ترنمول کانگریس کی کامیابی کے مضمرات ـ محمد راشد خاں ندوی

پانچ ریاستوں مغربی بنگال، آسام، کیرالہ، تمل ناڈو اور مرکز کے زیر انتظام ریاست پڈوچیری میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے حتمی نتائج کاالیکشن کمیشن کی طرف سے کیا جاچکا ہے۔ کیرالہ میں کمیونسٹ پارٹی (ایل ڈی ایف)، آسام میں بی جے پی اور اس کے اتحادی اور مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس نے واپسی کی ہے، جبکہ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے نے کامیابی حاصل کی ہے۔
ایک وقت تھا جب ریاستی اسمبلیوں کے الیکشن سے دوسری ریاست کے لوگوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی تھی لیکن ٹی وی اور اب ڈیجٹیل میڈیا نے نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا کی ایک ایک خبر تک عام لوگوں کی رسائی آسان کردی ہے۔ پہلے الیکشن ہوتا تھا تو ووٹر اسمبلی الیکشن میں عموماً علاقائی پارٹیوں کو اور پارلیمانی الیکشن میں قومی پارٹیوں کو ترجیح دیتے تھے لیکن میڈیا کی تیز رفتاری نے اب قومی پارٹیوں کے لئے چیلنج کی صورت حال پیدا کردی ہے۔ پہلے کسی ریاست میں جیت کا اثر اسی ریاست تک محدود رہتا تھا لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ ضمنی الیکشن میں جیت کو بھی پارٹیاں اپنی منشا کے مطابق مشتہر کرتی ہیں اور اسے بنیاد بناکر بڑے نتائج حاصل کرنے کا دعویٰ کرنے لگتی ہیں۔ موجودہ ریاستی انتخابات کی تشہیری مہم کے دوران بھی اس طرح کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ ویسے تو 5ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہوئے ہیں لیکن جس طرح وزیراعظم، مرکزی وزیر داخلہ اور مرکزی حکومت کے دیگر وزرا نے مغربی بنگال الیکشن کی تشہیری مہم میں حصہ لیا اس سے ایسا لگ رہا تھا جیسے صرف مغربی بنگال میں الیکشن ہو رہا ہو۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے غالباً 2017میں جب وہ بی جے پی کے قومی صدر تھے اڑیسہ میں پارٹی کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں کہا تھا کہ ہمارے لیے فتح کے جشن کا صحیح موقع تب ہوگا جب اڑیسہ اور مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت ہوگی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ نے مغربی بنگال کی جیت کو اپنے وقار کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ وزیر داخلہ اور خود وزیراعظم نے درجنوں ریلیاں کیں۔ اس درمیان پورا ملک اور خاص طور سے راجدھانی دہلی، مہاراشٹر، گجرات، اترپردیش وغیرہ ریاستیں کورونا وبا کی دوسری سنگین ترین لہر کی زد میں آگئیں، آکسیجن کی قلت کی وجہ سے اموات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ قبرستانوں میں جگہیں کم پڑنے لگیں، شمشانوں میں قطاریں لگنے لگیں، نئے شمشان بنانے کی نوبت آگئی۔ وبا سے خوفزدہ نامعلوم کتنی لاشوں کی آخری رسوم لاوارث کے طور پر ادا کی گئیں لیکن اس کے باوجود مرکزی حکومت کے وزرا کی ترجیح بنگال کا الیکشن ہی رہا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ریاست کا الیکشن حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے کتنا اہم تھا۔ ترنمول کانگریس کے لیڈران کا تو یہاں تک دعویٰ ہے کہ ترنمول کے خلاف یہ الیکشن صرف بی جے پی نے نہیں لڑا بلکہ انھیں ہرانے کے لیے مرکز کی تمام ایجنسیوں نے بھی ساتھ دیا۔ حالانکہ سیاسی لیڈران اس طرح کی بیان بازی کرتے رہتے ہیں اس لیے اسے سیاسی الزام تراشی سے زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے، لیکن ایک ریاست کا الیکشن جیتنے کے لیے نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے بلکہ مرکزی حکومت کے وزراء نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ سوشل میڈیا پر کسی شخص کا ایک جملہ کا تبصرہ تھا کہ ’ایک خاتون کو شکست دینے کے لیے مرکزی حکومت نے اپنی پوری طاقت جھونک دی‘۔ اس تبصرہ کی سچائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اتنی زبردست تشہیری مہم اور شور شرابے کے باوجود مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس کی شاندار کامیابی کے آخر معنی کیا ہیں؟ اس کے کیا مضمرات ہیں؟ جس طرح سے مغربی بنگال کا الیکشن مودی بنام دیدی لڑا گیا اور وقار کا مسئلہ بناکر لڑا گیا اس میں دیدی کی پارٹی کی شاندار کامیابی کا کھلا پیغام ہے کہ کسی لہر کے سہارے اور کھوکھلی نعرے بازی سے بہت دنوں تک الیکشن نہیں جیتے جاسکتے ہیں۔ کورونا وبا کی دوسری لہر نے بھی جس طرح حکومتوں کی قلعی کھولی ہے، جس طرح لوگ بیڈ، آکسیجن و دیگر سہولیات کے لیے پریشان ہوئے ہیں اور اپنوں کی قیمتی جانیں کھوئی ہیں اس سے بھی عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ جذباتی نعروں کے بجائے ترقیاتی کام کرنے والوں کو اپنا رہنما منتخب کریں گے تبھی ملک و ریاست کی ترقی ممکن ہے اور تبھی ان کے حقیقی مسائل حل ہوں گے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)