ترک ناداں رجب طیب اردگان کا فیصلہ ـ فتح محمد ندوی

خندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیں
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں۔
(اقبال)
ترک قوم اور اس کے حکمرانوں نے جہاں اپنے بےمثال اور آہنی دست و بازو سے فقیدالمثال کارناموں اور ہوش مند قائدانہ کردار اور صلاحیت سے اسلام کی حفاظت،حقانیت اور بقا کے فرائض انجام دیے۔ اسی طرح اپنی غیرت اور حمیت کے ثبوت کی خاطر صدیوں دنیا سے جنگیں لڑی ہیں اور ہر حال میں وہ اپنے ہرمشن میں اپنی جابنازی اور بہادری، دور اندیشی اور مسقبل کی ادا شناسی کا خوبصورت اور تاریخ ساز ثبوت پیش کرانے میں کام یاب رہے۔ تاہم کچھ فیصلے ترک حکمرانوں نے ایسے غیر ذمہ دارانہ اور ناعاقبت اندیشانہ کیے ہیں جن سے پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی جگ ہنسائی بلکہ رسوائی اور ہزیمت کا باعث بنے۔ خود ترک قوم کو اپنی ہی سرزمین میں اپنے حکمرانوں کے ان فیصلوں سے خون کے آنسو بہانے پڑے۔ ہنوز انہیں ان کے حکمرانوں کے غلط فیصلوں کی سزا مل رہی ہے۔
پہلی جنگ عظیم میں ترک ناداں فرانس اور برطانیہ کے مقابلے میں جرمنی کے اتحادی بنے۔ آخر اس اتحاد کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس شکست کی وجہ سے ترکی قوم اپنی معاشی بدحالی اور قومی بحران کی وجہ سے بے یارومددگار اور مفلوک الحال ہوگئی۔ شکاری درندے اس کی تلاش میں مدت سے تاک میں بیٹھے تھے انہوں نے موقع ملتے ہی اس کے ٹکڑے بخرے کردیے۔
اب ترک قوم جو دنیا میں اسلام کی نمائندگی کے حوالےسے قائدانہ کردار ادا کر رہی تھی اس کو اپنے وجود کی بقا کی جنگ لڑ نی پڑگئی۔مزید رہی سہی کسر کو مصطفیٰ کمال پاشا نے خلافت ختم کرکے ذلت کا ہار ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے گلے میں ڈال دیا۔ اقبال نے اسی موقع پر کہا تھا:
چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
یہ کہانی نہیں بلکہ واقعہ ہے کہ گزشتہ سالوں میں تر کی کے مرد آہن صدر رجب طیب اردغان کے حوالے سے جو قیادت دیکھنے کو ملی وہ یقینا عالم اسلام اور خاص طور پر عالم عرب کے لئے لا ئق تقلید بھی تھی اور نمو نہ بھی؛کیونکہ طیب اردغان کا سب سے بڑا کا رنامہ مو جودہ دنیا کے سنگین حالات اور بحران میں یہ ہے کہ انہوں نے بیک وقت دو اہم کام انجام دیے۔ ایک تو بذات خود اپنے ملک تر کی کو کئی مر تبہ اندرونی طو ر پر آپسی خانہ جنگی اور دشمنوں کی چالوں اور مکر و فریب سے بچایا،کیو نکہ تر کی آ ج سے نہیں بلکہ خلافت عثما نیہ کے وقت سے ہی دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا ہے اور اس کو توڑ نے کے لئے ہر ممکن کو ششیں ہو تی رہی ہیں بلکہ توڑنے میں کامیابی بھی ہوئی اور اس وقت بھی تر کی کو اندرونی طور پر سازشوں کا سا منا ہے، لیکن طیب اردغان کی فہم وفراست نے ان حساس اور نازک حالات میں بھی دشمنوں کی تمام تر مذموم کوششوں کو ناکام کر کے مثالی قیادت کا نہ صرف عملی نمونہ پیش کیا ہے بلکہ تر کی کو اقتصادی میدان میں معاصر تر قی یا فتہ ملکوں کی صف میں لا کر کھڑا کر دیا اور اس وقت تر کی مسلم دنیا کا ایسا واحد ملک ہے جو دنیا میں کسی ورلڈ بینک یا ملک کا مقروض نہیں ۔ اسی طرح رجب طیب ارد غان کے اوپر اس بات کے لئے امریکہ نے دباؤ بنا یاتھاکہ وہ عراق پر حملہ کر نے کے لئے تر کی میں فو جی اڈے فراہم کرے۔ اس وقت بھی انہوں نے نہایت ہی حکمت عملی سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اڈے دینے سے منع کر دیا تھا ۔دوسری طرف پوری دنیا کے مسلمانوں کے تعلق سے اور خاص طور پر مشر ق وسطی، مصر ،شام برماوغیرہ میں عملی تعاون اور اظہار ہمدردی کی جو مثالیں ہمیشہ عملی طور پر ان کی طرف سے د یکھنے کو ملتی ہیں،اس سے ان کی جرأت اور مسلم امہ کے تئیں ان کی بے چینی اور کرب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
