ٹرمپ کادورۂ ہند:توقعات اورخوش فہمیاں

نایاب حسن
ہمارے وزیراعظم مسٹرنریندرمودی کی بڑی آرزو تھی کہ موجودہ امریکی صدرڈونالڈٹرمپ ہندوستان کادورہ کریں، وہ ان کی مہمان نوازی کی شدید خواہش رکھتے ہیں؛ چنانچہ گزشتہ سال ہی یومِ جمہوریہ کےموقعے پر امریکی صدرکوبطورمہمانِ خصوصی بلایاگیاتھا، مگربوجوہ وہ نہیں آسکے، گزشتہ ستمبرکے اپنے دورۂ امریکہ میں مودی نے انھیں پھر یاد دلایا اوربھارت آنے کی دعوت دی، اب اسی دعوت پروہ 24فروری کواپنی اہلیہ ملینیاٹرمپ اورایک مکمل ڈیلی گیشن کے ساتھ ہندوستان کے دوروزہ دورے پرآرہے ہیں، ان کے استقبال میں "نمستے ٹرمپ "پروگرام احمدآبادکے تقریباسوالاکھ لوگوں کی گنجایش والے نوتیارشدہ موتیراسٹیڈیم میں کیاجائے گااوررپورٹس کے مطابق ایئرپورٹ سے سٹیڈیم تک پانچ سے سات ملین لوگ ٹرمپ کے لیے لبِ سڑک چشم براہ رہیں گےـ یہاں توٹرمپ کے استقبال کی تیاریاں زوروشورسے جاری ہیں، احمدآباد سٹیڈیم کو سجایا سنوارا جا رہاہے، شہربھرسے پسماندگی وبدحالی کی علامتوں کومٹانے یاچھپانے کی کوشش کی جارہی ہے اور جھگیوں کے محلّوں کے سامنے "دیوارِہند ” کھڑی کردی گئی ہے؛ تاکہ امریکی صدرکی نگہہِ نازپر کٹے پھٹے لوگ بارنہ بننے پائیں یاہم ایک ترقی یافتہ ملک کے صدرکے سامنے”ایکسپوژ "نہ ہونے پائیں ، مسٹرٹرمپ کے دورے میں تاج محل کی سیاحت بھی شامل ہے،مگرچوں کہ تاج جتناخوب صورت ہے، اس کے اردگردکاماحول اتناہی بدصورت ہے اوراس کے ایک طرف واقع جمناندی بھی خشکی سے دوچارہے؛اس لیے ٹرمپ کے پدھارنے سے پہلے تاج کے گردواقع اس ندی کو یوپی حکومت کی جانب سے "گنگاجل "بھردیاگیاہے،تاکہ مناظرکی خوب صورتی تاج محل سے گزرکرآس پاس کے علاقے تک وسیع ہوجائےـ
ٹرمپ کی آمدسے قبل وزارتِ خارجہ، حکومتِ ہندکابیان آیاہے کہ امریکی صدرکے اس دورے سے ہندـ امریکہ تعلقات میں مضبوطی آئے گی اوراس دوران اسٹریٹیجک، سلامتی،دہشت گردی سے مقابلہ،دفاع، تجارت وغیرہ کے شعبوں پربات چیت اورمعاہدے طے پائیں گےـ مگردوسری طرف بھارت آنے سے قبل امریکی صدرنے اس دورے کے حوالے سے وہاں کی میڈیاسے جوگفتگوکی ہے، اس میں وہ صرف اس بات کاباربارتذکرہ کررہے ہیں کہ بھارت میں ہمارے استقبال کے لیے پانچ سے سات ملین لوگ اکٹھاہوں گےـ تجارتی معاملات کے بارے میں انھوں نے یہ توکہاکہ ہم بھارت کے ساتھ ایک بڑی تجارتی ڈیل کرنے والے ہیں، مگرساتھ ہی یہ بھی کہاکہ اِس دورے میں وہ ڈیل نہیں ہوگی، ممکن ہے وہ نومبرمیں امریکی انتخابات کے بعدہوـ
دوسری اہم بات یہ ہے کہ ابھی اسی ماہ امریکہ نے ہندوستان کو ترقی پذیرممالک کی فہرست سے نکال دیاہے، جس کی وجہ سے تجارت اوربرآمدات کے شعبے میں ہندوستان کو دوسوملین ڈالرسالانہ سے زائد کا خسارہ برداشت کرناپڑسکتاہےـ
کانگریس اوردیگراپوزیشن پارٹیاں امریکی صدرکے بیان اوردورے سے قبل بھارت کے ساتھ کیے گئے امریکی سلوک کی وجہ سے نالاں ہیں اور اس کی ذمے داری مودی سرکارپرڈال رہی ہیں ـ سی پی آئی نے توباقاعدہ ٹرمپ کے دورۂ ہندکے دوران احتجاج کااعلان کردیاہےـ اسی طرح ٹرمپ کے یہاں آنے سے عین قبل امریکی کانگریس کے ایک نمایندہ وفدنے دورۂ کشمیرکے بعدوہاں کی صورت حال پرتشویش کااظہارکیاہے اور حکومتِ ہندسے مطالبہ کیاہے کہ کشمیرمیں حالات کومعمول پرلانے کے ساتھ وہاں مہینوں سے قائم سیاسی اسارت کاسلسلہ ختم کیاجائے اورمقامی سیاست دانوں پرسے پابندیاں ختم کی جائیں ـ اسی طرح چارامریکی ممبران پارلیمنٹ نے امریکی وزیرخارجہ کوباقاعدہ تحریردی ہے، جس میں ہندوستان کے موجودہ مسائل خصوصاکشمیرکے حالات اورمتنازع شہریت ترمیمی قانون کی وجہ سے پیداہونے والی پیچیدگیوں پرتوجہ دلائی گئی ہےـ
ان تمام چیزوں کومدنظررکھتے ہوئے یہ کہنامشکل ہے کہ ٹرمپ کادورۂ ہندخودہندوستان کے لیے کتنامفید ثابت ہوسکتاہےـ ٹرمپ اپنے دورےکے بارے میں کتنے سنجیدہ ہیں، وہ ان کی باتوں سے پتاچلتاہے اوریہ بھی پتاچلتاہے کہ وہ اس دوران کوئی بڑادوطرفہ معاہدہ کرنے کے موڈمیں نہیں ہیں،بہرکیف یہ دیکھنے لائق ہے کہ اس دورے کے تئیں ہماری حکومت جن توقعات کااظہارکررہی ہے، وہ محض خوش فہمیاں ثابت ہوں گی یاان کی کسی حدتک تکمیل بھی ہوگی ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*