ترکی کی موجودہ معاشی صورت حال: عربی اور مغربی میڈیا کا سلگتا موضوع-محمد رضی الرحمن قاسمی

دنیا کے اکثر ملکوں کے پاس اپنی قومی کرنسی ہے، جس کرنسی میں اندرون ملک خرید و فروخت اور لین دین ہوا کرتا ہے، جیسے ہندوستان کی قومی کرنسی روپیہ ہے، اسی طرح ترکی کی قومی کرنسی کا نام ترکی لیرا ہے۔ امریکہ کی قومی کرنسی ڈالر ہے؛ لیکن امریکی ڈالر اور یورو وغیرہ وہ کرنسیاں ہیں، جو جہاں اپنے اپنے ملکوں کے اندرونی مالی معاملات میں استعمال ہوتی ہیں، وہیں بین الاقوامی لین دین میں بھی ان کو استعمال کیا جاتا ہے؛ گویا کہ دو ملکوں کے بیچ ملکی یا کمپنی یا شخصی سطح پر کوئی بھی لین دین ہو، اس کے لئے ڈالر یا یورو کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لئے بین الاقوامی سطح پر کسی بھی کرنسی کی قدر اور ویلیو میں ڈالر اور یورو وغیرہ معیار ہوتے ہیں، اور ان سے ہی دوسری کرنسیوں کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ مختلف معاشی، سماجی اور سیاسی -فطری یا مصنوعی- عوامل و اسباب کی وجہ سے ڈالر و یورو کے مقابل کسی بھی ملک کی قومی کرنسی کی قدر یعنی ویلیو بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے۔ جیسے ایک ڈالر چند سال پہلے ہندوستانی روپے میں 47 روپئے کے برابر ہوا کرتا تھا، اب جی ڈی پی GDP کے مستقل نیچے جانے اور دوسرے اسباب کی وجہ سے ان دنوں ایک ڈالر تقریباً 75 ہندوستانی روپے کے برابر ہو گیا ہے۔

 

گذشتہ دو دہائیوں میں ترکی لیرا

2003ء سے پہلے تک ترکی لیرا دنیا کی سب سے ہلکی قدر و قیمت والی کرنسی تھی، اس کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلہ میں حد درجہ کم تھی، ایک امریکی ڈالر تقریباً 1.3 ملین ترکی لیرا کے برابر ہوا کرتا تھا، 2003ء کے بعد سے کچھ معاشی بہتری آنے لگی، اسی سال قومی اسمبلی کے ذریعے اردوغان اور ان کی پارٹی معاشی رویلیوشن لائی، اور کرنسی سے چھ زیرو کم کیا گیا، چنانچہ بین الاقوامی قوانین کو ملحوظ رکھتے ہوئے نئی کرنسی بنائی اور چھاپی گئی اور 2005ء سے نئی کرنسی ملک میں چلنے لگی، 2005ء سے 2013ء تک ایک امریکی ڈالر کے برابر 1.34 سے 1.9 تک ترکی لیرا رہا۔

2014ء سے ترکی لیرا کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم ہونے لگی، لیکن کمی اور گراوٹ سست رفتار تھی، 2018ء میں اچانک زیادہ گراوٹ آئی اور ایک امریکی ڈالر 4.82 ترکی لیرا کے برابر ہوگیا، جس سے ملک کی معاشی صورت حال بگڑنے لگی، جس کو اردوغان گورنمنٹ نے مختلف تدبیروں سے قابو کیا؛ لیکن ڈالر کے مقابلے ترکی لیرا کی قدر اس کے بعد بھی مستقل دھیرے دھیرے گرتی رہی؛ لیکن 2021ء میں جب ترکی نے سود سے پاک اور ملک کی حقیقی ثروت کی بنیاد پر معاشی نظام قائم کرنے کا عزم ظاہر کیا، تولیرا کی قدر کی گراوٹ نے ڈرامائی صورت اختیار کرلی اور بالخصوص نومبر 2021ء کے آخری ہفتہ میں ترکی لیرا کی قدر اتنی گری ہے کہ اب ایک امریکی ڈالر 13.5 ترکی لیرا کے برابر ہوگیا ہے، اور ابھی بھی (تادم تحریر) ترکی لیرا کی قدر میں ٹھہراؤ کی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آ رہی ہے، جو ظاہری طور پر ایک معاشی بحران کی صورت حال پیدا کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

