تم ہی نے درد دیا ہے، تم ہی دوا دینا – معصوم مرادآبادی

 

بمبئی ہائی کور ٹ کے تاریخ ساز فیصلے کے بعد اب الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مظلوموں کی داد رسی کا کارنامہ انجام دیا ہے۔پہلے تبلیغی جماعت کے کارکنوں کو بری کیا گیا اور اب ڈاکٹر کفیل خاں کے خلاف عائد الزامات مسترد کرکے انھیں رہا کردیا گیاہے۔ انصاف پر مبنی ان دونوں فیصلوں سے عدلیہ پر ان لوگوں کا اعتماد بحال ہوا ہے جووطن عزیز میں مسلسل ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔ دونوں ہی معاملوں میں عدالت عالیہ نے جو تبصرے کئے ہیں، وہ ان لوگوں کے زخموں پر مرہم کی حیثیت رکھتے ہیں جو پچھلے ایک عرصہ سے اس ملک میں خود کو بے یار ومددگار محسوس کررہے تھے۔ ان معاملوں میں عدالت عالیہ نے جو کچھ کہا ہے، اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ایک طرف جہاں ڈاکٹر کفیل پر اشتعال انگیزی اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے الزامات جھوٹے تھے تو وہیں تبلیغی جماعت کے لوگوں کو ’کورونابم‘ اور’کورونا جہادی‘ قرار دینے کا مطلب مسلمانوں کو نشانہ بناناتھا۔اب یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری مشینری، پولیس اور میڈیا میں موجود جن متعصب اور مسلم دشمن عناصر نے یہ کھیل کھیلا تھا، انھیں کیا سزا ملے گی اور متاثرین کی بازآبادکاری کا کیا نظام ہوگا۔حالانکہ موجودہ حالات میں یہ سوال اس اعتبار سے بے معنی معلوم ہوتا ہے کہ جب حکومت کی پالیسی ہی کسی فرقہ کو اس کے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر نشانہ بنانا ہو تو ایسے میں خیر کی امید کس سے کی جاسکتی ہے۔لیکن یہاں بڑا سوال یہ ہے کہ جب حکومتیں عوام سے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا معاوضہ وصول کررہی ہیں تو عوام کا بھی حق ہے کہ وہ اپنے دستوری حقوق کا سہارا لے کر اپنے خلاف قائم کئے گئے جھوٹے مقدمات کا معاوضہ حکومت سے طلب کریں اور ان متعصب افسران کو سزا دلائیں، جو اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کے تحت اس ملک کی اقلیتوں کو ظلم اور نا انصافی کا شکار بنا رہے ہیں۔

آپ کے علم میں ہے کہ پچھلے دنوں اترپردیش میں شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی کے خلاف احتجاجی تحریک میں حصہ لینے والوں پر صوبائی حکومت نے سخت کارروائی کی تھی۔ ان پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمات قائم کئے گئے تھے اور کئی لوگوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیاگیا تھا۔ ان میں سرکردہ سماجی کارکن ایس آرداراپوری، صدف جعفر اوررہائی منچ کے کنوینر محمدشعیب ایڈووکیٹ سمیت درجنوں سرکردہ لوگ شامل تھے۔پولیس نے ان لوگوں کو ہراساں کرنے کے لئے ان کی تصاویر عادی مجرموں کی طرح چوراہوں پر آویزاں کیں۔ بعد کو جب الٰہ آباد ہائیکورٹ نے ان تصویروں کو ہٹانے کا حکم دیا تو حکومت ہٹ دھرمی پر اتر آئی۔اترپردیش میں آج بھی سی اے اے مخالف تحریک میں حصہ لینے والے کارکنوں پر مقدمات چل رہے ہیں اور جولوگ ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آئے ہیں، ان کے خلاف قرقی کے وارنٹ جاری ہوچکے ہیں۔ان لوگوں سے بھاری معاوضے طلب کئے جارہے ہیں۔

