تشار مہتا کی تقرری پر اعتراض کیوں؟ ایم ودود ساجد

دہلی کو چونکہ ’مکمل ریاست‘ کا درجہ حاصل نہیں ہے اس لئے حکومت کے اختیارات دہلی کے وزیر اعلی اور دہلی کے لیفٹننٹ گورنر کے درمیان منقسم چلے آرہے ہیں۔ایسا ہی ایک اختیار عدالتوں میں سرکاری مقدمات میں پیروی کیلئے دہلی کے سرکاری وکیلوں کی تقرری کا ہے۔

2014 سے 2019 تک کی دوسری مدت کار میں دہلی حکومت اور لیفٹننٹ گورنرکے درمیان دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ پر بھی کشکمش جاری رہی۔یہاں تک کہ دہلی ہائی کورٹ میں بسا اوقات مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہوگئی جب ایک ہی مقدمہ میں دہلی سرکار کی طرف سے دو دو وکیل پہنچ گئے۔عدالت میں اصل مقدمہ کو چھوڑ کر اسی بات پر بحث ہونے لگی کہ مجاز وکیل کون ہے اور کسے بحث کا اختیار ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ لیفٹننٹ گورنر مرکزی حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے۔ لیکن اسے بھی دیگر ریاستوں کے گورنروں کی طرح مکمل اختیار حاصل نہیں ہے۔اسی لئے دہلی پولیس کو براہ راست مرکزی وزارت داخلہ کنٹرول کرتی ہے۔

پچھلے دنوں پروفیسر یوگیندر یادو نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعہ بتایا کہ دہلی حکومت اور لیفٹننٹ گورنر کے درمیان وکیل کی تقرری کے مسئلہ پر ’صلح‘ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے بھی اس پر ’خوشی‘ کا اظہار کیا کہ سرکاری وکیل کی تقرری کے معاملہ پر دونوں میں صلح ہوگئی ہے۔

اس سلسلہ میں ٹائمز نیوز نیٹ ورک (ٹائمز آف انڈیا) کے عامر خان نے بھی گزشتہ 31 مئی کو تفصیلات شائع کی ہیں۔ جن کے مطابق سرکاری وکیل کی تقرری کا اختیار اب دہلی حکومت کو حاصل ہوگیا ہے اور اس میں اب مرکز یا لیفٹننٹ گورنر کو مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ لہذا پچھلے دنوں دہلی فسادات کے متاثرین کے مقدمات کی پیروی کیلئے دہلی سرکار نے اپنے وکلاء کے طور پرمرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل تشار مہتا‘ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل امن لیکھی اور منندر سنگھ کے علاوہ دیگر کئی وکلاء کا تقرر کردیا۔یہ وکلاء خاص طورپر دہلی ہائی کورٹ میں فسادات کے بعد حبس بے جا کے سلسلہ میں دائر پٹیشنز پر دہلی پولیس کی طرف سے بحث کریں گے۔

اس ضمن میں یوگیندر یادو نے بتایا ہے کہ دہلی حکومت نے مرکزی حکومت کی سفارش پر یہ تقرری کی ہے۔ان کے مطابق تقرری کی فائل پر دہلی حکومت کے وزیر داخلہ ستیندر جین نے لکھا ہے کہ "ہر چند کہ اب وکیل کے تقرر کا اختیار حکومت دہلی کو ہے لیکن اس خاص معاملہ میں ہم لیفٹننٹ گورنر کی سفارش کو قبول کرتے ہوئے تشار مہتا وغیرہ کا تقرر کر رہے ہیں۔”

آئیے اب اس ضمن میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تشار مہتا کے تقرر پر یوگیندر یادو‘ ہرش مندر‘ سدھارتھ ورداراجن‘ اپوروانند اور انہی جیسے دیگر درجنوں فکر مند افراد’ فسادات کے متاثرین اور حقوق انسانی کی رضاکار تنظیموں کو کیوں اعتراض ہے۔اس سلسلہ میں تشار مہتا کا پس منظر سمجھنا ضروری ہے۔اس میں بھی محض چند واقعات کا مطالعہ بہت اہم ہے۔

