تمہیں سو گئے داستاں کہتے کہتے-شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

 

کل بتاریخ 14/دسمبر 2020 بروز دوشنبہ عشاء کی نماز پڑھ کر کمرے میں آیا موبائل دیکھا تو انتہائی کربناک خبر سامنے آئی،کہ دنیائے فکر وفن کا تابندہ ستارہ،ادبی سلطنت کے فرمانروا،پڑوسی ملک کے ممتاز اور جید عالم دین، اردو نثر نگار کے بے تاج بادشاہ، صاحب طرز انشاء پرداز، زبردست کالم نگار، اور عظیم مصنف وسحر انگیز اسلوب کے حامل بے باک صحافی مولانا ابن الحسن عباسی بھی کاروان عشق ووفا میں شامل ہو کر آخرت کے سفر پر روانہ ہو گئے۔

یہ خبر صاعقۂ آسمانی بن کر دل کے نشیمن پر گری اور پورے وجود کو اداسیوں کی تاریکیوں میں غرق کر گئی، طبیعت افسردہ ہو کر رہ گئی،ذہن سناٹے میں آگیا، قلب سے روح تک رنج والم کی لہر دوڑ گئی، نگاہوں کے سامنے مرحوم کی صورت میں علم وادب کا ایک بھرا پرا گلشن آباد تھا ،آپ کی رحلت کے باعث جس کی فضائیں بے نور اور بے رونق محسوس ہورہی ہیں۔

یہ امر واقعہ ہے کہ مولانا ابن الحسن عباسی صاحب چمن زار فکر وفن کے وہ آفتاب تھے جس کی روشنی سے تین دہائیوں تک مسلسل فکر وتحقیق سے لےکر ادب و صحافت کی وادیاں جگمگارہی تھیں، آپ کی ذات وہ انجمن تھی جس کے دم سے بے شمار ادبی و فکری محفلیں نہ صرف زندہ بلکہ شباب کی منزلوں پر بھی نظر آرہی تھیں، آپ کا وجود وہ گل سر سبد تھا جس کی خوشبو سے ادبی دنیا معطر تھی، فکر وفن کے دشت میں آپ وہ روشن مشعل تھے جس کی روشنی میں جذبات واحساسات اور نظریات کی تشریح کرنے والے مسافران ادب مسلسل منزلوں تک رسائی حاصل کرتے رہے، مگر آہ۔۔۔آج یہ آفتاب ہمیشہ کے لیے روپوش ہوگیا جس کی کرنوں سے جہان ادب منور تھا، وہ مشعل خاموش ہوگئی جو بھٹکے ہوئے آہو کو سوئے حرم کا پتہ دیتی تھی، وہ انجمن زیر وزبر ہوگئی ۔ جہاں ادبی ستاروں کی پرورش ہورہی تھی، وہ پھول بکھر گیا جس کے دم سے ادبی گلشن مہک رہا تھا، علمی حلقوں سے لیکر ادبی نخلستانوں میں ایک شور ہے’کہ ملت اسلامیہ کی زبوں حالی پر آٹھ آٹھ آنسو بہانے والے اور اس کے تنزل پر نالہ درد بلند کرنے والے اس عندلیب خوشنوا کی خاموشی سے محفل علم سونی ہوکر رہ گئی ہے، میخانہ نثر بے جان ہوگیا ہے، خیابان فکر وفن میں تاریکیوں کے بادل چھا گئے ہیں، جہان ادب کی فضائیں سوگوار ہو گئی ہیں، تدریس علم کی بزم لہو لہو ہے، اور وقت کی لوح پر تاریخ رقم کرنے والے ایک عظیم الشان قلم کا سفر یکلخت رک گیا ہے۔

