تزکِ بابری کا اردو ترجمہ-شکیل رشید

 (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز )

بھارت میں مغل سلطنت کی نیو رکھنے والے شہنشاہ بابر کی یادیں یا ڈائری ‘تزک بابری’ ترکی زبان سے اگر عبدالرحیم خانخاناں نے فارسی زبان میں ترجمہ نہ کی ہوتی تو شاید اس کا اردو زبان میں ترجمہ نہ ہوا ہوتا، اور ہم اردو والے ایک دلچسپ اور معلومات سے بھری کتاب پڑھنے سے محروم رہ جاتے۔فارسی کا ایک نامکمل نسخہ رشید اختر ندوی کو پنجاب پبلک لائبریری سے حاصل ہوا اور انہوں نے محنت سے اسے اردو کا جامہ پہنا دیا، وہ یقیناً اس کام کے لیے شکریے کے حقدار ہیں ۔فارسی کا یہ نسخہ ممبئی کے چترا پربھا پریس نے شائع کیا تھا جس کے مالک کوئی مرزا محمد شیرازی تھے ۔یہ ایک اہم تاریخی کتاب تو ہے ہی، یہ اپنے دور کی سماجی، ثقافتی، مذہبی اور ادبی صورت حال پر بھی بھرپور روشنی ڈالتی ہے ۔

اس کتاب سے بابر کا ایک پیچیدہ سا کردار بھی سامنے آتا ہے، بہادر بھی اور ظالم بھی اور کبھی کبھار میدان چھوڑنے والا بھی، بھائیوں اور عزیزوں سے جنگ کرنے والا بھی اور ان سے محبت کرنے اور قرابت داری نبھانے والا بھی، مذہبی بھی اور شراب ومعجون کا رسیا بھی ۔بابر کے والد عمر شیخ میرزا کا جب انتقال ہوا تب بابر کی عمر بارہ سال تھی اور اسی عمر میں وہ فرغانہ کے تخت پر بیٹھا پھر اس کی ساری زندگی جنگ و جدل میں گزری، کبھی بھائیوں سے اور کبھی ماموؤں اور رشتہ داروں سےاور کبھی دشمنوں سے ۔کتاب پڑھتے ہوئے یہ سوال ابھرتا ہے کہ یہ روز روز کی لڑائیاں کس لیے ہوتی تھیں؟ بابر کے ہاتھ سے فرغانہ سمیت دوسرے علاقے تک چھن گئے تھے، ایک جگہ بابر لکھتا ہے ” اس وقت دل بہت پریشان ہوا، سوچا کہ یہ کیا زندگی ہے! پہاڑوں سے سر پھوڑنے سے آخر کیا حاصلِ، نہ گھر ہی پاس ہے نہ کوئی قلمرو پاس رکھتا ہوں اور نہ کوئی سکھ چین ہی نصیب ہے” ۔یہ اقتباس مذکورہ سوال کا جواب دے دیتا ہے، جنگیں قلمرو کے لیے کی جاتی تھیں اور جو طاقتور ہوتا تھا وہ کمزور سے حکومت چھین لیتا تھا ۔بابر نے بھی حکومتیں چھینیں اور بابر سے بھی اس کی زمینیں چھینی گئیں ۔چھیننے والوں میں بابر کے ماموں اور چچا تک شامل تھے، بھائیوں نے بھی لشکر کشی کی ۔حالات یہ ہوئے کہ بابر کو آخشی سے بھاگنا پڑا اور چھپتے پھرنا پڑا، ایک اقتباس ملاحظہ کریں ” وہ لوگ کچھ دیر تک مجھے یہیں ٹہرائے رہےپھر رات ہی رات میں ایک اور مکان میں لے آئے جہاں آدھی رات تک رہے ۔آدھی رات کا وقت تھاکہ بابا سسرامی چھت پر چڑھا، پھر جلدی سے اترا اور کہنے لگا کہ یوسف داروغہ آ رہا ہے ۔ میں بہت ڈرا، میں نے اس سے فرمائش کی کہ باہر جانے اور خبر لائے کہ یوسف کیوں آیا ہے؟ وہ لوٹ کر آیا تو خبر دی کہ یوسف داروغہ کہتا ہے کہ آخشی کے دروازہ پر اسے ایک سپاہی نے بتایا کہ بادشاہ کرنان کی فلاں جگہ چھپے ہیں ” ۔چھپتے پھرنے والے بابر نے بعد میں کابل فتح کیا، پھر بھارت ۔بھارت پر بابر کاحملہ اس لئیے یادگار ہے کہ اس کے پاس بادشاہ ابراہیم لودھی کی لاکھ سے زائد فوج اور ہزاروں ہاتھیوں کے مقابلے فوجی قوت کم تھی ۔پانی پت میں گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں لودھی مارا گیا اور بابر نے ہندوستان میں مغل حکومت کی بنیاد رکھ دی جو آٹھ سو سال تک چلی۔

