ایک ہندوستانی مسلمان وائس چانسلر کا ٹوئیٹ اور مسلمانوں کا روشن مستقبل – ابو مصلح

پچھلے دنوں، نلسار یونیورسٹی آف لا حیدرآباد کے وائس چانسلر، پروفیسر فیضان مصطفے کا تین سال پرانا ٹوئیٹ اچانک پھر سے وائرل ہو گیا۔ اس ٹوئیٹ میں فیضان مصطفے صاحب نے ہندو رشی منو کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ میں نصب قد آدم مورتی کے قدموں میں کھڑے ہو کر ان کی تصویر بھی ہے۔
منو اسمرتی دوسری صدی قبل مسیح کی ایک قدیم سنسکرت ٹکسٹ مانی جاتی ہے۔ یہ، اونچی ذات کے ہندوؤں کے لئے ایک اخلاقی، مذہبی، قانونی کتاب مانی جاتی ہے۔ سنہ1776 میں ولیم جونس نے اس کا انگریزی میں ترجمہ کروایا تھا، تاکہ ہندو معاشرے کو سمجھ کر حکمرانی کی جا سکے۔
عام طور سے اس کتاب کو دلتوں اور عورتوں کا شدید مخالف تصور کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ڈاکٹر امبیڈکر نے 25 دسمبر 1927 کو اس کتاب کو کھلے عام نذر آتش کیا تھا۔ اور اس تاریخ کو “منو اسمرتی دہن دیوس” کے طور پر منایا جاتا ہے۔
قانون کے پروفیسر فیضان مصطفے اور قانونی تعلٰیم کے لئے مختص نہایت ہی با وقار یونی ورسٹی، نلسار، حیدرآباد، کے وائس چانسلر کو منو کی اس تصنیف اور اس سے منسلک ایسی regressivism کی جانکاری نہ ہو، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔
اب اپنے اس ٹوئیٹ کے لئےتنازعوں میں گھر جانے کے بعد انہوں نے ایک “وضاحتی” یا تردیدی ٹوئیٹ بھی کیا ہے۔ اس مبینہ تردیدی ٹوئیٹ میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ ان کے پرانے ٹوئیٹ کی غلط توضیح کی گئی ہے، انہوں نے تو منو کی مورتی کے ہائی کورٹ میں نصب ہونے پر حیرت و استعجاب کا اظہار کیا تھا۔
اب کوئی اس قانون داں پروفیسر، وائس چانسلر  اور کالم نگار سے یہ پوچھے کہ اظہار عقیدت کے دفاع میں بھی انہیں کچھ کہنا ہے، یا نہیں؟ کیا ہم مسلمانوں کو یہ انگریزی کالم نگار نرے احمق اور کور مغز سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے؟ کیا لبرل سیکولر میڈیا کے ہیرو رویش کمار صاحب، چند سوالات کی فہرست لے کر فیضان صاحب کے ساتھ ایک پروگرام نہیں کر سکتے؟ کیا رویش کمار کا کام صرف مسلمانوں کو ہندوتو اور مودی کے خلاف اکسانا رہ گیا ہے؟ کیا رویش کمار خود فیضان مصطفے صاحب کے ساتھ گودی میڈیا والا برتاؤ نہیں کرتے؟ جہاں فیضان بولتے جائیں گے، لیکن رویش ان سے ایک بھی سوال ایسی نوعیت کا نہیں کریں گے جس میں فیضان صاحب کی ذمے داری طے ہو۔ کیا مسلم دانشوروں اور رہنماؤں کی ذمے داری نہیں طے کروانے والی صحافت ہی کو سیکولرزم کہتے ہیں؟ کیا سیکولرزم کا مفہوم و مقصد صرف یہ ہے کہ ہندوتو اور مودی کی مذمت کرو اور اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں؟
ابھی حال ہی میں کانگریس رہنما سلمان خورشید کی ایک کتاب ریلیز ہوئی۔ ایودھیا سے متعلق  اس کتاب کے چند صفحات میں فیضان صاحب کی بابت اہم باتیں لکھی گئیں ہیں۔ ہم اردو حلقے کی  محدود جانکاری کے مطابق فیضان صاحب نے اب تک کسی معیاری و معتبر پبلیکیشن ہاؤس سے کوئی معرکةالآرا کتاب تو نہیں لکھی ہے، لیکن کالم نگاری میں ید طولی رکھتے ہیں۔ ہزار صفحات پر مشتمل کوئی فیصلہ عدالت نے اپلوڈ کیا اور کچھ گھنٹوں کے اندر ان کی کمینٹری کسی معتبر انگریزی اخبار میں شائع ہو چکی ہوتی ہے۔  ایسی جناتی و خداداد صلاحیت پر انہیں الف مبروک۔ ایسے ہی ذہین لوگوں کو لازمی طور پر مسلم یونی ورسٹی کا وائس چانسلر ہونا چاہیے۔

جولائی 2021 کی 4 تاریخ کو آر ایس ایس کی تنظیم، راشٹریہ مسلم منچ کی جانب سے غازی آباد میں مسلمانوں سے ایک خطاب کیا گیا تھا۔ خطیب تھے عالی جناب موہن بھاگوت، جو آر ایس ایس کے سر براہ ہیں۔ اس محفل نے خواجہ افتخار کی ایک کتاب بھی ریلیز کی۔ خواجہ صاحب کبھی علی گڑھ کے سینئر سکنڈری اسکول کے پرنسپل بھی رہ چکے ہیں اور تبھی وہ "باجپائی حمایت کمیٹی” کے بھی رکن تھے اور لوک سبھا چناؤ 2004 میں بی جے پی کے لئے ووٹ مانگ چکے ہیں۔
بہر کیف، بھاگوت نے اس مجلس سے خطاب کرتے ہوئے دیگر باتوں کے علاوہ لنچنگ پر بھی کچھ فرمایا لیکن حکومت اور لنچنگ کا نیک کام انجام دینے والے ارکان کی کوئی بھی ذمے داری طے کرنے سے گریز اور پرہیز کیا۔ فیضان صاحب نے 6 جولائی 2021 کے انڈین ایکسپریس میں ایک کالم لکھا اور بھاگوت کی مدح سرائی کی۔ منصب براری کی اس مقابلہ جاتی کالم نگاری میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے بھی 13 جولائی کے دی ہندو میں ایک کالم دے مارا۔ پھر ان کے صاحب زادے محمد ناصر نے بھی 15 جولائی کے ہندوستان ٹائمز میں ایک کالم دے مارا۔ (اس ضمن میں فی الوقت ہم ولئ عہد محمد ناصرکے دیگر کالموں کا ذکر التوا میں رکھتے ہیں)
اس پر ہم جاہل مسلمان کیا کرتے؟ ہم نے بھی بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگایا ،کہ عافیت ساحل میں ہے!