 

صدر اردغان کا موقف، عزم اور لائحۂ عمل

گزشتہ دنوں میں صدر اردوغان نے سود سے پاک اور ملک کے لیے مستحکم معاشی نظام کے قیام کے عزم کے تحت ظاہری طور پر اس معاشی بحران کی صورتحال میں بھی سینٹرل بینک کی شرحِ سود میں مزید کمی کر کے 15 فیصد کر دیا ہے اور اور واضح طور پر یہ عندیہ دیا ہے کہ ترکی حکومت نے جو عہد کیا ہے کہ ملک کے معاشی نظام کو سود سے پاک کیا جائے گا اورخیالی نمبر نہیں؛ بلکہ حقیقی چیزوں اور صنعتوں کی بنیاد پر قائم کیا جائے گا، اس سے ایک قدم بھی ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

البتہ نومبر 2021ء کے آخری ہفتے میں جو ترکی لیرا کی قدر میں بہت زیادہ گراوٹ آئی ہے، اس پر اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بیرونی طاقتیں بعض اندرونی غداروں کے ساتھ مل کر ترکی نئے نظام معیشت کو آنے نہیں دینا چاہ رہے ہیں اور افراط زر اور سود وغیرہ کی لعنت سے موجودہ نظام معیشت کو کریش اور تباہ کر دینا چاہ رہے ہیں۔ اس خدشے کے تحت متعلقہ اتھارٹی کو صدر اردغان نے یہ حکم دیا ہے کہ باریکی کے ساتھ اس کی تحقیق کی جائے کہ اس ناپاک سازش کے پیچھے کون غیر اور کون اپنے ہیں؟

 

صدر اردغان کے مخالفین کی رائے

متعدد یورپی ، امریکی، عربی سیاست اور معیشت کے ماہرین، اور صدر اردوغان کے مخالفین کی یہ رائے ہے کہ ایسی حالت میں جبکہ ترکی لیرا کی قدر خطرناک حد تک گر چکی ہے، جس سے ملک کی معیشت تباہ ہو رہی ہے، ملک میں اشیاء امپورٹ کرنے والے تاجروں کو نقصان ہو رہا ہے، افراط زر بھی 20 فیصد تک ہو چکا ہے، صدر اردوغان کو یہ کرنا چاہیے کہ فی الوقت سود سے پاک معاشی نظام کا خیال دل سے نکال دیں اور شرح سود جس طرح پہلے 24 فیصد تک تھی، سنٹرل بینک کو وہاں تک کرنے کر دیں ، اس سے بڑی بڑی پونجی والے، جو افراط زر کے خطرہ کی وجہ سے اپنے پیسوں کو ترکی کے بینکوں سے نکال کر دوسری جگہوں پر انویسٹ کر رہے ہیں یا ڈالر وغیرہ کی شکل میں اپنے پاس رکھ رہے ہیں، وہ شرح سود میں اضافے کی وجہ سے ان پیسوں کوترکی کے بینکوں میں بھی جمع کریں گے اور یہاں کی معیشت میں بھی ان پیسوں کو لگائیں گے، اس سے ترکی لیرا کی قیمت اور قدر میں اضافہ ہوگا۔