بابر روزے بھی رکھتا تھا اور نمازیں بھی قضا نہیں کرتا تھا لیکن شراب اور معجون کا رسیا تھا، ایک جگہ بابر لکھتا ہے ” شام کو پیزادی مقام پر پہنچا، وہیں کے قاضی کےیہاں روزہ افطار کیا اور شراب کی محفل منعقد کرنے کی ٹھانی لیکن قاضی نے تنبیہ کی کہ شراب کی محفل اس سے پہلے کبھی میرے مکان پر نہیں جمی، یوں آپ بادشاہ ہیں ۔قاضی کے احترام میں، میں نے شراب کی محفل ملتوی کر دی ” ۔بابر نے اپنے ایک ‘عشق’ کا بھی ذکر کیا ہے، ” اسی دوران مجھےاردو بازار کے ایک خوبصورت لڑکے بابری نامی سے عشق ہوا لیکن یہ عشق کچھ عجیب طرح کا تھا، جونہی بابری میرے سامنے آتا میں شرم کے مارے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھ سکتا۔ایک دن اچانک میں اپنے خدام کے ساتھ ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ بابری اور مجھ میں مڈبھیڑ ہو گئی لیکن میری عجیب حالت تھی، میں بری طرح جھینپا اور بڑی سخت گھبراہٹ کے ساتھ آگے بڑھ گیا ۔مگر عشق نے دل و دماغ کو بری طرح سے اپنے چنگل میں لے لیا تھاننگے پاؤں اور ننگے سر کبھی باغوں میں گھومتا پھرتا اور کبھی پہاڑوں میں ” ۔

بابر نے اس تزک میں علماء، شعرا اور فنکاروں کا بھی تفصیلی ذکر کیا ہے ۔جامی کا تذکرہ ان کی شاعری کے حوالے سے ہے۔کئی شعرا پر نقد بھی کیا ہے ۔لکھا ہے ” اس دور کے شعرائے خراسان میں مولانا عبدالرحمن جامی سرفہرست ہیں، شاعر صیفی بھی خراسان کے دربار کا ایک مشہور شاعر تھا، کئی دیوان رکھتا تھا، ایک دیوان معمولی نوعیت کا ہے ” ۔

