تمھارا نام کب سے ڈھو رہے ہیں ـ ابرار مجیب

 

تمھارا نام کب سے ڈھورہے ہیں

کسی جنگل میں آکر سورہے ہیں

 

یہ فصلِ لالہ کاری بے طلب ہے

لُہو کے بیج اب تک بورہے ہیں

 

سکوں کی بستیوں میں شور برپا

خدا کے ساتھ ہم بھی سورہے ہیں

 

چراغِ دیر روشن ہو چکے ہیں

جبیں کے داغ مدھّم ہورہے ہیں

 

تلاشِ رائیگانی، ہُو کا عالم

قلندر مست ہوکر سورہے ہیں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*