حالیہ صدی میں جہاں اور دوسری شکل میں حوادثات کی کثرت اور مصائب کے ہجوم سے ملت اسلامیہ اضطراب کا شکار ہے’، وہیں بہت تیز رفتاری سے عالم بقا کی طرف اعاظم ملت کے سانحہ ارتحال نے اسے مایوسیوں کے گہرے بادلوں کے نیچے کھڑا کردیا ہے’،ابھی چند ہی روز کی تو بات ہے’کہ امت نے مشہور محدث مفتی زرولی خان کی رحلت کا صدمہ برداشت کیا ہے’،مفتی سعید صاحب کی جدائی کا غم سہا ہے’،علامہ خالد محمود کی مفارقت کا رنج جھیلا ہے، آج اسی قافلہ حق وصداقت میں مولانا ابن الحسن عباسی بھی اس قدر عجلت میں شامل ہوجائیں گے؟ دل کے کسی گوشے میں اس کا خیال تک نہیں تھا، وہ تقریباً چار ماہ سے بیمار تھے، عمر کا کارواں ابھی بڑھاپے کی سرحد سے بہت دور تھا،بلکہ اس منزل میں تھا جہاں بہت تیزی سے آسمانوں کی منزلیں سرہوتی ہیں،لوح ایام پر عبقریت کے نقوش قائم ہوتے ہیں، اس لیے امید نہیں بلکہ یقین تھا کہ وہ صحت یاب ہوکر قرطاس وقلم کی انجمن میں پوری شان سے قدم رکھیں گے اور نئے ولولوں کے ساتھ کائینات فکر وفن کی وسعتوں میں اضافہ کریں گے، مگر اس فانی سرائے میں آپ کا وقت پورا ہوچکا تھا۔قدرت کی طرف سے عطا شدہ لمحات کو کارآمد بنا کر اور قوس و قزح کی طرح سطح ذہن پر علوم کے صد رنگ نقش قائم کرکے آپ کی زندگی اپنی منزل پر پہنچ چکی تھی، تدبیر پر تقدیر غالب آئی اور فلسفۂ حیات کی تشریح کرنے والا وجود ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے کوچ کرگیا۔

مولانا ابن الحسن عباسی صاحب سے ذہن اس وقت آشنا ہوا جب ادبی لحاظ سے شعور بالکل خام۔نہیں بلکہ بالکل بے روح وبے جان تھا، عربی سوم کا زمانہ تھا مدرسہ شیخ الاسلام شیخوپور کی خوش نصیبی تھی کہ اسے قیادت کی صورت میں علمی وادبی خورشید حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی کی ذات میسر تھی،ان کی عظمت اور ان کی فکری بلندی کا غلغلہ پڑوسی ملک میں بھی تھا اسی عظمت کے باعث وہاں سے کتابیں وافر مقدار میں آیا کرتیں اور طلباء میں تقسیم ہوتیں ،اس سال جو کتاب آئی مسلک حق وصداقت کے دفاع پر تھی،اور ترجمان اہل سنت حضرت مولانا ابو بکر غازی پوری کی کتاب،،لامذہبیہ کا اردو ترجمہ تھا، اور،،کچھ دیر غیر مقلدین کے ساتھ،،کے نام سے مرحوم ہی کے سیال قلم کا نتیجہ تھا، کتاب ہمیں بھی ملی اور چند روز میں پڑھ ڈالا، اس کے کچھ ہی دن بعد کتابوں کی درسگاہیں،سامنے آئی،شوق کی نگاہوں سے پڑھا،طبیعت اسلوب کی رعنائی،طرز ادا کی شگفتگی کی وجہ سے مسحور ہوگئی،پھر تو ان کی تحریروں سے اس قدر دلچسپی ہوئی کہ ان کی ایک اک کتاب کو کئی کئی بار پڑھا، خوبصورت استعارات اور دلنشین تعبیرات کو حفظ کرڈالا۔طالب علمی کا وہ دن اور آج کا دن اس درمیان مرحوم کی عظمت میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا، نہ ہی ان کی تشریحات سے دلچسپی میں کوئی تبدیلی محسوس ہورہی ،بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے اظہار خیال کی عظمتوں کے راز کھلتے گئے اور ان سے دلچسپیاں دیوانگی کی صورت میں ڈھلتی رہیں ۔میری تحریروں میں اگر کچھ جاذبیت نظر آتی ہے تو اور ادبا کے علاوہ مولانا کی تحریروں کا بھی خاصا دخل ہے۔