اس وقت رجب طیب اردگان کی افغان پالیسی اور ناٹو کے ساتھ افغانستان میں ایک گروپ کے دفاعی فیصلہ میں فوجی تعاون اور حمایت دنیا کے ہر امن پسند انسان کے لیے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس فیصلے کی کشمکش میں مبتلا لوگ کوئی رائے قائم نہیں پارہے ہیں کہ آخر رجب طیب اردغان اس برادر کشی میں شامل ہوکر کیوں اپنے ہاتھ بے گناہ اور معصوم انسانوں کے خون سے سر خ کررہے ہیں۔ ان کے آخر کیا مفاد ہیں۔ کیا عزائم ہیں کیا خوف اور خطرہ ہے۔ کیا ان کے کسی خوف اور خطرے کے پیش نظر معصوم انسانوں کے خون بہانے کو جواز فراہم ہوسکتا ہے؟ہر گز نہیں، کیاکو ئی پالیسی انسانوں سے زیادہ قیمتی اور محترم ہوسکتی ہے؟تو اس کا جواب بھی نفی میں ہو گا۔ تمام پالیسی اور مفاد کو انسانوں کی جانوں کے احترام اور تقدس کے لیے قربان کیا جا سکتا ہے۔تو کیا رجب طیب اردگان انسانوں کا احترام اور قدر بھول گئے؟ اور ایک مرتبہ پھر ترک ناداں نے انسانیت کی قدروں کا احترام اور اس کا تحفظ اپنے قدموں تلے روند ڈالا اور پوری دنیا ئے اسلام کو پھر اپنے فیصلے سے رسوا کر دیا؟
لوگ رجب طیب اردغان کے اس فیصلے کی بہت سی تاویلیں اپنی اپنی سوچ، عقیدت اور معلومات کے مطابق کررہے ہیں۔ کسی پر محبت غالب ہے اور کسی پر دشمنی غالب ہے۔ انھی ملے جلے جذبات کی روشنی میں وہ اس کو غلط یا صحیح قرار دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے میں بغیر کسی معذرت اور طرف داری کے یہ کہوں گا کہ ہم کسی صریح ظلم کے سامنے کسی ظالم کی حمایت اور ہمدردی اور اپنی بے پناہ عقیدت اور محبت کے باوجود نہیں کرسکتے ہیں۔ ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے کہ اگر آنکھوں کے سامنے ظلم ہو رہا ہو اور ظالم کی کچھ بھی نیت ہو ۔کیسا بھی خلوص ہو ہم اس کی ایک لمحے کے لیے بھی حمایت نہیں کرسکتے ہیں۔ضروری نہیں کہ ہر انسان کے تمام فیصلے درست ہوں یا درست مان لیے جائیں۔ غلطی ہر انسان سے ہوسکتی ہے۔
رجب طیب اردغان کے سامنے یقیناً بہت سے چیلنج اور محاذ ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن افغانستان کے حوالے سے ہمارے ذہنوں میں سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ ہم کسی مصلحت اور مفاد کی خاطر یہ گوارا نہیں کرسکتے کہ ناحق ایک انسان کی موت آپ کی حمایت اور اتحاد میں چلی جائے۔ آپ کتنے بھی دور اندیش اور عقل مند ہیں لیکن انسانی جانیں ہمارے لیے آپ سے زیادہ محترم ہے۔اقتدار بدلتے رہتے ہیں یہ زمین اور کائنات اللہ تعالی کی ملکیت ہے اس پر کسی کی اجارہ داری قائم نہیں بڑے بڑے عقلند اور ملک گیری کے خواب اور گمان میں دنیا پر اپنی دھونس جمانے کے چکر میں نیست و نابود ہوگئے۔
معلومات میں صرف اضافہ کی خاطر یہ بات بڑی اہم ہے کہ ترکی قطر اور اسی طرح آذربائیجان کا اتحادی اور حلیف ہے اور قطر افغانستان کے دونوں متحارب گروپوں میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس حوالے سے قطر کا بڑا رول لگتا ہے کہ ترکی کا افغانستان میں موجود ہونا کچھ دال میں کالا ہے۔تاہم جب تک مطلع صاف نہ ہو جائے ہم رجب طیب اردغان کی حمایت نہیں کرسکتے۔
ہوسکتا ہے عام عادت کے مطابق مجھے کچھ لوگ یہ کہدیں کہ آپ نے جذبات سے کام لیا ہے۔ ہاں میں جذبات کے اس الزام کو اپنے سر رکھنے کو تیار ہوں ۔تاہم میرا مقصد اس حوالے سے یہ ہے کہ ترکی کے اس فیصلے کے حوالے سے غور وفکر کے ساتھ سنجیدگی سے اس پر گفتگو ہونی چاہیے کہ آخر اس کے پس پردہ کیا معاملہ ہے؟