1- کیا آپ کو 2002 کے گجرات فسادات یاد ہیں؟ یہ فسادات 27 فروری 2002 کو گودھرا میں سابر متی ایکسپریس ٹرین میں سوار 50 سے زیادہ سادھوؤں کی آتشزدگی میں واقع ہوجانے والی اموات کے بعد پھوٹا تھا۔اس فساد کے تعلق سے بہت سے حلقے آج بھی یہی کہتے ہیں کہ ان میں اس وقت کے وزیر اعلی کا ہاتھ تھا۔حالانکہ بعد میں اس سلسلہ میں قائم کئے جانے والے ناناوتی-مہتا کمیشن نے وزیر اعلی کو کلین چٹ دیدی تھی۔اس کمیشن میں جسٹس نانا وتی کے علاوہ جسٹس اکشے مہتا بھی شامل تھے۔جسٹس مہتا نے 21 نومبر 2018 کو فساد کے ایک بڑے سزا یافتہ ملزم بابو بجرنگی کو ضمانت دیدی تھی۔اس مقدمہ کی پیروی تشارمہتا نے کی تھی۔ حکومت گجرات نے انہیں فسادات کے مقدمات کی پیروی کیلئے اپنا ایڈوکیٹ جنرل مقرر کیا تھا۔

بابو بجرنگی کون ہے؟

2- بابو بجرنگی کوگجرات پولیس نے نرودا پاٹیا کے قتل عام کا ماسٹر مائنڈ بتایا تھا۔بعد میں ایک اسٹنگ آپریشن میں بھی بجرنگ دل کے ایک سینئرکارکن نے بڑے فخر سے بتایا تھا کہ نرودا پاٹیا قتل عام میں بابو بجرنگی اور ان کے ساتھیوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔نرودا پاٹیا میں 97 مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا۔ان میں 36 عورتیں‘ 26 مرد اور35 بچے شامل تھے۔ یہ بے کس لوگ سی آر پی ایف کے ایک کیمپ میں پناہ کے لئے جمع ہوگئے تھے۔ بابو بجرنگی کو خصوصی عدالت نے مجرم گردان کر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

3- اسی طرح گجرات کے اوڈے میں بھی 23 مسلمانوں کو جلاکر مارڈالا گیا تھا۔اس واقعہ میں 15ملزموں کو خصوصی عدالت نے سزائے عمر قید سنائی تھی۔بعد میں گجرات ہائی کورٹ نے بھی اس سزا کی توثیق کردی تھی۔لیکن 28جنوری 2020 کو سپریم کورٹ نے ان تمام سزا یافتگان کو اس شرط پر ضمانت پر رہا کردیا کہ وہ مدھیہ پردیش میں سوشل سروس انجام دیں گے۔سپریم کورٹ میں ان سزا یافتگان کی پیروی بھی تشار مہتا نے کی تھی۔

4- گجرات فسادات میں شرپسندوں نے تقریباً 500 عبادتگاہوں کو بھی نقصان پہنچا یا تھا۔ ایک پٹیشن پر فیصلہ کرتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ حکومت گجرات ان عبادتگاہوں کی مرمت اپنے خرچہ پر کرائے۔اس حکم کے خلاف حکومت گجرات نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی اور 29 اگست 2017 کوچیف جسٹس دیپک مشرا اور پی سی پنت کی بنچ نے گجرات ہائی کورٹ کے اس حکم کو کالعدم قرار دیدیا۔ سپریم کورٹ میں حکومت گجرات کی نمائندگی بھی تشارمہتا نے کی تھی۔ وہ اس وقت گجرات کے ایڈیشنل سالسٹر جنرل تھے۔

5- 5 اگست 2011 کو انڈیا ٹوڈے میگزین میں پورنیما جوشی اور گیاننت سنگھ نے ایک رپورٹ میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ لکھا تھا۔ اس کی رو سے گجرات فساد کے 9 بڑے واقعات کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ نے ایک اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کی تھی۔ اس ٹیم نے فسادات کے ان نو بڑے واقعات کی تحقیقات کے بعد جو رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے کیلئے تیار کی تھی اسے گجرات حکومت کے ایک انڈر سیکریٹری نے تشار مہتا کو ’لیک‘ کردیا تھا۔تشار مہتا نے اس رپورٹ کو آر ایس ایس کے ایک پالیسی ساز گرومورتھی سوامی ناتھن کو سونپ دیا تھا۔ سوامی ناتھن نے اس رپورٹ کی بنیاد پر ایک نوٹ تیار کرکے فسادات کے ملزموں کے اُن وکیلوں کے حوالہ کردیا تھا جو ان کا مقدمہ لڑنے کے لئے سپریم کورٹ میں پیش ہورہے تھے۔

6- آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ نے یہ الزام عاید کیا تھا کہ اس سلسلہ میں ڈرافٹ پٹیشن خود تشار مہتا نے تیار کرکے ملزموں کے وکیلوں کے حوالہ کی تھی۔یعنی تشار مہتا ایک ہی وقت میں دونوں کام کر رہے تھے۔وہ ایک طرف تو حکومت کی طرف سے متاثرین کے سرکاری وکیل تھے اور دوسری طرف ملزموں کے وکیلوں کو بھی نکات فراہم کر رہے تھے۔ یعنی وہ وکیل استغاثہ بھی تھے اور وکیل دفاع بھی۔ یا یوں کہئے کہ وہ وکیل تو مظلوموں کے تھے لیکن وکالت ظالموں کی کر رہے تھے۔

7- سنجیو بھٹ دراصل تشار مہتا کے دوست تھے اور انہوں نے تشار مہتا کے ای میل تک رسائی حاصل کرکے ان کے بعض پیغامات ’ہیک‘ کرلئے تھے۔ بعد میں سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ میں یہ ای میل پیغامات پیش کرکے کہا تھا کہ ان پیغامات سے فسادیوں اور وزیر اعلی کے درمیان ساز باز کا سراغ ملتا ہے۔لیکن سپریم کورٹ نے سنجیو بھٹ کے اس الزام کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ سنجیو بھٹ نے ایک اپوزیشن پولٹکل پارٹی کے ’سکھاوے‘ میں آکر یہ الزام لگایا ہے۔ اس وقت اپوزیشن میں کانگریس پارٹی تھی۔

8- گجرات فسادات میں ایک بڑا واقعہ بیسٹ بیکری کا تھا۔ اس میں بیکری مالک کی 15سالہ بیٹی ظہیرہ شیخ تو بچ گئی تھی لیکن اس کے پورے خاندان کو جلا کرماردیا گیا تھا۔اس واقعہ میں گرفتار سارے ملزموں کو ٹرائل کورٹ نے بری کردیا تھا۔کیونکہ 43 گواہوں میں سے 37 منحرف ہوگئے تھے۔ عدالت نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ استغاثہ نے بہت کمزور کیس بناکر پیش کیاہے۔اس پر گجرات حکومت نے ہائی کورٹ میں کوئی اپیل نہیں کی۔رضاکار تنظیموں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔حکومت گجرات نے آناً فاناً ہائی کورٹ کیلئے ایک اپیل تیار کی۔سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کی تیار کردہ اس ’اپیل‘ پر بہت سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اچھی اپیل تو محض ایک سال کا تجربہ رکھنے والا وکیل بھی تیار کرلے گا۔سپریم کورٹ نے اس اپیل کو محض خانہ پری اور مگر مچھ کے آنسو قرار دیا تھا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر حکومت گجرات‘ اس مقدمہ میں گجرات ہائی کورٹ کے سامنے خاموش رہے گی تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔اس وقت بھی حکومت گجرات کی نمائندگی تشار مہتا ہی کر رہے تھے۔

9- اس وقت کے چیف جسٹس‘ وی این کھرے نے جو کہا تھا وہ بھی کم ہیبت ناک نہیں تھا۔ اس کا مفہوم یہ تھا:

(الف) ایسا لگتا ہے کہ جب گجرات جل رہا تھا تو عہدِ جدید کا نیرو چین کی بانسری بجار ہا تھا۔

(ب) ایسا لگتا ہے کہ گجرات میں انصاف کا حصول ممکن نہیں رہا۔

(ج) وزیر اعلی اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

(د) کیا یہی ہے تمہارا راج دھرم؟

(ہ) اب ہمیں کسی بھی پروسکیوشن ایجنسی پر بھروسہ نہیں رہا۔

(و) ان تبصروں سے گھبراکرحکومت گجرات نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ کچھ مہلت دیدے تاکہ وہ اپیل میں موجود خامیوں کو درست کردے۔۔اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ دوبارہ بھی وہی کریں گے۔اب ہمیں یقین نہیں رہا۔