مولانا مرحوم فیض رساں معلم بھی تھے اور مدرس بھی،وہ عربی زبان کے ماہر بھی تھے،اور درسیات پر عبور رکھنے والے جید عالم بھی، وہ عمدہ ترجمہ نگار بھی تھے ، اور نصابی علوم کے شارح بھی۔دلوں میں حرارت پیدا کرنے والے صحافی بھی تھے اور حالات پر گہری نظر رکھنے والے کالم نگار بھی، علوم و فنون سے مالا مال کرنے والے مصنف بھی تھے اور اسلاف کی زندگیوں اور ان کے نقش قدم کا پتہ دینے والے ایک اسکالر بھی۔مگر جس چیز نے انہیں شہرت دوام عطا کی، سلطنت علم کا شہزادہ بنایا، کشور ادب میں فرمانروائی عطا کی وہ ان کے اظہار بیان کی قوت،اور جہان ادب پر ان کی لامحدود سیاحت ودسترس ہے۔ ان کے تخیلات کی بلندی، فکری وسعت،نظر کی گہرائی،اظہارخیال کی بے پناہ صلاحیت، تخلیقی استعداد،طرز ادا کی رعنائی،اسلوب میں ندرت اور تشریحی عمل میں جدت نے انہیں عصر حاضر کےعظیم دانشوروں اور قدآور ادیبوں کی صف میں کھڑا کردیا ہے۔

طبیعت کا حسن،ذوق کی خوبصورتی اور مزاج کی پاکیزگی مولانا مرحوم کے پاس خداداد تھی انھوں نے ان صلاحیتوں کا اسلاف کی طرح استعمال کرکے زبان وبیان اور تشریح وتوضیح کے میدان میں قدم رکھا تو اس شان سے فتوحات کا علم بلند کیااور اس طرح انہوں نے لوح وقلم کی پرورش کی کہ ادبی دنیا کی مستند ہستیاں آپ کے سحر انگیز اور جدید اسلوب وآہنگ پر سر دھنتی رہ گئیں، انھوں نے بے شمار مضامین لکھے،خاکے لکھے،حالات حاضرہ پر کالم نگاری کی، ملک سماج اور تہذیب وثقافت پر اظہار خیال کیا، کتابوں کے علم ریز تبصرے کیے، عالم اسلام کی زبوں حالی اور رؤساء عرب کی عیش کوشیوں اور برصغیر کے حکمرانوں کی غفلت شعاری کے نوحے لکھے،ترقی یافتہ دنیا کے مظالم کی داستان لکھی، غزض ہر موضوع پر قلم اٹھایا اور اس انداز سے اٹھایا کہ علمی ذخائر کے ساتھ ساتھ ادبی کتب خانے بھی آپ کی شگفتہ تحریر سے مالامال ہوگئے، مولانا مرحوم کا یہ سب سے بڑا کارنامہ ہے’کہ انھوں نے اسلامی تعلیمات کو ادبی پیرائے میں پیش کرنے کا نئی نسلوں میں رجحان پیدا کیا، انشاءپردازی اور تخلیقیت کی راہیں ہموار کیں، خوبصورت اسلوب کی طرف نوجوانوں کو مائل کیا، اسلامی علوم کو اچھوتی تحریروں کے ذریعے اگر شبلی،حالی ،سیدسلیمان ندوی عبدالماجد دریابادی، اور مناظر وآزاد نے اسلامی ادب کی بنا ڈالی ہے اور علم کے ساتھ ساتھ ادب کو بھی زندگی بخشی ہے’تو تحریر کی اسی صفت کی بنیاد پر کہاجاسکتا ہے کہ عصر حاضر میں اسلامی علوم کے مختلف موضوعات کو ادبی سانچے میں ڈھال کر مولانا مرحوم نے بھی اسلامی ادب کو استحکام عطا کیا ہے۔ پاکستان میں روزناموں میں کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ،،الاسلام ،، ہے ایک عرصۂ تک مرحوم اس اخبار کے کالم نگار تھے،آپ کی خوبصورت اور معلومات افزاتحریر کی وجہ سے یہ اخبار مقبولیت کے آسمان کو چھونے لگا، اس میں شائع ہونے والی تحریریں جب،،کرنیں کے نام سے کتابی شکل میں آئیں، تو اس نے مقبولیت کی تاریخ رقم کردی،بے شمار تبصرے اس پر آئے۔

