تم ہی بتاؤ-ایمن تنزیل

 

تم کہتے ہو

میں کاغذ کی ہتھیلی پر

عشق کی داستانیں لکھوں

مجبت کے گیت گنگناؤں

زندگی کی رعنائیاں بکھیروں

بے کلی کے کینوس پر

حدت جذبات کی تصویر بناؤں!

جب

فضا سے اٹھتے سیاہی کے گولے

رگوں کو ہلا رہے ہوں

دریا میں نیلگوں آسماں کے سایہ کی جگہ

ریتیلا بارود تیر رہا ہو

بے حسی کی بنجر زمینوں پر

آگ اگلتے منظر ہوں

اور آنکھوں میں گِدھوں کا خوف

صحراؤں میں شکاری

گھات لگاۓ بیٹھے ہوں

مٹیالے چہروں کا ماتم کناں کرب

دل پر ریزہ ریزہ پسرا ہو

خوابوں کے ذرے

آنکھوں میں چبھتے ہوں

ان سب منظر سے اب تو

خنجر بھی درزیدہ ہوگئے

تم پھر بھی کہتے ہو؟

میں رنگوں اور ترنگوں کی

دنیا آباد کروں!

تم ہی بتاؤ!

کیسے اس بستی میں

ارمانوں کے چراغ روشن کروں؟

اب تم ہی بتاؤ!

میں کیسے سیاہی سے ڈھکے آسمان میں

ستاروں کو تلاش کروں؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*