فیضان صاحب نے 21 مارچ 2020 کے انڈین ایکسپریس میں ہندو راشٹر کے قیام کی تائید کی تھی۔ اس سے خوش ہو کر بھگوا پورٹل، سوراج ماگ، 22 اپریل2020  کو ایک تائیدی مضمون شائع کیا۔
اس سے قبل فیضان صاحب غیر قرآنی طلاق ثلاثہ کے سوال پر بھی مسلم پرسنل لا بورڈ کی حمایت کر چکے ہیں، لہذا منو اسمرتی کے مصنف کو خراج عقیدت پیش کرنا کون سی ایسی حیرت کی بات ہے!
جنوری 18، 2018 کو دی ٹریبون میں بھی فیضان صاحب نے ایک کالم لکھا تھا۔ اسرائیل کی تل ابیب یونیورسٹی میں ویزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیل کی کثیرالمذاہب پالیسی کی تعریف کی تھی۔ نتن یاہو کی انڈیا میں تشریف آوری کے اس موقعے سے انہوں نے لکھا تھا کہ اسرائیل میں شرعی عدالتیں قائم ہیں۔
فاضل کالم نگار نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اسرائیل کی شرعی عدالتوں کو کوئی اختیار نہیں ہے، طلاق ثلاثہ، حلالہ، کثیرالازدواج جیسے عوامل ممنوع ہیں۔ جب کہ ہندوستان کا مسلم پرسنل لا بورڈ ایسے عوامل کی اصلاح چاہتا ہی نہیں ہے۔
یعنی فاضل کالم نگار نے ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان صہیونی اسرائیل کی شبیہ کو قابل قبول بنانے کی کوشش کی تھی۔
انڈین ایکسپریس کے 28 مئی 2019 والے کالم میں بھی فاضل قانون داں و کالم نگار نے بی جے پی کی حکومت سے مسلمانوں کے بہتر مستقبل کی قوی امید کی تھی۔
مارچ 21، 2020 کے انڈین ایکسپریس میں بھی فیضان صاحب نے لکھا تھا کہ ہندو راشٹر بننے سے بھگوائیوں کو بہت مایوسی ہوگی، جب کہ مسلم اقلیت کو بہت خوشی ہوگی۔ بہت خوب!
چودھری خلیق الزماں نے اپنی کتاب’شاہراہِ پاکستان‘ میں لکھا تھا کہ ہندوستانی سیاست کا ہر طالب علم اتنی بات تو جانتا ہی ہے کہ پاکستان بنوانے میں اتر پردیش کے مسلمانوں کا اہم ترین رول ہے۔ اس سے قبل 1933ء میں مغربی اتر پردیش کے کچھ علاقوں میں مسلم خواص نے جمعہ کی نماز کے خطبوں میں کانگریس کے ہریجن اُتھان مہم کی مذمت کی تھی۔ بعد ازاں 1945ء میں یہی مسلم خواص نے ہریجنوں کی ناز برداری کرنا چاہا، تو ہریجنوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ پاکستان بنوانے کی اس مہم میں ہم مول نواسیوں کی مدد عیارانہ طور پر لینے کی کوشش نہ کریں۔
اگست اور ستمبر 1875 میں سر سید کے صاحب زادہ جسٹس سید محمود نے اتر پردیش کے مسلمانوں کو دیگر مسلمانوں کے مقابلے میں تاریخی و سیاسی اعتبار سے برتر تسلیم کرتے ہوئے انگریزی حکومت سے خصوصی مراعات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس اعتبار سے مغربی اتر پردیش کے مسلم خواص اور دانشور کو یہ مکمل حق حاصل ہے کہ 2022، یا 2023، یا مستقبل میں جب بھی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر کا پینل بنے تو کسی بھی دیگر خطے کے مسلمان یا اجلاف و ارذال یا خواتین کا نام پینل میں قطعی طور پر آنے نہ دیا جائے؛ کیوں کہ یہ حق صرف اور صرف مغربی اتر پردیش کے کالم نگار مدح سراؤں کا ہے!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*