Home مقبول ترین تشار گاندھی کا بہت بہت شکریہ! – شکیل رشید

تشار گاندھی کا بہت بہت شکریہ! – شکیل رشید

by قندیل

( ایڈیٹر ، ممبئی اردو نیوز )
تشار گاندھی کا ذِکر باپو مہاتما گاندھی کے ذِکر کے بغیر ادھورا ہوگا ۔ باپو کے تعلق سے لوگوں کی آراء میں چاہے جس قدر اختلاف ہو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی شخصیت اندھیرے میں ایک روشنی کی طرح تھی ۔ باپو صرف مجاہد آزادی نہیں تھے ، ایک مصلح بھی تھے اور ہندوستانیت کے ، جسے گنگا جمنی یا ملی جلی تہذیب بھی کہا جاتا ہے ، بہت بڑے پرچارک تھے ۔ یقیناً ان پر اُنگلیاں اٹھتی ہیں ، انہیں کٹّر ہندو کہہ کر ان پر تنقید کی جاتی ہے ، اُن میں خامیاں رہی ہوں گی ، لیکن خوبیاں کہیں زیادہ تھیں ۔ اور پھر کون ہے اس دنیا میں جو لوگوں کے لعن طعن سے محفوظ رہا ہے یا محفوظ رہ سکتا ہے ! تشار گاندھی کے نام میں گاندھی کا سابقہ لگا ہوا ہے کیونکہ وہ باپو کے پڑ پوتے ہیں ۔ اور یہ صرف نام کے گاندھی نہیں ہیں ، مہاتما گاندھی کی طرح جو حق سمجھتے ہیں اس کے لیے لڑ جاتے ہیں ۔ جیسے کہ انہوں نے ابھی ابھی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا کر اترپردیش ( یو پی) کے ضلع مظفرنگر کے اُس سات سال کے کمسن مسلم طالب علم کی لڑائی لڑنے کو حق سمجھا ہے ، جسے کلاس روم میں کھڑا کروا کر اُستانی نے دوسرے طلباء سے تھپڑ لگوائے تھے ، اور اس کے مذہب پر نکتہ چینی کر کے اسے ذلیل کیا تھا ۔ معاملہ کھبّا پور گاؤں کے ایک پرائیوٹ اسکول کا ہے ۔ سارا معاملہ ایک وائرل ویڈیو کے ذریعے سامنے آیا تھا ۔ اُستانی ، جس کا نام ترپتا تیاگی ہے ، دوسرے کمسن طلباء کو اکسا رہی ہے کہ تھپڑ زور سے ماریں ، پیٹھ پر ماریں ۔ اور مار کھانے والا بچہ بے بسی سے آنسو بہا رہا ہے ۔ وائرل ویڈیو نے ملک بھر میں لوگوں کو بے چین کر دیا تھا ، اور اسکول و اُستانی کے خلاف شدید ردعمل سامنے آئے تھے ۔ برادرانِ وطن کی بہت بڑی تعداد نے مظلوم بچے کے حق کے لیے آواز اٹھائی تھی ۔ اس معاملے میں کسان لیڈر راکیش ٹکیت بھی سامنے آئے تھے اور انہوں نے مظلوم بچے و ان بچوں کو جنہوں نے طمانچے مارے تھے گلے ملوایا تھا ۔ یہ اطلاع تو ہے کہ پرائیوٹ اسکول پر تالا لگا دیا گیا ہے ، اور اُستانی کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے ۔ لیکن اُستانی آج تک آزاد ہے ، اور خود کو بے گناہ قرار دے رہی ہے ۔ اُس کا ایک ویڈیو گردش میں ہے جس میں وہ کہہ رہی ہے کہ اُس نے طمانچے تو لگوائے لیکن اس کے من میں کوئی مذہبی عصبیت نہیں تھی ۔ اس معاملے میں کئی تشویش ناک باتیں سامنے آئی ہیں ، ایک تو یہ کہ مظلوم بچے کے والد کو ڈرایا دھمکایا گیا ہے ، اور اُس پر دباؤ بنایا گیا ہے کہ وہ اسکول اور اُستانی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے بلکہ صلح کر لے ۔ ایک بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ ہندوتوادی تنظیمیں اُستانی کے حق میں سرگرم ہو گئی ہیں ۔ کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ یو پی کی یوگی سرکار کو کارروائی کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ، اگر دلچسپی ہوتی تو اب تک وہ اسکول پر بلڈوزر چلوا دیتے ۔ خیریہ اچھا ہی ہوا کہ اسکول پر بلڈوزر نہیں چلا ، بلذوزر کسی بھی عمارت پر نہیں چلنا چاہیے ، اور اگر چلانا ہی ہے تو عدالت کے حکم پر چلے ۔ خیر ، یہ معاملہ کچھ آگے بڑھتا نظر نہیں آ رہا تھا ، باوجود اس کے کہ ایف آئی آر درج ہے ، قومی انسانی حقوق کمیشن اور بچوں کے حقوق کے کمیشن نے معاملہ درج کیا ہے ، اور ہر طرف سے کارروائی کی مانگ ہے ۔ ہاں آلٹ نیوز کے محمد زبیر پر ایف آئی آر اس لیے درج کر لی گئی ہے کہ انہوں نے ایک نابالغ بچے کی شناخت کیوں ظاہر کی ! جب اتنا سب کچھ ہونے پر کارروائی نہیں ہو رہی ہے تو اگر محمد زبیر ویڈیو نہ ڈالتے ، شناخت نہ ظاہر کرتے تو کیا ایف آئی آر درج ہوتی ! تشار گاندھی نے سپریم کورٹ میں اپنی اپیل میں کئی اہم درخواستیں کی ہیں ؛ انہوں نے مظفرنگر معاملہ کی ایک متعینہ مدّت میں تفتیش مکمل کرکے کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے ، اور اسکولوں میں بچوں کی پٹائی اور انہیں ذہنی اذیت پہنچانے کے بڑھتے واقعات پر ہدایات دینے کی اپیل کی ہے ۔ مظفر نگر کے واقعے کے بعد ایسے ہی کئی اور واقعے سامنے آئے ہیں ؛ دہلی میں ، کرناٹک میں ، مہاراشٹر میں اور دیگر کئی ریاستوں میں ۔ یوپی سے بھی کچھ خبریں آئی ہیں ۔ ایسے واقعات سے بچوں پر نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں ، کچھ خوف کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور کچھ برتری کے زعم میں ۔ ایسے واقعات مذہبی ، ذات پات اور اونچ نیچ کی تفریق پیدا کرتے اور نفرت کو پروان دیتے ہیں ، اس لیے ان واقعات میں ملوث اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی ضروری ہے ۔ تشار گاندھی نے اس تعلق سے اپیل کی ہے اور ان کی اپیل پر عدالت عظمیٰ نے یوپی حکومت کو نوٹس جاری کر کے کارروائی رپورٹ طلب کر لی ہے ، مرکزی حکومت اور تعلیمی محکموں کو بھی نوٹس جاری کیے گئیے ہیں ۔ تشار گاندھی کا اس کے لیے بہت بہت شکریہ ۔ وہ اس سے قبل ماب لنچنگ کے معاملے میں بھی سپریم کورٹ سے ہدایات جاری کروا چکے ہیں اور منوواد کے سخت خلاف ہیں ۔ اپنی ایک انگریزی کتاب میں انہوں نے برہمنوں کو باپو مہاتما گاندھی کا قاتل قرار دیا ہے ، جس کے لیے سارے برہمن ان پر ٹوٹ پڑے تھے ۔ برادرانِ وطن میں تشار گاندھی جیسے بہت سے لوگ ہیں جو مسلمانوں ، پچھڑوں ، دلتوں اور مظلوموں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں ، ان سب کا شکریہ مسلمانوں کو ادا کرکے ان کی ہمت افزائی کرتے رہنا چاہیے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like