ٹرپل ایکس-رعایت اللہ فاروقی

مذہبی ذہن کو ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ سلاطین کا دفاع اور ان کی پوجا پاٹ دینی علوم سے نسبت رکھنے والوں کا شیوہ نہیں ـ مجھے نہیں سمجھ آتی کہ یہ گھٹیا شوق آپ کو کیسے کوئی دینی خدمت نظر آجاتا ہے،حد یہ ہے کہ اس معاملے میں آپ اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ جسے سفیان ثوری نے خط لکھ کر کہا ہو "اپنے مظالم سے باز آجا ورنہ قیامت کے دن خدا کے حضور تیرے خلاف گواہی دوں گا” آپ اسی کو سر کا تاج بنا کر بیٹھ جاتے ہیں ـ جس سلطان نے احمد ابن حنبل پر مظالم کا آغاز کر رکھا ہو اسی کی ذکاوت کے قصے آپ یوں شوق سے بیان کرتے ہیں کہ ایک سلطان اور علی ہجویری کا فرق تک مٹا دیتے ہیں، آپ بھول جاتے ہیں کہ امام مالک کو اسی طبقے کے ہاتھوں مدینہ میں پتھراؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا، احمد ابن حنبل پر کوڑے برسانے والے بھی یہی لوگ تھے، ابو حنیفہ اور ابن تیمیہ کے جنازے جیل سے انہی لوگوں کے ہاتھوں اٹھے تھے، سر بازار سعید ابن جبیر جیسے محدث کی گردن مارنے والے بھی یہی تھے، علی بن زید کو ویسے ہی تو ان کے دربار میں کھڑے ہوکر یہ نہ کہنا پڑا تھا "تجھ سے جو بن پڑتا ہے کر مگر یاد رکھ تیرے عروج کے دنوں کی طرح میرے جبر کے دن بھی تیز تیز کٹتے چلے جائیں گے” اور شمس الدین تباری کا دماغ نہیں خراب ہوا تھا کہ اس نے آباقان جیسے سفاک کے دربار میں کھڑے ہوکر اس پر لعنت بھیجی تھی. سو میرے عزیز یہ آپ پڑ کس چکر میں گئے ہیں ؟ جن کی حرکتوں سے آپ کے اسلاف عاجز آگئے تھے آپ نے انہی کی مورتیاں بنا کر دلوں کے مندر میں سجا لیں ؟ آپ اسلام اور سلطان کا فرق اس حد بھول گئے کہ سلطان کو ہی اسلام سمجھ بیٹھے ؟ ایسے میں دیسی لبرلز آپ کے دماغ سے کھیلتے ہیں اور آپ اس کھیل کو سمجھ ہی نہیں پاتےـ مجھے اسلام آباد کی وہ چار سال قبل کی ٹھنڈی رات اب بھی یاد ہے جب ملاقات کے لئے آنے والے تین دیسی لبرلز میں سے ایک نے بات کا آغاز یوں کیا:

"ہم آج مسلم حکمرانی کی تاریخ پر آپ سے بات کرنے آئے ہیں”

عرض کیا:

"مسلم حکمرانوں کا مجھ سے کیا تعلق کہ آپ اس پر مجھ سے بات کرنے آئے ہیں ؟ آپ کو یہ غلط فہمی کیوں لاحق ہوئی کہ میں کسی شاہی خاندان کا گمشدہ چراغ ہوں ؟”

"سر وہ آپ کے ہیروز ہیں ناں”

"یہ میں نے کب اور کہاں لکھا ہے کہ وہ میرے ہیروز ہیں ؟”

"سر، مذہبی ذہن ان کا پرستار نہیں ؟”

"بحیثیت مجموعی مذہبی ذہن تو قرون اولی سے ہی ان سلاطین سے لڑ رہا ہے، سلف بھی ان پر لعنت بھیجتے رہے میں بھی ان پر لعنت بھیجتا ہوں، ہاں پانچ خلفائے راشدین اور دو سلطان مجھے بیحد عزیز ہیں، باقی سب میرے لئے محض تاریخ کا موضوع ہیں.”

"سر آپ نے تو بات ہی مکا دی، ہم تو یہ سوچ کر آئے تھے کہ ڈھائی تین گھنٹے کی سیر حاصل بحث ہوگی”

"اسلامی نظام پر بات کرلیں جو اہل علم کے کرنے کا کام ہے ؟”

"نہیں سر اس پر ہماری نظر نہیں ہے، ہم تو ہسٹری کے سٹوڈنٹس ہیں”

"تو چلئے علم کی ہسٹری پر بات کر لیتے ہیں”

"نہیں سر ہم حکمرانی کی ہسٹری کے سٹوڈنٹس ہیں”

"چلیں پھر پھر فلمیں ڈسکس کر لیتے ہیں”

"ہاں سر یہ ٹھیک ہے، آپ کے خیال میں آج کل زیادہ تر فلمیں کس ٹائپ کی بن رہی ہیں ؟”

"زیادہ تر تو ٹرپل ایکس ہی بن رہی ہیں”

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*