ٹرمپ اب بھی ہار ماننے کو تیار نہیں،جارجیا میں پھر جیت کا دعویٰ کیا

واشنگٹن:جنوری میں سینیٹ کے فیصلہ کن انتخابات سے پہلے یہ تقریب منعقد کی گئی ہے۔ جنوری میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں یہ فیصلہ ہوگا کہ ایوان بالا پر کس کا قبضہ ہوگا۔سنہ 1992 کے بعد جو بائیڈن پہلے ڈیموکریٹ امیدوار ہیں جنھیں اس ریاست میں کامیابی ملی ہے۔مسٹر ٹرمپ نے بار بار اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور ووٹنگ میں فراڈ کے نہ ثابت کیے جانے والے متعدد دعوے کیے ہیں۔ریلی سے قبل انھوں نے جارجیا کے رپبلکن گورنر کو ٹوئٹر پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان پر دباو ڈالا ہے کہ وہ ریاست میں جوباییڈن کی جیت کو الٹنے میں مدد کریں۔اپنی کئی ٹوئٹس میں انھوں نے گورنر برائن کِمپ سے کہا ہے کہ وہ مقننہ کا ایک خصوصی اجلاس طلب کریں۔سنیچر کو اپنی تقریر میں اگرچہ وہ اپنی شکست تسلیم کرتے دکھائی دیے جب انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کی خارجہ پالیسی کو بہت جلد تبدیل کیا جا سکتا ہے کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نو منتخب صدر آنے والے ہیں۔
مسٹر بائيڈن کو مقننہ میں 306 ووٹوں کے ساتھ جیت حاصل ہوئی ہے جبکہ مسٹر ٹرمپ کو 232 ووٹ ملے ہیں۔ الیکٹورل کالج 14 دسمبر کو نتائج کے متعلق ملاقات کریں گے۔خیال رہے کہ امریکی قانون کے مطابق منتخب صدر جو بائیڈن جنوری 20 کو اپنا دفتر سنبھال لیں گے چاہے ٹرمپ اپنی شکست تسلیم کریں یا نہ کریں۔تین نومبر کی ووٹنگ کے بعد وہ پہلی بار جارجیا کے والڈوستا میں نظر آئے جہاں انھوں نے پھر سے انتخابی فراڈ کا ذکر کیا اور گورنر برائن کِمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ انتخاب کے دوران پوسٹل بیلٹس زیادہ ہونے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر فراڈ ہوا ہے لیکن اس کے کوئی شواہد نہیں ملے۔تقریبا دو گھنٹے طویل تقریر کے دوران انھوں نے مجمعے سے کہا کہ وہ اب بھی انتخابات جیت سکتے ہیں۔ دراصل وہ وہاں دو رپبلکن سینیٹرز کی مہم کی حمایت میں پہنچے تھے جو دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انھوں نے نہ ثابت کیے جانے والے اپنے دعوے میں ایک بار پھر کہا کہ ‘انھوں نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کی لیکن ہم پھر بھی انتخابات جیت جائیں گے’۔ اس کے ساتھ انھوں نے مزید کہا کہ اس کے لیے مسٹر کِمپ کو ‘ذرا سخت ہونا ہوگا۔’ان کے حامیوں نے ‘میک امریکہ گریٹ اگین’ یعنی امریکہ کو پھر سے عظیم بنانا ہے، ‘چوری بند کرو’ اور ‘چار سال اور’ کے بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق انھیں ایک ذریعے سے معلوم ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ نے برائن کِمپ کو سنیچر کی صبح طلب کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ جن بیلٹس پر دستخط نہیں ہوئے ان کا آڈٹ کریں۔ لیکن کِمپ کے پاس آڈٹ کرنے کا اختیار نہیں ہے اس لیے انھوں نے صدر ٹرمپ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا۔اس کے بعد انھوں نے ٹوئٹر کا سہارا لیا اور لکھا: ‘میں بہ آسانی اور جلدی سے جارجیا جیت جاؤں گا اگر گورنر کِمپ یا وزیر داخلہ دستخط کی تصدیق کی اجازت دیں۔۔۔ یہ دو رپبلکنز نہیں کیوں کہہ رہے ہیں؟’برائن کِمپ نے ٹرمپ کی ٹوئٹ کے جواب میں ٹوئٹ کیا اور لکھا کہ انھیں عوامی سطح پر تین مرتبہ یہ کہا گیا کہ وہ دستخطوں کا آڈٹ کریں جس کے ردعمل میں صدر ٹرمپ نے ریاستی مقننہ کے خصوصی اجلاس بلوانے کا مطالبہ کیا۔سی این این کے مطابق ٹرمپ کی اس کال سے آگاہ ایک شخص نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے برائن کِمپ کو کہا کہ وہ خصوصی اجلاس بلوا کر ریاستی قانون سازوں کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ ایسے الیکٹرز کو منتخب کریں جو ان کی حمایت کرسکیں۔امریکہ کے الیکٹورل کالج کے انتخابات کے نظام کے تحت لوگ صدر کے لیے ایک ووٹ دیتے ہیں اور پھر ریاست کے الیکٹرز کے لیے ووٹ کرتے ہیں اور ریاست کی آبادی کے حساب سے الیکٹورل کالج کو کسی امیدوار کو اپنا ووٹ دینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ریاست میں پانچ جنوری کو فیصلہ کن انتخابات سے قبل سینیٹ کی دو الگ دور جاری ہیں اور دونوں میں ریپبلکن عہدیداروں کے مقابلے میں نئے ڈیموکریٹس ہیں۔70 سالہ سینیٹر ڈیوڈ پریڈو 33 سالہ دستاویزی فلم ساز جون آسوف کے خلاف مقابلہ کریں گے۔50 سالہ سینیٹر کیلی لوئفلر کا مقابلہ اٹلانٹا بپٹسٹ چرچ کے 51 سالہ سینیئر پادری ریورنڈ رافیل وارنوک سے ہے۔حالیہ سروے میں مسٹر وارنوک مز لوئفلر سے آگے ہیں اور پرڈیو اوسوف ایک مردہ دور میں آگے ہیں۔مسٹر ٹرمپ کی رپبلکن پارٹی کو اس وقت ایوان بالا میں خفیف سی اکثریت حاصل ہے اور اس فیصلہ کن انتخاب میں کامیابی سے انھیں نو منتخب صدر بائیڈن کی ڈیموکریٹک انتظامیہ کا مقابلہ کرنے کا موقع ملے گا۔لیکن اگر ڈیموکریٹس باقی دو سیٹیں جیت جاتے ہیں تو وہ سینیٹ کی آدھی نشستوں پر قابو پالیں گے اور نائب صدر فیصلہ کن کے طور پر کام کرسکیں گے۔ڈیموکریٹس پہلے ہی ایوان زیریں یعنی ایوان نمائندگان کو کنٹرول کرتے ہیں۔
(بشکریہ بی بی سی اردو)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*