یہ چند واقعات ہیں جو تشار مہتا کی ’صلاحیت‘قابلیت اوران کے ’شاندار‘ماضی کے عکاس ہیں۔ان کے تازہ احوال وفرمودات بھی کچھ کم ’تابناک‘ نہیں ہیں:

10- 31 مارچ 2020 سے 28 مئی 2020 تک سپریم کورٹ میں تشار مہتا ہی حاوی رہے۔ ملک میں جاری ’تالہ بندی‘ سے مزدوروں کے سر پر جو بحران کھڑا ہوگیا تھا اس پر سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی ایک درجن سے زائد پٹیشنز کی سماعت کے دوران وہی سامنا کرتے رہے۔۔۔31 مارچ کو انہوں نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ آج کی تاریخ میں دن کے ساڑھے گیارہ بجے تک کوئی ایک مزدور بھی سڑک پر نہیں ہے۔اس پر چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی بنچ نے ’اطمینان‘ کا اظہار کرتے ہوئے پٹیشن در پٹیشن حکومت کو راحت دے دی تھی۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ لاکھوں مزدور ملک بھر کی سڑکوں پر پھیل گئے۔اس کے بعد ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے سب واقف ہیں۔

11- ملک کی 19 سے زیادہ ہائی کورٹس میں مزدوروں کے معاملہ میں سنوائی ہو رہی تھی۔ان میں سے 7 ہائی کورٹس نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کوسخت ہدایات جاری بھی کردی تھیں۔اس کے بعد ’مجبور‘ ہوکر جسٹس اے کے بھوشن کی سربراہی والی بینچ نے 28 مئی کو جب مزدوروں کے سلسلہ میں از خود نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو سخت ہدایات جاری کیں توتشار مہتا صاحب کا جوہر مزید نکھر کر سامنے آیا۔

12- انہوں نے مزدوروں کے حقوق کیلئے عدالتوں سے رجوع کرنے والے حقوق انسانی کے گروپوں‘ رضاکار تنظیموں اور افرادکو سیاسی گِدھ قراردیا‘انہیں قیامت کا پیغام بر کہا اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوال قائم کردیا۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ صرف Nagativity پھیلاتے ہیں اور وہ وطن کے ہمدرد نہیں ہیں۔انہوں نے ملک کی ہائی کورٹس پر بھی الزام عاید کیا کہ وہ ملک میں متوازی حکومت چلارہی ہیں۔انہوں نے سپریم کورٹ کی بینچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ: آپ حقوق انسانی کے ان رضاکاروں کیلئے اُسی وقت غیر جانبدار ہیں جب آپ حکومت کو گالیاں دیں۔

13- سپریم کورٹ میں تشار مہتا کی اس ’حوصلہ مندی اور جرات‘ پر انڈین ایکسپریس نے 30 مئی کی اشاعت میں ایک اداریہ تحریر کیا۔جس کا مفہوم یہ تھا کہ:

(الف) تشار مہتا نے اپنی حدود سے تجاوز کیا۔

(ب) ہائی کورٹس کی حسّاسیت کا مذاق اڑایا۔

(ج) خود سپریم کورٹ کی اہانت کی۔

(د) ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کو آپس میں ’بھڑانے‘کی کوشش کی۔

(ہ) مزدوروں کے ہمدرودں کو گدھ کہا۔

(و) ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھائے۔

(ز) حکومت سے سوال کرنے کو وطن پرستی اور دیش بھکتی سے جوڑا۔

(ح) اور خود سپریم کورٹ کو دھمکانے کی کوشش کی۔

14- دہلی حکومت نے تشار مہتا کے ساتھ دو ایڈیشنل سالیسٹر جنرل امن لیکھی اور منندر سنگھ کو بھی اپنا وکیل مقرر کیا ہے۔امن لیکھی نئی دہلی سے بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ میناکشی لیکھی کے شوہر ہیں۔میناکشی لیکھی نے دہلی فسادات پر پارلیمنٹ میں زوردار تقریر کی تھی جس میں کپل مشرا کا جارحانہ دفاع کرتے ہوئے CAA کے مخالف مسلمانوں کو ہی فساد کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

ایسے میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ تشار مہتا‘امن لیکھی اور منندر سنگھ جیسے وکیل دہلی فساد میں لٹ پٹ جانے والے سینکڑوں متاثرین کا دفاع کریں گے یا برائے نام گرفتار فساد کے چند ملزموں کا؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)