجراتی بولتے تھے۔ پارسی اور یورپی تاجروں کے ساتھ تجارت کے نتیجے میں انیسویں صدی کے نصف اوّل میں یہ کنبہ کافی امیر ہو گیا۔1859ء کے بعد اس کنبے نے اچانک اردو کو اپنی زبان اختیار کرنے کا ایک واضح اور شعوری فیصلہ لیا۔ ممکن ہے کہ یہ فیصلہ انہوں نے اس لئے لیا ہو کہ شمالی ہند میں یہی زبان ان کی تجارت میں معاون رہی ہوگی یا شمالی ہند کے مسلمانوں کے درمیان رتبہ اور وقار پانے کا ذریعہ رہی ہوگی۔ یہ وہ دور تھا جب پرنٹنگ ٹکنالوجی کا عروج ہو رہا تھا اور اردو میں رسائل و جرائد کی معرفت شمالی ہند کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے اور جدید کاری کا کام شروع ہو رہا تھا۔
بدرالدین طیب جی (1844-1906) اور قمرالدین طیب جی (1836-1889) دونوں بھائی قانون کی اعلی ڈگری حاصل کر چکے تھے اور سیاسی و سماجی اصلاح کا کام شروع کر چکے تھے۔ بمبئی میں انجمن اسلام کی بنیاد ڈالی جا چکی تھی۔ وہ لوگ اردو کو مسلمانوں کے اتحاد اور مسلمانوں کا راہ نما بننے کے لئے لازمی سمجھتے تھے۔ شمالی ہند کے کوئی خان بہادر حیدر قاسم نے ٹائمس آف انڈیا میں خط لکھ کر طیب جی کے تئیں حقارت کا اظہار کیا تھا۔ ان کی خاندانی ڈائری (جسے وہ لوگ ‘اخبار’ کہتے تھے) میں سنہ 1865ء میں ایک اندراج ہے جس میں اپنے کنبے کو دہلی اور لکھنؤ والی معیاری اردو بولنے کی ترغیب دیتے ہیں اور اس زبان کو ‘ہندوستانی’ کہا ہے۔ 1882ء کی ایجوکیشن کمیشن کے سامنے یہ بیان دیا تھا کہ مسلمانوں کو اردو میڈیم اسکولوں کی معرفت انگریزی زبان سے واقف کرایا جائے۔

 

1876ء میں طیب جی کی انجمن اسلام نے جو اسکول قائم کئے وہ اردو میڈیم ہی تھے۔ تب تک اردو ناگری قضیہ اپنے عروج پر آچکا تھا۔ 1859ء کے بعد اس کنبے کے صرف ایک فرد حرمت طیب علی کی ماں نے اردو نہیں اپنایا تھا اور سلیمہ طیب جی کا ایک خط (بنام ان کے شوہر، فیض طیب جی، بتاریخ 26 نومبر 1900ء) گجراتی میں ہے۔ طیب علی نے خود ایک کتاب گجراتی میں لکھی تھی، لیکن اس کا رسم خط عربی ہے۔ سلیمانی بوہرہ آپس میں گجراتی ہی بولتے تھے، لیکن جلد ہی وہ لوگ اردو اپنا چکے تھے۔ سماجی سرگرمیوں اور رتبے کے لئے انگریزی ضروری تھی ، اس لئے ان لوگوں نے یہ زبان بھی خوب سیکھی۔ سلیمہ طیب جی جب 1937ء میں کونسل کی ممبر ہو گئی تھیں، تب تک ان کی انگریزی کافی بہتر ہو چکی تھی۔
بدرالدین طیب جی کے انتقال کے بعد عباس طیب جی (1854-1936) ہی اہم فرد تھے۔ گیارہ سال تک انگلینڈ میں رہ کر یہ خاصے فرنگی ہو چکے تھے۔ جلیان والا باغ حادثے کے بعد وہ گاندھی جی کے خاص معتقد بن گئے۔ عباس طیب جی نے یوں تو اپنی جیل ڈائری (1930ء) انگریزی میں لکھی اور انگریزی اخبار ہی پڑھتے رہے، لیکن نجی خطوط میں وہ اردو کو انگریزی کے مقابلے برتر زبان گردانتے تھے۔ ان کی بیگم امینہ طیب جی بھی کچھ اس طرح کی باتیں اپنے خطوط میں لکھتی ہیں۔ امینہ نے ایک خط میں انگریزی کو کافروں کی وحشی زبان کہا ہے اور اردو کو انگریزوں سے ملک کی آزادی،سوراج حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ قید کے زمانے میں عباس طیب جی نے شبلی کی سیرت النبی کا ہندی ترجمہ بھی کیا۔ ان کی بیٹی ریحانہ طیب جی (1900-1975) نے ہندی سیکھی اور دونوں باپ بیٹی نے گاندھی جی کو اردو سکھایا۔ (یہ معروف تاریخ داں عرفان حبیب کی خالہ تھیں)۔ ریحانہ نے رام اور کرشن پر کتابیں بھی لکھیں، جن کا جرمن ترجمہ بھی دستیاب ہے۔

