ٹویٹر پرکارروائی عوام کی آوازدبانے کی کوشش،لالو خاندان نے مرکز کی سخت تنقید کی

دہلی:لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ نے دہلی اور گروگرام آفس پر ٹویٹر پر چھاپوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آمریت میں ڈوبی ہوئی حکومت،گودی میڈیا اس کے ہاتھوں فروخت کی جارہی ہے۔دہلی اور گروگرام کے دفتر میں لوگوں کی آواز دبانے کے لیے ٹویٹر پر چھاپہ مارا گیاہے۔لالو کے بیٹے اور قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے بھی ٹویٹر پر اس کارروائی کو غلط قرار دیا ہے۔اکھلیش یادونے بھی کہاہے کہ یہ عوام کی آوازدبانے کی کوشش ہے ۔روہنی آچاریہ نے کچھ دن پہلے سابق نائب وزیراعلیٰ اور بی جے پی کے سینئر رہنما سشیل مودی کے خلاف متعدد پوسٹیں کیں۔ اس کے بعد سشیل مودی نے روہنی آچاریہ سے ٹویٹر پر شکایت کی۔ ٹویٹر نے سشیل مودی کو اطلاع بھیجی کہ ہم نے اکاؤنٹ کو لاک کردیاہے۔ لیکن 10-12 گھنٹوں کے بعد روہنی آچاریہ ٹویٹر پر سرگرم ہوگئیں اور سشیل مودی کے خلاف ٹویٹ کرنا شروع کردیں۔ روہنی نے یہ بھی لکھاہے کہ یہاں میں ایک بار پھر آئی ہوں۔بہارکے لوگوں کی آواز بن کر ۔ بہت سارے سیاسی کارکن ٹویٹر کے دہلی اور گروگرام آفس پر چھاپے کوسشیل کمار مودی اور روہنی اچاریہ کے درمیان سوشل میڈیا جنگ سے جوڑ رہے ہیں۔ روہنی نے نریندر مودی پر بھی بہت سے ٹویٹس کی ہیں۔