نیز یہ کہ افراط زر کم ہوگا اور لوگ جو مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہوتے جا رہے ہیں، ان کی پریشانی ختم ہوگی۔ مخالفین کا مزید یہ کہنا ہے کہ 2023ء میں ترکی میں انتخابات ہیں، صدر اردوغان اور ان کی پارٹی کی اس طرح کی اسٹراٹیجی جس سے ملکی معیشت تباہی کی طرف جارہی ہو اور عوام مہنگائی کی مار سے پریشان ہو، خود ان کے لیے اور ان کی پارٹی کے لئے نقصان کا سودا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عوامی سطح پر اردغان اور ان کی پارٹی کے خلاف غم و غصہ پھیلتا جا رہا ہے اور اردوغان اور انکی پارٹی کی مقبولیت میں بھی کمی آتی جا رہی ہے۔

 

صدر اردغان کے حامیوں کی وضاحت

صدر اردوغان کے حامیوں اور "ترکی کی سیاست، وہاں کی زمینی حقیقت، وہاں کی معیشت، صدر اردوغان کے عزائم پر نگاہ رکھنے والے بعض اسکالرز” کا کہنا ہے کہ گوکہ وقتی طور پر افراط زر بھی ہو رہا ہے، ترکی لیرا کی قیمت اور قدر میں کمی بھی آرہی ہے، جس سے تاجروں اور عام لوگوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؛ لیکن یہ پریشانی عارضی اور وقتی ہے، اور یہ سارے حالات -اگر ترک قوم مل جل کر، حوصلے کے ساتھ ان کا سامنا کرے- در حقیقت ترکی اور ترک لوگوں کے لئے بہترین مستقبل، سود سے پاک صاف اورفرضی نمبروں پر نہیں؛ بلکہ حقیقت پر مبنی معیشت کی، اور ایک نئی صبح کی تمہید ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سود کی لعنت سے پیچھا چھڑانے کے لیے جو قدم اٹھایا گیا ہے اس سے واپس پلٹنے کا کوئی مطلب نہیں ؛ بلکہ ایسا سوچنا بھی نہایت ہی بدترین قسم کا گناہ ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت سے ترک تاجر ایسا کر رہے ہیں اور اگر سب یہ کرنے لگیں کہ ترکی کی اندرونی معیشت – زراعت ،حرفت، صنعت، تجارت وغیرہ- میں انویسٹ کریں، تو رفتہ رفتہ ملک کی معیشت آگے بڑھے گی ، افراط زر کم ہوگا، ترکی لیرا کی قدر میں اضافہ ہوگا ، اوردولت و ثروت جب ان سرگرمیوں میں لگائی جائے گی، تو اس کا فائدہ بڑے پیمانے پر ملک کے عام و خاص لوگوں کو ہو گا۔

اگر شرح سود زیادہ رہے تو بڑے تاجر اور سرمایہ کار اپنے مال کو تجارت و صنعت میں لگا کر رسک اٹھانے کے مقابلے میں بینک میں رکھ کر زیادہ سود کھانے کو ترجیح دیں گے، جس سے جہاں دولت اور ثروت کا ارتکاز ہوگا اور اس کا فائدہ ملک کے دوسرے افراد کو نہیں پہنچے گا، وہیں بینک کے نظام کی وجہ سے حقیقت پر مبنی نہیں ؛بلکہ نمبروں پر مبنی معیشت بڑھتی جائے گی، جو فوری طور پر خوش نما محسوس ہوگی؛ لیکن مستقبل قریب ہی میں بے قابو افراط زر اور چیزوں اور کرنسی کے درمیان عدم توازن کا سبب بنے گی۔

نیز دنیا بھرکے معیشت کے ماہرین دبے لفظوں میں ہی سہی، اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ 2008 ء کی طرح بڑا معاشی بحران پھر دنیا میں آنے والا ہے اور جس طرح فرضی نمبروں پر مبنی بڑی بڑی معیشت اس بحران میں کریش کر گئی تھی اب بھی کریش کرے گی اور اگر ملک کی معیشت حقیقی صنعت ،زراعت اور تجارت پر مبنی ہوگی، جس کی اسلام پہلے دن سے دعوت دیتا رہا ہے، تو وہ معیشت عالمی بحران کی وجہ سے ہلکے دھچکے تو کھائے گی؛ لیکن کریش نہیں ہوگی۔