 

اس کنبے کی ایک شاخ اکبر حیدری (وزیر اعظم، ریاست حیدر آباد) سے تعلق رکھتی ہے، اور ان کے ازدواجی رشتے بلگرامی کنبے سے قائم ہوئے۔ اس طرح یہ شاخ اردو سے منسلک ہوگئی۔ حیدرآباد ایجوکیشنل کانفرنس کا 1915ء میں جو افتتاحی جلسہ ہوا، اس کی صدارت، اکبر حیدری نے ہی کی۔ اس کا مقصد تھا اردو یونیورسٹی قائم کرنا۔ ان خواص کے درمیان اردو کو انگریزی سے کم تر نہ سمجھا جانا لازمی تھا۔ اسی لئے رابندر ناتھ ٹیگور نے بھی عثمانیہ یونی ورسٹی کے قیام کو، برطانوی راج سے روحانی decolonization کا ذریعہ قرار دیا۔
ان کے بعد ایک اہم فرد اس کنبے کی عطیہ فیضی (1876-1967) تھیں جو اردو جریدہ تہذیب نسواں میں بھی مضامین لکھتی رہتی تھیں۔ اپنا سفر نامۂ یورپ بھی اسی جریدہ میں شائع کیا۔ عطیہ کی دوستی اقبال سے تھی اور شمالی ہند کے اردو خواص سے ربط قائم رہا۔
تقسیم کے بعد طیب جی کنبہ کا بھارت میں بچا ہوا حصہ رفتہ رفتہ اردو سے دور ہوتا چلا گیا۔ عباس طیب جی کے پوتا حسین بدرالدین طیب جی، آئی سی ایس (وائس چانسلر، علی گڑھ یونی ورسٹی) نے اپنی آپ بیتی میں اس کا اعتراف کیا ہے۔ بڑودہ اور بمبئی میں بسے اس کنبے کے افراد اب انگریزی زبان تک ہی محدود ہیں۔ گجراتی، مراٹھی، اردو، ہندی، وغیرہ سے بھی تعلق برائے نام ہی ہے۔ یہاں تک کہ اب تو انجمن اسلام سے بھی اس کنبے کا تعلق تقریباً منقطع ہو چکا ہے۔ حسین بدرالدین طیب جی نے تو 1977ء میں شائع اپنے ایک مضمون میں اردو کی تقریباً مخالفت کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مسلم سیاسی لیڈرشپ نے سیاسی مفاد میں اردو کو مذہبی رتبہ دلا دیا ہے۔ حالاں کہ اسی کنبے کے، شمالی ہند میں بسے دانیال لطیفی (1917-2000،جو کہ کمیونسٹ بھی تھے) نے اپنے ایک مضمون (ای پی ڈبلیو، 29 مئی 1999) میں اردو کی پرزور حمایت کی ہے۔
اس سلسلے میں ایک اور بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ طیب جی کنبے کی بمبئی میں بسی آبادی میں سے بیش تر نے سینٹ زیوئرس کالج، بمبئی اور برطانیہ سے تعلیم حاصل کی۔ اردو سیکھنے کے لئے ابتدائی سطح کی ہی تعلیم حاصل کی، وہ بھی انجمن اسلام کے اسکولوں سے نہیں۔
بہ حیثیت مجموعی تجارتی، پیشہ وارانہ، سیاسی و دیگر پبلک سرگرمیوں اور مفادات کے لئے اردو کا استعمال کیا۔ آزادی کے بعد اس کنبے کے جو لوگ شمالی ہند اور حیدرآباد میں تھے، انہوں نے تو اردو سے رجوع کیا، ورنہ اردو کو تقریباً ترک ہی کر دیا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*