ٹی وی ڈبیٹ اور سوشل میڈیا:احتیاط اور حوصلہ افزائی ـ مسعود جاوید

کام کی بات میں نے کی ہی نہیں
یہ میرا طورِ زندگی ہی نہیں

موجودہ دور انفارمیشن ٹکنالوجی کا دور ہے۔اس ٹکنالوجی کے جہاں بہت سارے فوائد ہیں وہیں کچھ نقصانات بھی ہیں۔ اخبارات ، ریڈیو و ٹیلی ویژن کی بہ نسبت سوشل میڈیا سب سے زیادہ تیز رفتار ذریعہ ترسیل ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس نے ہر کس و ناکس کو اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے اور مختلف مکاتبِ فکر کے لوگوں کے خیالات سے واقف ہونے کا بہترین پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے۔ تاہم اس کا نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا بہت حد تک ہر قسم کی سنسر شپ سے آزاد ہے۔ اخبارات کے ایڈیٹر کی طرح یہاں غلط بیانی کرنے والی، امن و چین کو غارت کرنے والی، ملک و ملت کو نقصان پہنچانے والی تحریروں پر کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہوتا۔ فیک نیوز ، ڈوکٹرڈ ویڈیو کلپ اور فوٹو شاپ کے توسط سے تصاویر میں تحریف بہت عام ہے اور ان حرکتوں سے بہت بڑی تعداد گمراہ ہو جاتی ہے۔ ہر ایک کے پاس اتنا وقت ہے اور نہ اتنی معلومات کہ فیکٹ چیک کے ذریعہ حقیقت کا پتہ کرے۔
سوشل میڈیا اور ٹی وی ڈیبیٹ کے توسط سے گمراہ کن باتوں، مسخ شدہ تاریخ، غلط حوالوں سے ملمع سازی، اور جھوٹ کی آمیزش سے تیار پرکشش بیانیہ کا دفاع اسی سوشل میڈیا اور چینلز کے توسط سے ممکن ہے۔ چینلز مسلمانوں کے لیے ابھی بھی ایک خواب ہے۔ تاہم ٹی وی ڈیبیٹ میں حصہ لینے کے لئے باصلاحیت افراد کی تربیت کی ضرورت ہے اور جو اپنی اہلیت، صلاحیت ، وسیع مطالعہ سے کشید مختلف ادیان اور کلچر اور حالات حاضرہ سے واقف ہیں اور قوم و ملت کی خدمت کر رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔
ہماری بہت سی تنظیمیں موقع بے موقع لوگوں کو سپاس نامے اور ایوارڈ دیتی رہتی ہیں لیکن چونکہ ان کی نظر میں عبدالحمید نعمانی جیسے لوگوں کے کام کی افادیت اور اہمیت نہیں ہے اس لئے ان کی فہرست میں ایسے لوگوں کے نام نہیں ہوتے یا وہ ایسے لوگوں کو اعزازات کی مستحق نہیں سمجھتیں. اس سے میری مراد یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگ ایوارڈ اور سپاس نامہ نہ ملنے پر شکوہ کناں ہیں۔
اسی طرح سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے جو لوگ اپنی تحریروں سے قوم و ملت کی رہنمائی کر رہے ہیں ذہن سازی کر رہے ہیں اور ایک حد تک نوجوانوں کی سوچ کو صحیح سمت دینے میں معاون ہیں ان کی سرپرستی نہیں تو کم از کم حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
اسی کے ساتھ ایسے لوگوں کی تربیت اور تنبیہ کی ضرورت ہے جو اپنی غیر ذمہ دارانہ تحریروں اور اشتعال انگیز جملوں سے سادہ لوح قارئین و ناظرین کے تباہی و بربادی کی راہ پر جانے کا سبب بنتے ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کا غلط استعمال یہ بھی ہے کہ جس موضوع پر آپ کو علم اور صحیح سوجھ بوجھ نہ ہو اس کے بارے میں دوسروں کی بغیر سند اور حوالہ کے لکھی ہوئی باتوں کی بنیاد پر لکھا جائے۔ کسی مسئلے پر لکھنے سے پہلے ہوم ورک یعنی اس موضوع پر مطالعہ ضروری ہے۔ واٹس ایپ یونیورسٹی معلومات کا سب سے غیر معتبر مصدر و ماخذ ہے۔ دوسری بات یہ کہ کچھ لکھنے سے پہلے یہ یقینی بنالیں کہ کسی تحریر سے آپ قانونی گرفت میں تو نہیں آئیں گے۔ آپ کے جملے کسی کے جذبات کو مجروح کرنے والے تو نہیں ہیں۔ فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے والے تو نہیں ہیں۔
ملی کونسل کی ایک نشست میں ایک مشہور اردو روزنامہ کے ایڈیٹر صاحب نے ذکر کیا تھا کہ آر ایس ایس نے کئی لوگوں کو اس کام پر مامور کر رکھا ہے کہ وہ اردو کے اخبارات اور سوشل میڈیا کی مونیٹنرنگ کریں ، ترجمہ کریں اور مسلمانوں کے رجحانات کا پتہ لگائیں اور ان کی باتوں کا مختلف ذرائع سے دفاع کریں.
مسلمانوں کا تھنک ٹینک کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے ؟ ظاہر ہے اس طرح کے کام بعض لوگ انفرادی طور پر دینی اور ملی حمیت کے جذبے سے کر رہے ہیں لیکن وہ کام غیر منظم ہے اور ایسے لوگ پابند اس لئے نہیں ہیں کہ مالی اور اخلاقی تعاون کے ساتھ ان کو جوڑے بغیر کسی کا وقت لینا مشکل ہوتا ہےـ اس کے لئے افراد سازی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور افراد سازی کے لئے وسائل کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا. جیسا ابھی چل رہا ہے اس طرح ذاتی سطح پر کام کرنے سے فریق مخالف کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتاـ
"عسی ان تکرهوا شيئا و هو خیر لکم ” کے مصداق اچھی بات یہ ہو رہی ہے کہ کسی نے اسلام پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی تو اس ضمن میں بعض حضرات تقابلی ریسرچ کی بنیاد پر مدلل اور مسکت جواب دیتے رہتے ہیں جس سے نہ صرف اسلام کا دفاع بلکہ دوسرے مذاہب اور کلچر کی کمیاں بھی سامنے آتی ہیں ـ برادران وطن کو اپنے مذہب کا اسلام سے موازنہ کرنے کا موقع ملتا ہے اور وہ بعض برہمنوں کی پھیلائی ہوئی بہت ساری گمراہ کن باتوں سے آگاہ ہوتے ہیں اور اسلام کی پاکیزہ تصویر سامنے آتی ہے۔ اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کا دفاع ہیش ٹیگز ٹرینڈ سے کیا جاتا ہے۔
بی جے پی آئی ٹی سیل” کے سلسلے میں عرض ہے کہ گرچہ اسے میں دینی فریضہ (فرض عین نہ سہی فرض کفایہ ) سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کا بھی اس طرح کوئی نظم ہو لیکن کسی بھی مسلم ادارہ اور تنظیم نے اس کو باعث اعتنا نہیں سمجھاـ فکری یلغار سے نہ صرف مسلمانوں کی حفاظت کے لیے یہ ضروری ہے بلکہ برادران وطن کے سامنے میسر ذرائع ابلاغ کے توسط سے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنا آج کے دور میں تبلیغ کا مثالی طریقہ ہےـ