ظاہر ہے جن لوگوں نے شہریت قانون میں کی گئی ایک قطعی فرقہ وارانہ ترمیم کے خلاف محاذ کھولا تھا، وہ اپنے جمہوری اور دستوری حق کا ہی استعمال کررہے تھے، لیکن صوبائی حکومت نے ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا اور ان کاجینا حرام کردیا گیا۔ یہ کارروائی جمہوری اور دستوری حقوق پر براہ راست حملہ تھا،جس کے خلاف پورے ملک کے انصاف پسند حلقوں نے آواز اٹھائی۔یوپی پولیس کے بعد اب دہلی پولیس یہی کام کررہی ہے۔ اس نے یہاں سی اے اے مخالف تحریک میں حصہ لینے والے تمام سرکردہ سماجی کارکنوں کو نارتھ ایسٹ دہلی کے فساد کا ملزم بنادیا ہے اور ان کے نام باقاعدہ ایف آئی آر میں شامل کرلئے ہیں۔ ان سرکردہ لوگوں میں ہرش مندر، پروفیسر اپوروا نند اورپروفیسر یوگیندر یادو جیسے انسانی حقوق کے عالمی شہرت یافتہ کارکن بھی شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنی زندگیاں مظلوموں کوانصاف دلانے کے لئے وقف کررکھی ہیں۔ ان کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جے این یو کے کئی طلباء کو بھی فساد کا ملزم بناکر جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ ان لوگوں پر دہشت گردی مخالف قانون یو اے پی اے کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔پولیس ان کی ضمانت عرضیوں کی شدت کے ساتھ مخالفت کررہی ہے۔ اس کے برعکس بی جے پی کے ان لیڈروں کے خلاف کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی ہے، جنھوں نے فساد بھڑکانے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ اس معاملہ میں عدالتوں نے پولیس کے جانبدارانہ رویہ پر سوال بھی کھڑے کئے ہیں، لیکن پولیس حکمراں جماعت کے تمام سیاسی مخالفین کو چن چن کر نشانہ بنا رہی ہے۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے بے قصور لوگوں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کئے ہیں بلکہ پولیس سماج کے کمزور طبقوں بالخصوص مسلمانوں کے معاملے میں کھلی جارحیت کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی جیلیں مسلمانوں سے بھری ہوئی ہیں۔ نیشنل کرائم بیورو کی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندوستانی قید خانوں میں مسلمانوں کا تناسب ان کی آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔ملک کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب14فیصد ہے تو جیل خانوں میں وہ 18فیصد سے زائد ہیں۔ملک میں جب بھی دہشت گردی مخالف تادیبی کارروائیاں ہوتی ہیں تو سیکورٹی ایجنسیاں مسلمانوں پر ہی ہاتھ ڈالتی ہیں۔حالانکہ ایسے بیشتر معاملات میں عدالتوں نے مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کیا ہے اور انھیں کلین چٹ دی گئی ہے، لیکن پولیس نے اپنی روش نہیں بدلی ہے اور پرانے ڈھرے پر ہی چل رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ پولیس جن بے گناہوں کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کرکے برسوں جیلوں میں رکھتی ہے، وہ جب عدالتوں سے باعزت بری ہوجاتے ہیں تو ان کی زندگی کے قیمتی سال ضائع کرنے اور ان پر جھوٹے مقدمات قائم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟آپ کو یاد ہوگا کہ کئی برس پہلے دہلی کے ایک نوجوان محمدعامر کو عدالت نے دہشت گردی کے الزامات سے بری کیا تھا تو اس وقت بھی یہ سوال پوری شدت کے ساتھ اٹھا تھا کہ آخر اس نوجوان کی زندگی برباد کرنے والوں کو کیا سزا ملے گی۔ اس نوجوان نے چودہ برس جیل میں گزارے تھے۔اب ایک بار پھر یہ سوال منہ پھاڑے کھڑا ہے کہ پولیس جس طرح سی اے اے مخالف تحریک میں حصہ لینے والوں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرکے انھیں جیلوں میں ڈال رہی ہے، وہ جب ثبوتوں کے فقدان کی وجہ سے رہا ہوں گے تو ان کی زندگی برباد کرنے کا معاوضہ انھیں کون دے گا؟

ہمارے سامنے اس کی دو تازہ مثالیں موجود ہیں۔ پہلا غیر ملکی تبلیغی کارکنوں کے معاملے میں بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ کا تاریخی فیصلہ ہے جس میں عدالت عالیہ نے پولیس، میڈیا اور سرکاری مشینری کو لتاڑ لگائی ہے اور ان تمام الزامات کو سرے سے خارج کردیا ہے جو کورونا پھیلانے کے سلسلے میں اس پر عائد کئے گئے تھے۔ دوسری مثال گورکھپور میڈیکل کالج کے ڈاکٹر کفیل احمدخاں کی ہے جنھیں گزشتہ ہفتہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اشتعال انگیزی اور فرقہ وارانہ منافرت کے الزامات سے بری کرتے ہوئے ان کے خلاف این ایس اے کی کارروائی کو مسترد کردیا ہے۔ان دونوں ہی معاملات میں انصاف کا سر بلند ہوا ہے اور ان طاقتوں نے منہ کی کھائی ہے جو مسلمانوں کو مختلف حیلوں اور بہانوں سے نشانہ بنا رہی ہیں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ان دونوں ہی معاملوں میں متاثرین کو معاوضہ ادا کرے، کیونکہ سرکاری املاک سے زیادہ اہمیت شہریوں کے بنیادی حقوق کی ہے جنھیں موجودہ نظام میں بڑی بے دردی کے ساتھ پامال کیا جارہا ہے۔