اس وقت کے صف اول کے ادیب و دانشوراور اردو زبان وادب کے دائرۃ المعارف سے ملقب مشفق خواجہ نے جو تبصرہ کیا تھا اس سے آپ کے ادبی وفنی مرتبے کو سمجھا جاسکتا ہے،خواجہ صاحب مرحوم لکھتے ہیں’’ مولانا عباسی صاحب کی کالم نگاری کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ تفریح طبع کے لئے نہیں بلکہ ایک نہایت سنجیدہ مقصد سے کالم لکھتے ہیں اور وہ مقصد یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو عہد حاضر خصوصا عالم اسلام کے حالات سے باخبر رکھا جائے،نیز صہیونیت اور اس کے ہوا خواہوں کی طرف سے مسلمانوں کے ساتھ جو شرمناک سلوک ہورہا ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے قومی شعور کو اس طرح بیدار کیا جائے کہ ہر مسلمان موجودہ عالمی حالات میں اپنے دینی فرائض ادا کرنے کے لئے کمر بستہ ہوجائے۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مولانا جو پیرایۂ اظہار اختیار کر تے ہیں وہ اردو صحافت میں ایک بالکل منفرد انداز رکھتا ہے ایسی سدا بہار ادبیت اخبارات کے صفحوں پر کبھی کبھی کبھار ہی نظر آتی ہے‘‘۔(کرنیں صفحہ نمبر 9)

واقعہ یہ ہےکہ مولانا کی تحریروں میں وہ جاذبیت وہ سلاست اور موجوں کی وہ روانی نظر آتی ہے کہ قاری ایک بار جب ان کی تحریروں کے گلزار میں قدم رکھتا ہے تو تمام تر آسودگی کے باوجود اس کی تشنگی میں کمی نہیں آتی،کب کتاب مکمل ہوگئی اور کب موضوع کا اختتام ہوگیا اسے احساس نہیں ہوتا ہے’،اور کسی زبان کی یہ سب سے بڑی اور بنیادی خوبی ہے’کہ وہ مطالعہ کے مسافر کو پابہ زنجیر کرلے، یہ صفت مولانا مرحوم کی تمام تحریروں میں پائی جاتی ہے،وہ آرٹ کا موضوع ہو یا سماجیات کا عنوان، امت کے نوحے ہوں یا اس کی پسماندگی کی دلخراش داستان، سائنسی علوم ہوں یا اخلاقیات کے پیغامات، درس نظامی کے خشک صحرا ہوں یا فلسفہ حیات کا دشت لامحدود۔ ہر میدان میں آپ کے علم ریز قلم کی رعنائیاں، اس کی شگفتگی،اس کی دلآویزی، اس کی سلاست اور اس کی فصاحت یکساں نظر آتی ہے۔امت کی حالیہ تصویر کشی کا یہ منظر لفظ وحروف کی صورت میں آپ بھی دیکھیں اور زبان پر قدرت وادب پر دسترس کا اندازہ کریں،، خیابانی لالہ کا یہ انتظار کب کا ختم ہوچکا ہے،لیکن عالم اسلام کے اجتماعی ضمیر پر بے حسی کی دھند برابر چھائی ہوئی ہے،عرب کے ریگزار ہوں یا عجم کے مرغزار،تصوف کا کوئی رومی،عمرانیات کا کوئی فارابی،طب کا کوئی ابن سینا،ریاضی کا کوئی عمر خیام،کیمیاکا کوئی جابر بن حیان،فلسفہ کا کوئی ابن رشد،فلکیات کا کوئی فرغانی، اندلس کا کوئی طارق ابن زیاد،سندھ کا کوئی محمد بن قاسم،میسور کا کوئی ٹیپو سلطان،طرابلس کا کوئی سنوسی،کوہ قاف کا کوئی امام شامل،عموریہ کا معتصم عرصہ سے نظر نہیں آرہا۔۔۔ایسے میں اگر نوحہ لکھا جائے،جاگے ہوؤں کو ڈرایا جائے،درد کا دیا جلایا جائے،احساس کی متاع لٹائی جائے تو اسے بھی ایک کام اور ایک فریضے کا اتمام کہا جاسکتا ہے۔ (حوالہ بالا ص65)

