کئی سالوں بعد ترکی-یواے ای تعلقات میں بہتری

لندن :برسوں بعد دو مسلم ممالک ترکی اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پائیے جانے والے تناؤ میں کمی آئی ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہان نے اقتصادی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید نے اقتصادی تعاون کے کئی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں میں دونوں ممالک کی اسٹاک ایکسچینج کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ اور توانائی اور صحت کے شعبے میں تعاون کے ایگریمنٹس شامل ہیں۔ترکی کو توقع ہے کہ اس کی کمزور معیشت کو متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری سے سہارا مل سکتا ہے۔ ترک معیشت کو اس وقت بیرونی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ حالیہ کچھ عرصے میں ترک کرنسی کی قدر میں چالیس فیصد کمی رونما ہو چکی ہے۔ ترک اقتصاد کو افراط زر، بے روزگاری اور بیرونی قرضوں کے بڑے بوجھ نے دہرا کر رکھا ہے۔تین ہزار سے زائد مختلف اشیا ء کی دوکانوں والے اس صدیوں پرانے خریدو فروخت کے مرکز کی خاص بات یہ ہے کہ ایک ہی چھت کے نیچے کم وبیش ہر طرح کی اشیاخریدوفروخت کے لیے موجود ہیں۔جرمن اماراتی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اولیور اویہمز کے مطابق متحدہ عرب امارات اپنی سرکاری کمپنیوں کے ذریعے دنیا کے کئی ممالک میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ترکی، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب خانہ جنگی کے شکار شمالی افریقی ملک لیبیا اور مشرق وسطیٰ میں بھی مخالف گروپوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ایک سال قبل ترک وزیر خارجہ مولود کاؤس اولو نے متھدہ عرب امارات کو مشرق وسطیٰ اور لیبیا میں انتشار پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