ترکی:گولن نیٹ ورک سے تعلق کا شک،150سے زائد افراد کی گرفتاری کے احکام جاری

انقرہ:ترکی کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے منگل کے روز درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاریاں 167 مشتبہ افراد کی تلاش کے دوران ہوئیں جن میں اکثریت حاضر سروس فوجیوں کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایک مذہبی شخصیت کے حامیوں کو نشانہ بنانا ہے۔ ترکی کی حکومت مذکورہ شخصیت پر 2016ء میں فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرتی ہے۔ تازہ ترین کارروائی اس مہم کا حصہ ہے جو امریکہ میں مقیم مذہبی اسکالر فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کے لیے گذشتہ چار برسوں سے جاری ہے۔ گولن کی جانب سے اس بات کی تردید کی جاتی رہی ہے کہ جولائی 2016ء میں انقلاب کی ناکام کوشش میں ان کا کوئی کردار تھا۔ اس دوران 250 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
ترکی کے سرکاری نیوز چینل TRT کے مطابق حکام نے ازمیر صوبے میں 110 مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے مہم کا آغاز کر دیا جن میں 89 کو پکڑ لیا گیا ہے۔ مشتبہ افراد میں فضائیہ کے پائلٹ کے علاوہ کرنل اور لیفٹننٹ کرنل کے عہدے کے افسران بھی شامل ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی اناضول کے مطابق گولن کے حامیوں کو نشانہ بنانے کے مقصد سے ایک دوسرے آپریشن میں پولیس 15 صوبوں میں 57 افراد کی تلاش میں مصروف ہے۔ ان میں 32 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد سے اب تک 80 ہزار افراد حراست میں لیے جا چکے ہیں۔ ان کے علاوہ انقلاب میں ملوث ہونے کے شبہ میں تقریبا 1.5 لاکھ ریاستی ملازمین اور فوج کے اہل کاروں کو ان کی نوکریوں سے برخاست یا معطل کیا جا چکا ہے۔ ترکی کی فوج سے 20 ہزار سے زیادہ اہل کاروں کو فارغ کیا گیاہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*