مولانا ابن الحسن عباسی صاحب کے قلم سے مختلف موضوعات پر متعدد تصانیف منصہ شہود پر آئیں،اور علمی حلقوں سے لیکر ادبی محفلوں میں شوق کی نگاہوں سے پڑھی گئیں،

درس نظامی کے نصاب سے متعلق چھ جلدوں پر پھیلی ہوئی کشف الباری،توضیح الدراسۃ شرح حماسہ،اور مقامات حریری کی شرح اور کچھ دیر غیر مقلدین کے ساتھ،،نامی کتابیں عربی ادب اور فن حدیث میں جہاں آپ کی بالغ نظری کا روشن ثبوت ہیں، وہیں کتابوں کی درسگاہ میں، التجائے مسافر،کرنیں ،مدارس ماضی حال مستقبل،متاع وقت اور کاروان علم،اور داستان کہتے کہتےجیسی شاہکار کتابیں آپ کے صاف ستھرے ذوق، فکر کی بلندی اور علم کی رفعت کا پتہ دیتی ہیں،یہ وہ کتابیں ہیں جن کی سطر سطر اردو زبان کا اعلیٰ نمونہ ہے، جن میں خشک موضوعات بھی دامن کہسار میں پھیلے ہوئے سبزہ زاروں کی مانند لہلہا رہے ہیں، کہیں کاروان عشق و وفا کے نقوش قدم نظر آتے ہیں، کہیں درویش خدا مست کی بے نیازانہ زندگیا ں دلوں میں حرارت پیدا کررہی ہیں، اور کہیں عروج وارتقا اور قوموں کے ادبار واقبال کے زمزمے اور مرثیے ہیں، آپ کے قلم کی سحر انگیزی،خیالات کی رفعت اور اسلوب کے بانکپن کے حوالے سے آج سے غالباً دو سال قبل راقم نے ایک مختصر سی تحریر لکھی تھی،شوشل میڈیا کے ذریعے مرحوم تک پہونچی اور انھوں نے ادبی رسالے ماہنامہ النخیل میں اسے شائع کر کے قدر افزائی فرمائی،اس تحریر کا ایک اقتباس اس لیے پیش ہے’تاکہ ادبی حوالے سے ان کے قلم کی عظمت واضح ہوجائے،، ابن الحسن عباسی کی تصنیفات اپنی خوبصورتی،رعنائی،شگفتگی اور دلآویزی کی وجہ سے ادبی صنف میں نثری شہ پاروں کے تاروں میں مہتاب کی حیثیت رکھتی ہیں،کہ آدمی جب ان کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ کبھی خود کو شورش کی محفل میں تصور کرتا ہے’،کبھی عامر عثمانی کے جہان میں۔۔کبھی اسے وہ تحریریں آزاد کی وادیاں معلوم ہوتی ہیں،کبھی حالی وشبلی کے دبستان صدرنگ کی پرکیف فضا۔کبھی ماہر القادری کا بانکپن محسوس ہوتا ہے تو کبھی دریابادی کے مخصوص لہجہ واسلوب کا چمن زار دلنواز۔۔۔غرض انھوں نے تمام صف اول کے ادیبوں کے امتیازی اوصاف کو اپنی تحریروں میں نچوڑ کرایک نئے اسلوب کی دریافت کی ہے اور انفرادیت کا یہ نقش قائم کرنے میں وہ اس قدر کامیاب ہیں کہ اچھے اچھے شہرت یافتہ ادیب وانشاء پرداز ان کے اسلوب پر عش عش کرتے ہیں۔ (ماہنامہ النخیل کراچی شعبان 1440)

