ٹوئٹر نے نئے آئی ٹی قوانین کے تحت 133 پوسٹوں پر کی کاروائی ، 18 ہزار اکاؤنٹس کیے معطل

نئی دہلی: ٹویٹر نے ونے پرکاش کو ہندوستان کے لئے مقیم شکایات افسر منتخب کیا ہے۔ اس کی اطلاع کمپنی کی ویب سائٹ پر دی گئی ہے۔ہندوستان میں انفارمیشن ٹکنالوجی (آئی ٹی) کے قواعد کی تعمیل میں ناکام رہنے پر ٹوئٹر مستقل تنازعہ کا شکار تھا۔ اس کے ساتھ کمپنی نے 26 مئی 2021 سے 25 جون 2021 تک اپنی تعمیل رپورٹ بھی شائع کی ہے۔ آئی ٹی کے نئے قواعد کے تحت یہ اس کی لزومیت اور بھی اہم ہوگئی ہے۔ مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کا دعویٰ ہے کہ اس نے ہراساں کرنے سے لے کر رازداری کی خلاف ورزیوں تک کی 133 پوسٹوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ بچوں سے جنسی زیادتی اور غیر متفقہ فحاشی کی وجہ سے ٹویٹر نے 18000 سے زیادہ اکاؤنٹس معطل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق مذکورہ اعدادوشمار کے علاوہ ہم نے 56 شکایات پر بھی عمل کیا ہے ،جن میں ٹوئٹر اکاؤنٹس کو معطل کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ ان سب شکایات کا ازالہ کیا گیا اور مناسب جواب دیا گیا۔ ہم نے صورتحال کے مطابق 7 اکاؤنٹس کی معطلی کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ،لیکن دوسرے اکاؤنٹس ابھی بھی معطل ہیں۔اس رپورٹ میں 25 مئی سے 26 جون تک کی مدت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ٹویٹر فیس بک اور گوگل کے بعد تیسری بڑی سوشل میڈیا فرم بن گیا ہے ، جس نے نئے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ اس کے علاوہ ٹوئٹر نے کہا کہ اس نے بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کیخلاف 18385 اکاؤنٹ اور دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے 4179 اکاؤنٹس معطل کردیے ہیں۔اس سے قبل ٹوئٹر نے دھرمیندر چتور کو آئی ٹی ضوابط کے تحت ہندوستان  کےلیے  اپنا عبوری رہائشی شکایات افسر مقرر کیا تھا۔ چتور نے گذشتہ ماہ استعفیٰ دے دیا تھا۔ خیال رہے کہ ہندوستان میں ٹوئٹر کے تقریبا 1.75 کروڑ صارفین ہیں۔ ٹویٹر کا حکومت ہند کے ساتھ سوشل میڈیا کے نئے قواعد کے بارے میں تنازعہ چل رہا ہے۔