ترکی: بغاوت کیس میں سابق فوجی جنرلوں کو عمر قید کی سزائیں

انقرہ:
ترکی کی ایک عدالت نے بدھ 30 دسمبر کو 2016 میں بغاوت کی کوشش کرنے میں مبینہ کردار کے لیے بعض سابق فوجی جرنیلوں سمیت درجنوں افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کا تعلق انقرہ میں بری فوج کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے واقعات سے تھا جس کی سماعت 2017 میں شروع ہوئی تھی۔ اس میں 132 مدعا علیہان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔جن 92 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے اس میں بعض سابق سینیئر فوجی افسران بھی شامل ہیں۔ اس میں سے 12 فوجیوں کو ایسی سخت عمر قید سزا سنائی گئی ہے کہ انہیں پرول ملنے کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ سرکاری نیوز ایجنسی اناطولیہ کے مطابق اس میں بری فوج کے ایسے درجنوں فوجی شامل ہیں جو اپنی یونٹوں کے سربراہ تھے۔ 2016 میں صدر رجب طیب ایردوان کی حکومت کا تختہ پلٹنے کے مقصد سے بغاوت کی جو کوششیں کی گئیں اس میں 250 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس ناکام بغاوت کے دوران نافرمان اور باغی فوجیوں نے جنگی طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں پر قبضہ کرنے کے بعد ریاستی اداروں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔بدھ کے روز ہی عدالت نے بعض دیگر افراد کو عمر قید کے بجائے 19 سے 28 برس کی معیاد کی بھی سزائیں سنائی ہیں۔ اس میں سے تین افراد کو ایک اور مقدمے کا سامنا ہے جبکہ نو دیگر افراد کو بری کر دیا گیا ہے۔جن افراد پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ان پر اقدام قتل کی کوشش اور ایک ممنوعہ مسلح دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ گزشتہ ماہ عدالت نے بغاوت کی کوشش کرنے والے ان رہنماؤں کو الگ سے جیل کی سزائیں سنائی تھیں جن کے بارے میں صدر ایردوان کا کہنا ہے کہ وہ امریکا میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گلن کے حامی ہیں۔ترکی کی وزارت داخلہ کے مطابق فتح اللہ گلن سے مبینہ روابط رکھنے کے سلسلے میں تقریبا ًدو لاکھ 92 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جس میں سے تقریبا ًایک لاکھ افراد پر مقدے کی سماعت ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اس لیے وہ اب بھی جیلوں میں ہیں۔بغاوت میں حصہ لینے کے الزام میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ سرکاری ملازمین کو بھی یا تو برخاست کردیا گیا یا پھر انہیں معطل کر دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں عدالت نے اب تک ڈھائی ہزار افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے جبکہ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ بغاوت کی کوشش کے الزام میں تقریباً بیس ہزار افراد کو فوج سے نکال دیا گیا ہے۔