تو زندگی کے برے تجربات میں سے ہے ـ عمیر نجمی

 

تُو زندگی کے بُرے تجربات میں سے ہے

تجھے بھُلانا تو ناممکنات میں سے ہے

 

خبر میں جن کی لکھا ہوتا ہے، "کوئی نہ بچا”

تمہارا ہجر اُنہی حادثات میں سے ہے

 

مرے لئے ہے اندھیرا بھی روشنی کی طرح

یہ روشنائی، خدا کی دوات میں سے ہے

 

میں جلد چھوڑنے والا ہوں سب بُری عادات

تجھے نہیں کہ تو مستثنیات میں سے ہے

 

ہمارا بخشا ہوا عشق تجھ سے کرتا ہے وہ

تجھے جو قرض مِلا ہے، زکوٰۃ میں سے ہے

 

معاف کرنا! یہ کرتے ہو جس کے نام پہ قتل

معاف کرنا اُسی کی صفات میں سے ہے

 

ہمیں تو گریہ بھی لگتا ہے سہل، اور یہ چیز

ہماری چند بڑی مشکلات میں سے ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*