ترپ کا پتہ-ممتاز میر

 

7697376137

کوئی مانے یا نہ مانے، ہم یہ مانتے ہیں کہ سنگھ پریوار اور پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کے بڑے قریبی تعلقات ہیں۔اس سے بھی آگے بڑھ کر ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ تنظیمیں اپنے رنگروٹوں کو ٹریننگ کے لئے یہاں سنگھ کی نرسریوں میں بھیجتی ہیں؛کیونکہ اس طرح کی تربیت کے لئے حکومتیں جو آسانیاں یہاں فراہم کرتی ہیںاب وہ پاکستان میں کہاں؟اس لئے جب بھی بی جے پی کی حکومت کسی طرح کے سنکٹ میں آتی ہے،ایک اشارے پر وطن عزیز میں دہشت گردانہ حملہ ہو جاتا ہے۔پھر یہ بھی دیکھا جائے کہ مسعود اظہریہاں بڑے امن و چین سے رہ رہے تھے، جیسے ہی ان کے ساتھیوں کو ان کی ضرورت پڑی کس نے انھیں ساتھیوں کے پاس لے جا کر چھوڑا تھا؟اگر کھوداجائے تو ہر دہشت گردانہ حملے کی قبر سے اسی قسم کا کوئی مردہ برآمد ہوگاسوائے بارہ مارچ1993کے ممبئی بم دھماکوں کے ۔یہ حملہ یقیناً داؤداور آئی ایس آئی کا کارنامہ تھا۔مگر اس کی شناعت اس لئے کمزور پڑ جاتی ہے کہ حکومت نے رد عمل دینے والوں کو تو پھانسی پر چڑھا دیا، مگرجن کے عمل کا یہ رد عمل تھا وہ آج بھی مسلمانوں کے سینوں پر مونگ دل رہے ہیں۔
اکشر دھام مندر پر 24ستمبر 2002کودہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا، جس میں انھوں نے تیس افراد کو موت کی نیند سلا دیا تھا ۔پھر حفاظتی دستوں کی کارروائی میں خود بھی موت کی نیند سو گئے تھے۔اس حملے نے میڈیا کی نظر اور لوگوں کے سوالات کا رخ موڑ دیا تھا ۔1999 میں پاکستانی فوج نے وطن عزیز کے کارگل سیکٹرپر حملہ کر دیا تھا (مگر اس کے باوجودہم نے شکر کی درآمد بند نہیں کی تھی، حالت جنگ میں بھی نواز شریف کی شکر ہندوستان پہنچ رہی تھی)اس میں پاکستان کی فوج نے کارگل کی چوٹی پر واقع ہندوستانی چوکی پر قبضہ کر لیا تھا ۔ وہ اوپر تھے اور ہم نیچے ۔ظاہر ہے اس صورتحال میں ہمارا جانی نقصان بہت زیادہ ہوا۔ فوت شدہ فوجیوں کو رکھنے اور ٹرانسپورٹیشن کے لئے تابوت امریکہ سے منگوائے گئے تھے۔ دسمبر2001میںکمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل نے ان تابوتوں کی خریداری میںبڑے پیمانے پر بدعنوانی کا انکشاف کیا۔انھوں نے بتایا کہ تابوت 172 ڈالر میں خریدا جا سکتا تھا، مگر قریب پندرہ گنا زیادہ قیمت دے کر 2500ڈالر میں خریداری کی گئی۔یہ اسٹوری بارہ دسمبر2001 کے ٹائمس آف انڈیا میں غالباٍ پہلی بار شائع ہوئی۔سات جنوری 2002 کی اشاعت میں انڈیا ٹوڈے نے اسے لیڈ اسٹوری بنایا۔اب کیا تھا اپوزیشن بی جے پی پر پل پڑی،اسی وقت ہمارے آج کے وزیر اعظم اپنی سیاسی زندگی کی شروعات کر رہے تھے۔ انھوں نے بھی سیاسی زندگی میں اپنے قدم جمانے کے لئے آگ و خون کا سہارا لیا ۔کیگ رپور ٹ سے توجہ ہٹانا بھی ان کاایک مقصدہو سکتا ہے ،مگر دونوں وجوہات مل کر بی جے پی کو اور بڑی مصیبت میں پھنسا گئے۔اب اپنے تربیت یافتہ بچے یاد آئےاور اکشر دھام مندر پر حملہ ہوگیا۔ ہم بے وقوف ہندوستانی سب کچھ بھول بھال کر پاکستان اور’اسلامی‘دہشت گردی کے پیچھے پڑ گئے،زعفرانیوں کا مقصد پورا ہو گیا ۔
اسی طرح کا حملہ 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں بھی ہوا۔مالیگاؤں ،واشی ،پنویل،تھانے وغیرہ بم دھماکوں کی تفتیش بڑے امن و شانتی سے چل رہی تھی۔مسلم دہشت گردوں کوٹارگٹ کرکے ہر کام ہو رہا تھا ۔ معلوم نہیں وزارت داخلہ کو کس کیڑے نے کاٹا ۔انھوں نے کہانی میں ہیرو کی بجائے کرکرے نامی ایک ویلن کی انٹری کردی۔انھوں نے کرکرے کو ATSچیف بنا دیا ۔ان صاحب کو ہر معاملہ سوفٹ ٹارگٹ یعنی مسلمانوں پر ڈالنا پسند نہ آیا۔انھوں نے اپنے اسٹاف سے کہا کہ ائر کنڈیشنڈ روموں میں بیٹھ کر کہانیاں نہ بناؤ۔