تم کو چومے بنا ہی مرجاتا ـ احمد عطاء اللہ

تم کو چومے بنا ہی مر جاتا
پھول بھی پارسا ہی مرجاتا

تیرے قدموں نے دھڑکنیں بخشیں
ورنہ یہ راستہ ہی مر جاتا

شکریہ ہجر سے تعارف کا
میں تو یہ سوچتا ہی مرجاتا

ہائے دیوار کان رکھتی ہے
شعر تو ان سنا ہی مرجاتا

تو دوا بھی ہے اور دعا بھی ہے
میں تو تیرے بنا ہی مرجاتا

تو خدا سے مرا تعارف ہے
ورنہ میں دہریہ ہی مرجاتا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*