ہندوستان پر فتح کے بعد بابر نے ملک کے موسم، جانوروں پرندوں، پھلوں اور شہریوں کا اور رہن سہن کا تفصیلی ذکر کیا ہے، بابر لکھتا ہے ” ہندوستان میں مجھے لطافت کی کمی کا بہت احساس ہوا، یہاں کے لوگ کچھ خوبصورت بھی نہیں ہیں نہ ملنے جلنے کے آداب سے آشنا ہیں، ذہن بھی پست ہے، مروت اور خلق اور وضعداری میں بھی ہیٹے ہیں، ہنروں اورپیشوں کی ترتیب اور تقسیم بھی موزوں نہیں ہے، یہاں کا گھوڑا اچھا نہیں ہوتا، گوشت بھی مزیدار نہیں ہے ۔نہ انگور یہاں کے اچھے ہوتے ہیں نہ خربوزے اور نہ دوسرا پھل ہی لذیذ ہوتا ہے، نہ یہاں برف ملتی ہے نہ گرمیوں میں ٹھنڈا پانی ہی مہیا ہوتا ہے، بازاروں میں بکنے والی روٹی بھی خراب ہوتی ہے اور سالن بھی مزے کا نہیں ہوتا۔نہ یہاں حمام ہیں نہ مدرسوں کا رواج ہے ۔گھروں میں شمعیں، مشعلیں اور شمعدان بھی استعمال نہیں کئیے جاتےالبتہ چیکٹ کا رواج ہے” لیکن اس کے باوجود بابر نے ہندوستان ہی میں رہنا پسند کیا اور خوب عمارتیں اور چار باغ اور حوض بنوانے ۔بابر نےایک جگہ لکھا ہے ” ہندوستان میں سنگتراشوں کی کثرت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ میں نے جو عمارت آگرہ میں بنوانا شروع کی ہے اس کے لیے صرف آگرہ ہی میں سے ٦٨٠ سنگتراش جمع کر لئیے گئے ہیں، مزید برآں میں نے سیکری، بیانہ ،دولتپور ،گوالیاراور کول میں جو عمارتیں شروع کر رکھی ہیں ان میں چودہ سو اکیانوے سنگتراش مشغول ہیں ” ۔

کتاب میں رانا سانگا سے جنگ کی دلچسپ تفصیلات بھی شامل ہیں اور بابر نے کیسے ہندوستانی امراء کو، جن میں ہندو امراء بھی شامل تھے، جاگیریں دیں، خلعت سے نوازا اور کیسے ان کی غلطیوں کو معاف کرکے سب کا تعاون اور حمایت حاصل کی اس کا بھی دلچسپ ذکر ہے ۔بابر نے ہندوستان آنے کے بعد شراب پینے سے توبہ کر لی تھی مگر معجون کا نشہ ترک نہیں کیا ۔ایک اور دلچسپ بات یہ کہ تیمور کی نسل سے ہونے کا بابر نے اس طرح مظاہرہ کیا کہ جگہ جگہ سروں کے مینار لگوائے!! کتاب میں نہ بابری مسجد کا ذکر ہے اور نہ ہی منادر کی مسماری کا لیکن ایک جگہ چند بتوں کو توڑنے کا ذکر ہوا ہے.”ارد کے گردونواح میں پہاڑ کاٹ کاٹ کر مورتیاں بنائی گئی ہیں، یہ مورتیاں کچھ چھوٹی ہیں اور کچھ بڑی، ان میں سب سے بڑا بت بیس گز لمبا ہے ۔ارد گو دلچسپ مقام ہے مگر اس کے چاروں طرف بت ہی بت دکھائی دیتے ہیں اس لیے میں نے حکم دیا ہے کہ بت توڑ دیئے جائیں ” ۔

یہ ایک دلچسپ کتاب ہے، ترجمہ بھی اچھا ہے لیکن چونکہ یہ کمپوزنگ کی بجائے کتابت کرا کر شائع کی گئی ہے اور کتابت بھی اچھی نہیں ہے اس لیے آنکھوں کو بھلی نہیں لگتی۔ایک خامی حواشی کا نہ ہونا بھی ہے ۔کسی تاریخ داں کا مقدمہ بھی ضروری تھا ۔ترجمہ جس نسخہ سے کیا گیا وہ بھی نامکمل تھا، اس لیے ان خامیوں کو دور کرنے کے بعد یہ کتاب پھر سے شائع کی جانی چاہیے ۔اسے پاکستان کے ایک بڑے اشاعتی ادارے سنگ میل نے شائع کیا ہے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)