مزید یہ کہ اس ظاہری معاشی بحران کے دور میں بھی ترکی سے ایکسپورٹ ہونے والی چیزوں کی تجارت میں اضافہ ہوا ہے؛ کیونکہ لیرا کی قیمت کے کم ہونے کی وجہ سے ایکسپورٹرز کو خاصا فائدہ ہو رہا ہے جس سے کہیں نہ کہیں ملکی صنعت و تجارت کو کم یا زیادہ فائدہ ہو رہا ہے۔

پھر یہ کہ اگر صدر اردغان اور ان کی پارٹی ترکی اور ترک قوم کے لئے ان معاشی منصوبوں میں مخلص نہیں ہوتے، تو 2023ء کے انتخابات کو دیکھتے ہوئے ان میں نہیں پڑتے؛ ان معاملات کو انتخابات کے بعد پر اٹھا رکھتے، جب کہ 2023ء کے بعد معاہدۂ لوزان کے ختم ہونے کی وجہ سے کچھ سہولتیں بھی حاصلہوں گی؛ لیکن چونکہ ان منصوبوں کو پورا کرنا انتخاب سے زیادہ اہم ہے کہ ان میں ملکی معیشت کی بہتری اور ترک قوم کے لئے بھلائی ہے، اسی لئے بہت سارے خطرات کے ساتھ انتخابی مہم کو بھی خطرہ میں ڈال کر ان منصوبوں میں صدر اردغان اور ان کی ٹیم نے دیر نہیں لگائی۔

 

آخری بات

عربی اور مغربی میڈیا کی بیسیوں رپورٹس، سیکڑوں خبروں کو دیکھنے، سننے اور پڑھنے کے بعد جو بات میری سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر – اللہ عزوجل کے فضل سے- صدر اردغان اور ان کی ٹیم اندرونی غداروں، اوربیرونی طاقتوں سے اپنے اس معاشی منصوبے کوبچا کرنکل گئے، ترک عوام کے حوصلے کو بنائے رکھنے میں کامیاب رہے، ترک تاجروں کو اندرونی معیشت میں ہمت سے انویسٹ کرانے میں کامیاب رہے، تو چھ ماہ سے سال بھر میں ترکی کا معاشی منظرنامہ بالکل مختلف ہوگا، لیرا کی قیمت بھی بڑھے گی، افراط زر بھی کم ہوگا، ملکی معیشت حقیقی تجارت، صنعت اور زراعت وغیرہ کی بنیاد پر قائم ہوگی، جسے کوئی عالمی معاشی بحران کچھ نہیں کر سکے گا۔

لیکن اگر-خدا نخواستہ- صدر اردغان اور ان کے افراد کار غداروں یا بیرونی طاقتوں کے آگے اس معاشی جنگ میں چت ہوگئے، یا ترک عوام کو حوصلہ دلائے رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے، یا ترک تاجروں سے ملکی معیشت میں انویسٹ نہ کروا سکے، تو ترکی کی معیشت بہت بری طرح تباہ ہوجائے گی، جس کو پھر سے اٹھانا برسوں تک آسان نہیں ہوگا اور 2023ء میں صدر اردغان اور ان کی "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی” کا سیاسی مستقبل ختم ہو جائے گا۔

(الجزیرہ کے دسیوں مضامین و نشریے، بی بی سی عربی کی رپورٹ اور مضامین، اینڈیپنڈنٹ عربی کے مقالے، عکاظ، الریاض کے بعض مقالے، ترکی کے عربی میں جاری کردہ حکومتی بیانات، وکی پیڈیا وغیرہ سے مستفاد معلومات پر مبنی تجزیہ)