بھاگو دوڑو ،تفتیش کرو اور اصل مجرموں کو پکڑو۔بس یہیں سے ساری مصیبت کا آغاز ہوا۔سادھو اور سادھوی سارے کچے دھاگے سے بندھے آنے لگے۔دو لوگ فرار بھی بتائے گئے ،جو آج تک فرار ہی ہیں۔لگتا ہے انھیں اسی وقت سنیل جوشی کے پاس روانہ کر دیا گیا تھا ۔ورنہ اب تو اپنے سیاں ہی کوتوال ہیں،انھیں بھی کلین چٹ مل جاتی،خیر یہاں تک تو پھر بھی غنیمت تھا،مگر ویلن نے اپنی اوقات سے بڑھ کر جرا ٔت کا مظاہرہ کیا۔سنگھ کے دگج اندریش کمارکی گردن تک بھی ہاتھ پہنچنے کی خبریں پریس تک پہنچی،سنگھ میں زلزلہ آگیا، ایڈوانی جی حرکت میں آئے،پیارے منموہن سے ملاقات کی ،ویلن تو ویلن ہوتا ہے کسی کی بات مانتاہے کیا۔اب جیسا کہ سابق آئی جی پی مہاراشٹر نے اپنی کتاب میں شبہ ظاہر کیا ہے ، پاکستان میں اپنے شاگردوں کے پاس ہرکارے دوڑائے۔وہاں سے ایک ’وفد‘ بذریعہ بوٹ آیااور تاج ہوٹل و نریمن ہاؤس میں کارروائیاں شروع کیں،جب ان کارروائیوں کا شور بلند ہوا، تو چھتر پتی شیواجی مہاراج ٹرمینس کے پاس ویلن کا صفایا کردیا ۔سوالات اٹھانے والوں نے بہت سوال اٹھائے کہ ویلن کو اس گلی میں کس نے بھیجا تھا ؟ بلٹ پروف جیکٹ کہاں گیا ،وغیرہ ۔مگر جب سیاں بھئے کوتوال ! مشرِف صاحب کا سارا زور اس بات پر تھا کہ یہ مراٹھی بولنے والے دہشت گرد مقامی تھے۔ہم کہیں گے صاحب جب یہاں کی نرسریوں میں زبان سے بھی بڑی چیزیںاپنے شاگردوں کو سکھائی جا سکتی ہیں، تو مراٹھی زبان کیا چیزہے۔اب تو مہاراشٹر میں دشمنوںکی حکومت ہے ۔ممبئی پولس اپنی Investigation کے لئے مشہور رہی ہے ،تفتیش کروالیں۔
اب آئیے تازہ ایپی سوڈ کی طرف ،پلوامہ حملہ،وطن عزیز کا ہر باخبر شخص،سوائے اندھ بھکتوں کے یہ سمجھتا ہے کہ یہ حملہ الیکشن جیتنے کے لئے کیا گیا تھا یا کروایا گیا تھا۔مگر اس پر اتنے سوال اٹھے کے بی جے پی کو جواب دینا مشکل ہو گیا ۔سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ جب وہ لوگ ہوائی سفر کرنا چاہتے تھے جس میں خرچ بھی کم تھا خطرہ بھی کم تھا سہولت بھی زیادہ تھی تو پھر زبردستی بائے روڈ جانے پر کیوں مجبور کیا گیااسّی کلو گرامHigh Grade RDX آیا کہاں سے ؟وزیر داخلہ جناب راجناتھ سنگھ نے خود کہا تھا کہ جب فوجی قافلے چلتے ہیں توان سڑکوں پر شہری ٹرافک کا داخلہ بند کر دیا جاتا ہے۔پھر یہ آر ڈی ایکس بھری کار سڑک پر کہاں سے آگئی؟کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ جدید ترین بری اور فضائی خصوصیت کی حامل کار ہو۔اگر ایسا ہے تو یہ بڑی خراب بات ہے کہ ہمارے شاگرد تو اتنے ترقی یافتہ ہوں اور ہم رہیں پھسڈی کے پھسڈی۔بہرحال ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس حملے کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ مل سکا اور اسی پرانے آزمودہ نسخے یعنیEVM کا سہارالینا پڑا۔
اب آج کے حالات پر نظر ڈالئے۔بی جے پی یا سنگھ پریوار پھر اندھی گلی میں داخل ہوگئے ہیں،ہمارا دل دہل رہا ہے یہ سوچ کر کہ شاید پھر اسی سنکٹ موچن ترپ کے پتے کا سہارا لیا جائے گا ،پھر کہیں بم دھماکے یا دہشت گردانہ حملہ کرایا جائے گا ،پھر معصوم مسلم نوجوانوں کی دھر پکڑہوگی،پھر ان پر ٹارچر کے پہاڑ توڑ کر اقبالیہ بیانات لئے جائینگے،اب تو عدالتیں بھی ’اپنی‘ہو چکی ہیں،بڑی آسانی سے ان اقبالیہ بیانات کی بنیاد پر انھیں پھانسی پر چڑھا دیا جائے گا ۔ایک خبر یہ بھی ہم تک پہنچی ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک ایک چھوٹی سی controlled فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں،جس سے دونوں ممالک کے حکمرانوں کے مسائل حل ہو سکیں۔خدا خیرکرے!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*