ترکی یا مملکت سعودی عرب ؟ عاطف سہیل صدیقی 

 

تاریخ کی تلخیوں سے باہر نکل کر تابناک مستقبل کے لیے اتحادِ امت ناگزیر ہے اور یہ ہی مقصودِ شریعتِ اسلامی بھی ہے۔ ترکی اور سعودی عرب دونوں ہی مسلمانوں کی دو عظیم ریاستیں ہیں۔ ان دونوں ممالک کے حکمران قابل احترام ہیں ۔ مملکت سعودی عرب پچھلے تقریبا سو برس سے حرمین شریفین کی خدمت کا عظیم الشان فریضہ انجام دے رہی ہے اور توحید کے پرچم کو مضبوطی کے ساتھ تھامے ہوئے ہے، صرف پرچمِ توحید کو ہی تھامے ہوئے نہیں ہے بلکہ بدعات و خرافات و توہمات کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ دوسری طرف وہ ترکی ہے جو کروٹ لے رہا ہے۔ وہ ترکی جس کے حکمرانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتِ فتحِ قسطنطنیہ کو سچ ثابت کردکھایا تھا۔ جس نے ۵۰۰ برس سے بھی زیادہ طویل مدت تک خلافت اسلامیہ کی قبا پہن کر صرف عالم اسلام کی قیادت نہیں کی بلکہ ایک ایسی عظیم الشان تاریخ رقم کردی کہ جس کی ہیبت سے ایوانِ یہود و نصاری آج بھی لرزہ براندام ہیں ۔ وہ ترکی جسے اس کی عظیم الشان اسلامی تاریخ سے کاٹ کر الحاد و دہریت کا سبق پڑھایا جاتا رہا آج وہی ترکی اپنی عظیم الشان روایات کو بحال کرنے کے لیے بیقرار ہورہا ہے اور اس کے حکمرانوں نے آج پوری دنیا کے مسلمانوں کو مایوسی سے نکال کر امید کی ایک کرن انکی آنکھوں میں پیدا کردی ہے۔ کمالسٹ دہریت کی قبا کو چاک کر کے یہ ترکی اسلام کی آغوش میں پناہ لینے کے لیے بیقرار ہو رہا ہے۔ لہذا چاہے مملکتِ سعودی عرب ہو یا ترکی یہ دونوں امت اسلام کی دو آنکھیں ہیں جس میں سے ہم ایک کا انتخاب نہیں کر سکتے۔ ہمیں دونوں آنکھیں عزیز ہیں ۔ اور اس میں بھی دو رائے نہیں ہے کہ ترکی اور سعودی عرب کے درمیان سخت سیاسی نظریاتی اختلاف ہے اور اسکی وجہ تاریخ کی وہ تلخیاں ہیں جن کا تذکرہ کرکے چند نادان مسلمان ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ایسے لوگ درحقیقت امت اسلام کے مخیر نہیں بلکہ بدخواہ ہیں اور مجھے خوف ہے کہ انکا شمار شاید منافقین میں ہو!

 

قومیں تاریخ سے مربوط ہوتی ہی۔ عظیم الشان قوموں کی تاریخیں بھی عظیم الشان ہوتی ہیں ۔ ان پر اعتراض کرنے کی پوری پوری گنجائش بھی موجود ہوتی ہے۔ لیکن کیا تاریخ کی تلخیوں کو نظر انداز کرکے وحدت ملت کی کوشش ممکن نہیں ہے؟ کیا تاریخ جن کو رقم کرنے والے اب دنیا میں موجود نہیں ہیں انہیں مورد الزام ٹھہرا کر اپنی موجودہ نسل کو خونی اختلاف اور نفرت کی وراثت منتقل کی جانی چاہئے؟ کیا یہی دین کی خدمت ہے؟ ہرگز نہیں، بلکہ یہ نفاق ہے اور اسلام کی پیٹھ میں خنجر گھونپ نے والا عمل ہے۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت اسلام کے درمیان جس وحدت کی تعلیم فرمائی اسکا تقاضہ کیا ہے؟ سب سے پہلا تقاضہ اپنے بھائی کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور اسکے ساتھ حسن ظن رکھنا ہے۔ ایک مسلمان کی عزت و حرمت، مال اور خون دوسرے مسلمان پر حرام کر دئے گئے ہیں۔ اگر وحدت کے یہ عناصر ہماری فکر میں سرایت کر جائیں تو ہم اکرام مسلم کے علمبردار بن کر وحدت ملت کا تصور پھر زندہ کر سکتے ہیں ۔

 

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اسلام کے وحدتِ ملت کے نظریے کی مخالفت کرتے ہوئے بہت سارے ایسے سوشل میڈیائی نیٹ ورکس متحرک ہیں جو ملت کے شیرازے کو پارہ پارہ کررہے ہیں ۔ دونوں طرف سے ایسی زبان استعمال کی جارہی ہے جو مؤمنانہ فراصت کی ترجمان نہیں بلکہ منافقت کی واضح دلیل ہے۔ کچھ فیس بک پیجیز اس طرح تشکیل دئے گئے ہیں کہ دل صاف گواہی دیتا ہے کہ یہ خاص مقصد کے تحت تشکیل دئے گئے ہیں اور شاید ان کی تشہیر پر خاطر خواہ رقم بھی خرچ کی جا رہی ہے۔ جس طرح کی زبان ترک صدر اور فرماں روائے سعودی کے خلاف ان پیجیز پر استعمال کی جارہی ہے اور پھر اسکی تشہیر کی جارہی ہے وہ ایک مخلص مسلمان کا عمل اور اسکی زبان ہرگز نہیں ہو سکتے۔

 

اس حقیر کی اپنے تمام مسلمان بھائیوں سے درخواست ہے کہ ایسی ہر کوشش کی مخالفت کیجئے جو ملت اسلامیہ کے شیرازے کو بکھیرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اپنی فکر میں اعتدال کو قائم رکھیے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ ترک صدر سے یا سعودی حکمرانوں سے اختلاف نہ کریں ۔ اختلاف ہر زندہ دماغ کا حق ہے لیکن اختلاف اسلامی اصول اور اسلامی اخلاقیات کے حدود سے تجاوز نہ کرے یہ ہی اتباع دین ہے۔ ہم اپنے اختلاف رائے کے ذریعے امت کی وحدت کو نقصان نہ پہنچائیں یہ ہی ہمارا سب سے بڑا کمال ہے اور یہ ہی مؤمنانہ فراصت ہے جسکا اشارہ من يؤت الحكمة فقد أوتي خيرا كثيرا میں دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی اس امت کے حال پر رحم فرمائے اور منافقین کو نشان عبرت بنادے ۔ آمین ۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)