مولانا ابن الحسن عباسی 1972میں پیدا ہوئے اور 1993/میں دارالعلوم کراچی سے فضیلت کی سند حاصل کی فراغت کے بعد جامعہ فاروقیہ کراچی سے تدریسی فرائض سے و ابستہ ہوگئے اور 2010/تک پورے انہماک اور استقامت سے ترویج علم میں مصروف رہے، اس دوران انہوں نے مستقل ادب وتخلیقیت کا چراغ جلائے رکھا اور سولہ سال تک ماہنامہ وفاق المدارس کی ادارت کی، ساتھ ساتھ ماہنامہ حیا ڈائجسٹ جس کے بانی وایڈیٹڑ بھی خود ہی تھے کے ذریعے اردو ادب کی گراں قدر خدمات انجام دیں، 2010/میں کراچی ہی میں تراث الاسلام کی بنیاد رکھی دوسال قبل اس ادارے سے انھوں نے بڑے اہتمام سے ماہنامہ النخیل کا اجراء کیا تھا یہ رسالہ سابق رسالوں کی طرح بڑی تیزی سے ترقی کی راہ پر رواں دواں تھا ،حال ہی میں اس کا یادگار زمانہ شخصیات کے احوال مطالعہ نمبر نے اپنی انفرادیت اپنے غیر معمولی علمی ذخیرے، سینکڑوں شخصیات کے مطالعہ کی نفع بخش روداد نے علمی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے’اس کا پہلا ایڈیشن لمحوں میں ختم ہوگیا اور دوسرا ایڈیشن بھی منظر عام پر آچکا ہے’۔

مولانا مرحوم کا یہ کارنامہ انتہائی گراں قدر اور زریں ہے۔ہندو پاک کی سینکڑوں شخصیات کے مطالعہ کی روداد اکٹھا کرنا کس قدر مشکل کام ہے’اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس راہ سے گذرے ہوں۔لیکن مولانا دھن کے پکے تھے انھوں نے اس نمبر میں ستاروں کی ایک کہکشاں سجا دی ہے۔

مولانا ابن الحسن عباسی صاحب کا ایک نمایاں وصف فکر قاسمی وگنگوہی سے عشق ومحبت بھی ہے کہ اس معاملے میں وہ کسی کی پروا نہیں کرتے،اسلاف دیوبند ان کی تحریروں میں جگہ جگہ کواکب کی طرح جگمگا رہے ہیں، ان کے قلم نے جہاں دوسرے موضوعات پر خامہ فرسائی کی ہے’وہیں اہل سنت والجماعت کا ہر موڑ پر مضبوط ومستحکم دفاع بھی کیا ہے۔

مولانا مرحوم چار ماہ سے صاحب فراش تھے،اور ہاسپٹل میں تھے ،زندگی نے صرف اڑتالیس بہاریں دیکھی تھی کہ کینسر جیسے مہلک مرض کا شکار ہوگئی اور بالآخر اسی مرض نے جسم سے روح کا رشتہ کاٹ دیا، اور وہ سیارہ فکر ونظر جس کی تنویروں سے بے شمار قصرہائے ادب کے بام ودر روشن تھے فنا کے کثیف بادلوں میں چھپ گیا، شاہ فیصل کالونی میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی وقت کے سب سے بڑے محدث سب سے عظم فقیہ اور عالمی سطح پر سب سے قدآور عالم دین مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے ہزاروں علماء و صلحاء اور طالبان علوم نبوت کی موجودگی میں نماز پڑھائی اور بلدیہ ٹاؤن کراچی کی قبرستان میں اس گوہر گراں مایہ کو سپرد خاک کردیا گیا:

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

تمہیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

عدم سے وجود اور وجود سے عدم کا سفر مسلسل جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا،لیکن فنا کی سمت جانے والوں کا ہجوم خاموشی سے گذر جاتا ہے،بہت کم ایسی زندگیاں ہوتی ہیں جن کی رحلت پر ایک عالم سوگوار اور دنیا اشکبار ہوتی ہے’ انہیں منتخب افراد میں مولانا عباسی کی شخصیت بھی تھی جو موت کو گلے لگا کر بھی بے شمار لوگوں کے دلوں میں چراغوں کی صورت میں زندہ ہے۔

کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں

صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی