تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہارکے-ڈاکٹر جسیم الدین

(استاذ محترم پروفیسر ولی اختر ندوی کی رحلت)
مشفق ومکرم استاذ، شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی کے مایہ ناز پروفیسر ، استاذ الاساتذہ پروفیسر ولی اختر کے انتقال پر ملال کو تین دن گزر چکے ہیں، لیکن طبیعت اس قدر مغموم اور بجھی ہوئی ہے کہ کچھ سپرد قرطاس کرنے میں خود کو بے بس محسوس کررہا ہوں، کئی بار کچھ لکھنے کی کوشش کی، لیکن ایک پیرا گراف بھی نہیں، بلکہ دو چار سطور قلمبند کرتے ہی آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں اور دل پارہ پارہ ہونے لگتاہے اور سلسلہ موقوف کرنا پڑتا ہے، ایسا محسوس ہوتاہے کہ ذہن واعصاب نے ساتھ دینا چھوڑدیاہے، اپنی چونتیس سالہ زندگی میں کبھی بھی میں اس طرح جگر پارہ نہ ہوا، جس طرح استاذ محترم کے سانحۂ ارتحال پر دل فگار ہوں، آج جب ڈاکٹر عبد المک رسولپوری استاذ شعبۂ عربی ذاکر حسین دہلی کالج نے یہ پیغام بھیجا کہ :’’ سر[پروفیسر ولی اختر ندوی] کے تعلق سے کوئی تاثراتی مضمون قلمبند کیا ہو، تو ارسال فرمائیں‘‘۔ تواس پیغام کو پڑھنے کے بعد کچھ لکھنے کی ہمت جٹائی اور کچھ قلمبند کرنے کے لیے طبیعت کو آمادہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ استاذ محترم پروفیسر ولی اختر کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات بارہ برسوں پر محیط ہیں، جن میں دو سال ایم اے میں بحیثیت نووارد طالب علم عربی سے انگلش ترجمہ کی کلاسیزجو لگاتار دوگھنٹوں پر مشتمل ہواکرتی تھیں اور پانچ سال بطور پی ایچ ڈی اسکالر آپ کی نگرانی میں اور پی ایچ ڈی کے بعد پھر ڈاکٹر ایس رادھا کرشنن پوسٹ ڈاکٹورل فیلو یوجی سی کی حیثیت سے تین سال اور بحیثیت گیسٹ فیکلٹی دوسال۔بارہ برس کا عرصہ کوئی معمولی نہیں ہے، اس طویل عرصے میں سر کو بہت ہی قریب سے جانا اور پہچانابھی۔ یادوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے ، میری کوشش ہوگی کہ میں نے جیسا ان کو پایا، ویسا ہی سراپا پیش کروں۔ایم اے میں جب ترجمہ کی کلاس میں حاضری ہوئی تو تعارف کراتے ہی جب سیتامڑھی کا نام لیا تو فوراً چونکے اور پوچھے سیتامڑھی میں کہاں؟ میں نے کہا کہ سیتامڑھی ضلع کے نانپور بلاک میں واقع ددری گاؤں کا ہوں۔ تو سر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں بھی سیتامڑھی کا ہوں، لیکن کلاس میں اس بنیاد پر کوئی ہمدردی نہیں رہے گی۔یہاں آپ محنت سے پڑھیں گے تو مجھے خوشی ہوگی۔ مجھے بھی سر کی یہ بات بے حد پسند آئی اور ان کے یہ پوچھے جانے پر:’محنت کریں گے نا؟‘ میں نے ہامی بھری اور کلاسوں کی پابندی کی۔ایم اے کے سال میں مجھے دہلی یونیورسٹی میں ہاسٹل بھی مل گیاتھا، اس لیے بھی کلاس کی پابندی میں آسانی رہی، اسی دوران ایک بار جوبلی ہال دہلی یونیورسٹی سے متصل مسجد ’پٹھان والی‘خیبر پاس میں بعد نماز جمعہ میں نے استاذ محترم پروفیسر ولی اختر اور ڈاکٹر نعیم الحسن صاحبان کوظہرانے کی پیش کش کی ، سر اولاً انکار کرتے رہے، لیکن میرے پیہم اصرار کے سامنے انکار کی گنجائش نہیں رہی، ہاسٹل کی صفائی ستھرائی دیکھ کر سر کافی متاثر ہوئے اور ظہرانہ تناول فرمانے کے دوران مفید باتیں بھی ہوتی رہیں۔ ایم اے میں دوران درس عربک ٹیکسٹ ریڈنگ میں جہاں عربی قواعد و محاورات کی بہترین وضاحت فرماتے، وہیں ترجمہ کی تکنیک کو بھی نہایت سہل انداز میں سمجھاتے۔
بلاشبہ آپ ایک قابل فخر ، کہنہ مشق ، طلبہ کی نفسیات کو سمجھنے والے کامل استاذ تھے ، خوش نصیب ہیں وہ تمام طلبہ وطالبات جن کو آپ سے استفادے کا موقع ملا۔ طلبہ وطالبات کے درمیان مقبول ترین اساتذہ میں آپ کا شمار تھا، آپ کے شخصی رعب ، علمی مقام اور وجاہت کی وجہ سے طلبہ اگرچہ آپ سے بے تکلفانہ گفتگو نہیں کرپاتے تھے، لیکن دل وجان سے آپ سے محبت کرتے تھے ۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ نے یہ علمی تفوق ، بلند مقام ، عوم وخواص کے درمیان مقبولیت ومحبوبیت اور ملک بھر کی متعدد جامعات میں سلیکشن کمیٹی کی رکنیت کسی بیساکھی کے ذریعے حاصل نہیں کی، بلکہ اس کے پیچھے صرف اور صرف اللہ کا فضل وکرم اور آپ کی مفوضہ ذمے داری کے تئیں جفاکشی ، وقت کا صحیح استعمال اور روزو شب جہد مسلسل اور سعی پیہم کارفرما رہی۔ ایم اے مکمل کرنے کے بعد آپ کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کے لیے رجسٹریشن ہوا، اس دوران میں نے جے آر ایف کوالیفائی کیاتو سر بے حد خوش ہوئے اور کہاکہ یوجی سی فیلوشپ اس لیے مہیا نہیں کرتی کہ آپ آرام سے کھا پی کر موٹے ہوتے رہیں، بلکہ فیلوشپ کے طور پر ملنے والی رقم سے آپ اپنی مطلوبہ وپسندیدہ کتابیں خریدیں اور پڑھنے لکھنے میں جن وسائل کی ضرورت درپیش ہوتی ہیں ان کی حصولیابی میں آپ کو کوئی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور پرسکون انداز میں ریسرچ کریں۔ سر کی یہ باتیں مجھے بے حد پسند آئیں اور وہ گاہے بگاہے یہ پوچھتے بھی رہتے کہ اس مہینے میں کونسی نئی کتاب خریدی ،لائبریری سے کن کن کتابوں کی فوٹو کاپی کرائی؟ جب بھی میں فیلو شپ کی رقم کی حصولیابی کے لیے فارم پر دستخط کرانے کے لیے حاضر خدمت ہوا ، فوراً فرماتے کہ کام دکھائیے اگر کچھ کام بروقت دکھاتا تو ٹھیک اسی وقت دستخط فرمادیتے ورنہ ہفتہ عشرہ میں کچھ نہ کچھ متعلقہ موضوع پر مواد دکھانا پڑتا پھر دستخط فرماتے۔ ایک بار سر تقریباً پندرہ بیس دنوں کے لیے اپنے وطن مالوف سیتامڑھی ضلع میں بیرگنیا بلاک کے تحت واقع بھکورہر گاؤں چلے گئے اور اس دوران مجھے ان سے کئی کاغذات پر دستخط کرانے تھے ، سر نے وطن مالوف سے دہلی آتے ہی بتایا کہ آج جمعہ ہے اگر ضروری ہے تو تم گھر آکر دستخط کرالو، قابل ذکر ہے کہ جب میرا پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن ہوا تو اسی سال سر نے ڈپارٹمنٹ میں پہلی بار صدر شعبہ کا چارج سنبھالا تھا اور جب میری پی ایچ ڈی جمع کرنے کا وقت آیا تو اسی سال استاذ محترم پروفیسر کے عہدے سے سرفراز ہوئے میری بھی دیرینہ خواہش تھی کہ سرکے نام سے پہلے پروفیسر لکھوں، چوں کہ رجسٹریشن کے وقت جب میں نے سیناپسس پر پروفیسر لکھ دیا تھا تو سر نے اسے کاٹ دیا اور کہاکہ ابھی آفیشیل لیٹر نہیں موصول ہوا ہے، جب ہوجائے گا تب لکھنا۔ خیر میں جمعہ کو عصر مغرب کے درمیان سر کی رہائش گاہ پر حاضر ہوگیا، حسن اتفاق کہ میری شریک حیات بھی ساتھ تھیں، ڈور بیل بجایا تو امینہ غالباً اس وقت پانچ چھ سال کی رہی ہوں گی، ڈور کھولا اور کہاکہ آجایئے ، سر لنگی اور بنیائن زیب تن کیے کرسی پر بیٹھے سامنے کمپیوٹر پر کچھ کام کررہے تھے اور بڑے صاحبزادے حماد گردان سنارہے تھے، میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے سر نے کہا کہ تمھاری شادی ہوگئی ہے اور فیلوشپ بھی مل رہی ہے تو تم وائف کو ساتھ کیوں نہیں رکھتے ،میں نے کہا کہ سر ساتھ میں آئی ہوئی ہیں ،سر بولے کہ کہاں ہیں ؟ میں نے کہا کہ مجھے تو صرف دستخط کرانے تھے اس لیے ان کو دروازے پر انتظار کرنے کو کہاہے ، یہ سنتے ہی سر بھڑک گئے اور بولے کہ پاگل ہو، بلاؤ انھیں، جب میں نے بلایا تو سر نے امینہ کو بلاکر فرسٹ فلور پر امینہ کی والدہ کے پاس بھیج دیا اور مجھے اپنے پاس بٹھالیا ، چائے ناشتے کے بعد دستخط کردیے اور کہا کہ پہلی بار تمھاری وائف آئی ہے ، اس لیے ماحضر تناول کرکے واپس جانا، اس دوران مجھے وقت کے صحیح استعمال کی تلقین کرتے رہے اور عشا کی نماز سے قبل عشائیہ کھلاکر واپس کیا۔ سرکی یہ الفت وعنایت دیکھ کر میں گرویدہ ہوگیا۔ دیکھتے دیکھتے میری پی ایچ ڈی بھی ہوگئی ، بارہا گھر بلاکر سر نے پچاس پچاس صفحات ایک نشست میں بآواز بلندپڑھوائے اور جہاں اصلاح کی ضرورت محسوس ہوئی اصلاح کی، اس طر پوری پی ایچ ڈی کو سنابھی اور فائنل شکل دینے کے بعد بذات خود پڑھا بھی ریڈ پین سے سر کی تصحیح شدہ کاپی میں نے بطور یادگار محفوظ رکھی ہے۔ میرے سبمیشن کے سال میں ہی سر کے والد محترم کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ گیا۔پی ایچ ڈی کے بعد ایک سال گیسٹ فیکلٹی کے طور پر شعبہ میں درس و تدریس سے وابستہ رہا، اسی دوران پی ڈی ایف کے لیے میرا انتخاب ہوگیا تو پھر اسے جوائن کرلیا اور دوسال پی ڈی ایف کرکے پھر گیسٹ جوائن کرلیا۔اس دوران آپ نے بارہ سال میں بارہ بار بھی کوئی ذاتی کام مجھ سے نہیں لیا، ہاں لائبریری سے مطلوبہ کتابیں بکثرت منگواتے اور جو کتاب انھیں پسند آتی فورا زیروکس کرواتے۔ بطور خاص عربک گرامر ، ٹرانسلیشن سے متعلق نئی کتابیں۔رواں سال چند کتابیں زیروکس کرائیں جن میں How to write in Arabic اور ایڈوانسڈ میڈیا عربک، انٹرمیڈیٹ لیول اور اڈوانسڈ لیول قابل ذکر ہیں۔علمی اشتغال آپ کا اوڑھنا بچھونا تھا ، مزاج میں یکسوئی اور زندگی میں انتہائی سادگی تھی، یونیورسٹی کیمپس میں زیادہ لوگوں سے آپ کی راہ و رسم نہیں تھی اور علمی اشتغال کی وجہ سے آپ کے پاس اس کا موقع بھی نہیں تھا، جب بھی آپ کے چیمبر میں جاتا کچھ پڑھتے ہوئے ، پڑھاتے ہوئے، لکھتے ہوئے، سنتے ہوئے یا نصیحت کرتے ہوئے ملتے۔
رمضان المبارک میں سر سے بکثرت رابطے میں رہا، اس کی وجہ یہ رہی کہ سر Qura’anic Verbs الافعال فی القرآن الکریم پر کچھ نئے انداز کا تحقیقی کام کررہے تھے، اس کی ترتیب یہ بنائی تھی کہ پہلے افعال کی جتنی قسمیں ہیں، وہ تمام سامنے آجائیں ، پھر بکثرت کونسے افعال استعمال ہوئے ہیں ،اسی درجہ بندی کے ساتھ اپنے لیے پندرہ پاروں کو مختص کیا اور پانچ پانچ پارے مجھے اور ڈاکٹر ظفیرالدین صاحب استاذ شعبۂ عربی ذاکر حسین دہلی کالج کے سپرد کیے۔ سر نے پہلے پوچھاکہ لاک ڈاؤن میں کیا کررہے ہو؟ میں نے بتایا کہ این سی پی یو ایل حکومت ہند سے منظور شدہ علمی پروجیکٹ بعنوان ’شمالی ہند سے شائع ہونے والے عربی رسائل وجرائد کا مطالعہ‘ کے ڈھائی سو صفحات ہوچکے ہیں ،پچاس صفحات باقی ہیں، اسی کی تکمیل میں مصروف ہوں، سر نے کہا کہ پہلے اپنا پروجیکٹ مکمل کرلو ، پھر میرا کام کرنا، ثواب کی نیت سے ۔ یہ اکیلے کرنے والاکام نہیں ہے، میں نے بسروچشم قبول کیا، اور سر کی ہدایت کے مطابق سر نے مجھے ورڈ ٹیکسٹ میں مکمل قرآن اور پہلے نواں اور دسواں پارہ بھیجا، ان دونوں پاروں سے سارے افعال نکال کربھیجنے پر پھر پندرہ اورسولہواں پارہ سر نے بھیجا اور میں نے یہ دونوں پارے بھی اٹھائیس اور انتیسویں رمضان کی شب میں مکمل کرکے سر کو بھیج دیے، سر نے واٹس ایپ پر اطلاع دینے کے جواب میں کلمات تشکر بھی پیش کیا اور دعائیں بھی دیں۔ پھر بتایا کہ عید کی شام میں تمھاری طرف آؤں گا، لیکن میں نے عید کے دن دو پہر میں سر سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ سر کب تشریف لا رہے ہیں؟ تو سر نے معذرت کر لی کہ آج نہیں کل آتا ہوں، عید کے کل ہوکر میرے محسن وبہی خواہ ڈاکٹر مجیب اختر صاحب استاذ شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی کے گھرتشریف لائے، سر کی تشریف آوری سے قبل ڈاکٹر مجیب اختر صاحب نے مجھے بھی بلایا اور بتایاکہ سر سے یہیں ملاقات ہوگی۔ در اصل سر کو ایک کتاب بھی دینی تھی، ڈاکٹر منورحسن کمال کی تصنیف ’’تحریک آزادی اور خلافت‘‘، یہ کتاب سر کے کوئی استاذ جو پٹنہ میں قیام پذیر ہیں ، انھوں نے منگوائی تھی، سر نے مجھ سے لاک ڈاؤن سے قبل ہی یہ کتاب منگوائی، لیکن اچانک لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی تو اسی ملاقات پر سر نے مذکورہ کتاب بھی اپنے استاذ کے لیے لی۔
سرکی شخصیت مختلف الجہات تھی ، آپ جہاں ایک کامیاب وبے مثال معلم تھے ، وہیں آپ کے پہلو میں ضرورتمندوں کے لیے دھڑکتاہوا دل بھی تھا، یہی وجہ ہے کہ آپ کی رحلت سے نہ صرف عربی زبان وادب سے وابستہ شخصیات رنجیدہ وافسردہ ہیں، بلکہ آپ کے دم سے جن کی دادرسی ہوتی تھی وہ بھی مغموم ومحزون ہیں۔ آپ اپنی زندگی میں متعدد بیواؤں کی کفالت فرمارہے تھے، جس کا گواہ میں خود ہوں ، سر آن لائن بینکنگ استعمال نہیں کرتے تھے وہ اکثر بذریعہ چیک یا اے ٹی ایم پیسے نکالتے تھے، لیکن کسی کو پیسے آن لائنن ٹرانسفر کرنا ہوتا تو مجھ سے یہ کام بکثرت لیا کرتے تھے اور مجھے چیک یا کیش کے ذریعہ وہ رقم ادا کردیتے ۔حساب وکتاب ان کا بالکل کلیئر ہوا کرتاتھا، سود کی رقم سے حد درجہ محتاط تھے، پاس بک کو ٹائم ٹوٹائم اپڈیٹ کراتے اور سود کے طور پر بینک سے ملی ہوئی رقم پر ریڈ مارک لگاتے اور اس رقم کو فورا نکال کرباہر کرتے۔
نام ونمود سے اپنی شخصیت کو آلودہ نہیں ہونے دیا، آپ کی نرم خوئی اور انسانیت نوازی قابل رشک تھی، غلطی پر سخت انتباہ کے لیے بھی آپ مشہور تھے۔ کوئی بھی اسکالر بطور خاص فیلوشپ یافتہ اسکالر دستخط کرانے کے لیے یکبارگی چمبر میں جانے کی ہمت نہیں کرپاتا، ایک دو بار ڈور کے پاس جاتا پھر واپس آجاتا دو تین بار کے بعد ہمت کرکے داخل ہوتا کامیاب ہوتا تو زہے نصیب نہیں تو منھ بنائے واپس لوٹتا۔
ایک بار مجھے بھی سر پر بہت غصہ آیا کہ انھوں نے ذاکر حسین دہلی کالج سے دوماہ کی ملی ہوئی تنخواہ مجھ سے واپس کرادی، اس کا پس منظر یہ ہے کہ میں ایس آر ایف کے دوسرے سال میں تھا کہ فیلو شپ کی رقم غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ،اس لیے میں نے گیسٹ چھوڑکر فیلوشپ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ، میری خواہش تھی کہ ذاکر حسین دہلی کالج سے ملی ہوئی دوماہ کی تنخواہ واپس نہ کروں اور فیلو شپ بھی ری ایکٹیویٹ کرالوں، لیکن سر نے یہ قبول نہیں کیا، میرے چہرے کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے سر نے کہا کہ جسیم جب یونیورسٹی کا قانون ہے کہ گیسٹ رہتے ہوئے فیلوشپ نہیں لے سکتے تو میں یہ کیسے منظور کروں؟ اس دنیاکے بعد بھی ایک دنیا ہے ۔ سر کے یہ الفاظ سنتے ہی میرا غم وغصہ کافور ہوگیا۔
استاذ محترم کی شخصیت پر لکھنے کے بہت سے پہلو ہیں جن پر لکھنے والے انشاء اللہ خوب لکھیں گے، اور لکھ بھی رہے ہیں میں بھی لکھوں گا ، فی الحال میں استاذ مکرم کے اہل خانہ بالخصوص آپ کے برادر گرامی اور اپنے محسن وکرم فرما شیخ علی اختر مکی حفظہ اللہ استاذ مدرسہ ریاض العلوم جامع مسجد اردو بازار جامع مسجد دہلی، جمیل اختر، مولانا سہیل اختر ندوی اور آپ کے صاحبزادے حماد و خطاب اور صاحبزادیاں ثمینہ اور امینہ اور ان سب کی والدہ محترمہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتاہوں اور دعاء گو ہوں کہ اللہ جل شانہ استاذ محترم کو جنت الفردوس نصیب فرمائے، آپ کی زریں و سنہری خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے:
ویراں ہے میکدہ خم وساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

  • Dr Moghees Ahmad
    13 جون, 2020 at 11:53 شام

    بہت خوب ڈاکٹر صاحب۔ ویسے تو والدین اور اساتذہ کے احسانات کا کوئی بدل نہیں مگر آپ نے اس مضمون میں پروفیسر مرحوم سے جس عقیدت، محبت اور خلوص کا اظہار کیا ہے وہ یقینا قابل قدر ہے۔ خدا آپ کو پروفیسر مرحوم کا عکس و آیینہ بنائے۔
    پروفیسر مرحوم سے میری پہلی ملاقات سال گذستہ سردی کی چھٹیوں کے دوران ان کے اپنے چیمبر میں ہوئی تھی، مگر کیا پتہ تھا کہ یہ ملاقات آخری ہوگی۔اس وقت میں اپنی نئی کتاب "مولانا جلال الدین رومی: احوال و آثار” انھیں پیش کرنے کے لیے گیا ہوا تھا۔ کتاب دیکھ کر بہت خوش ہوئے، تبریک کے الفاظ سے نوازا۔آدھے گھنٹے کی مختصر سی ملاقات میں مجھے ان کے کسی بھی رویے سے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ میں کسی اجنبی سے پہلی بار محو گفتگو ہوں۔ مرحوم کی اچانک رحلت سے بہت افسوس ہوا۔خدا مرحوم کے درجات بلند کرے، ان کے پسماندگان کو جینے کا حوصلہ بخشے اور ان کے شب و روز ہمارے لیے سبق آموزی کا ذریعہ ثابت ہوں۔ آمین
    ڈاکٹر مغیث احمد
    اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ فارسی
    بی ایچ یو، وارانسی، یوپی

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*