عالمی ادبیات کی شناخت اور ترجمے کے مسائل-صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹہ
دنیا میں زبان اور اقوام کو لاتعداد تسلیم کرلینے کے بعد آغاز میں ہی یہ بات ذہن میں محفوظ کرلینی چاہیے کہ یہ ایک ناقابل تسخیر ہدف کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسانی جماعتوں کی ہزار خانہ بندیاں مختلف علوم و فنون کی ضرورتوں کے مطابق طے ہوئیں مگر تب بھی ہزاروں طبقات کی شناخت اور شمار امکان سے باہر ہی ہے۔ ہر قوم اور خطّے میں جانی انجانی زبانوں کا بھی جم غفیر موجود ہے۔ جغرافیائی علاقے بھی تاریخِ انسانی کے جبر اور سہولت میں اپنے دائرے توڑتے اور بدلتے رہتے ہیں۔ زبانیں گردشِ ا یّام میں نہ جانے کتنی بار بھولی بسری کہانی بن کر کبھی تاریخ کا حصہ ہوئیں اور کبھی اس کے مُردہ خانے میں پہنچ کر اپنے وجود سے دست بردار ہوگئیں۔ تاریخ کے بطن سے زبانوں کے جو آثار ملے ،ان میں سے نہ جانے کتنی چیزیں تھیں جنھیں نہ ہم پڑھ سکے اور نہ جن کے معانی و مطالب تک انسانی تاریخ پہنچ سکی۔ روز نئے خطے آباد ہورہے ہیں اور نئے لفظ اور ان کے مفاہیم گڑھے جا رہے ہیں۔ اقبال کے لفظوں میں کہیں تو حقیقتاً دمادم صداے کُن فیکون کا سلسلہ قایم ہے۔ معنی متعین ہوتے ہیں اور پھر تغیر و تبدل کا عمل شروع ہوجاتا ہے یعنی کارخانۂ قدرت کو اس کی نیرنگیوں اور رنگارنگیوں کے حوالے سے سمجھے بغیر وجودِ انسانی کا مصرف بے کار ہوجائے گا۔
قدرت کے اس عجائب خانے میں اپنی صلاحیت کے سبب ہم ہزاروں چیزیں سمجھ پاتے ہیں مگر اس بت کدۂ صفات میں ہزاروں معذرتوں کے ساتھ جینا ہمارا مقدّر ہوتا ہے۔ ہم اشرف المخلوقات ہیں مگر ہم جمادات و نباتات کے اشارے نہیں سمجھ سکتے۔ چرند و پرند کے اقوال سے بے بہرہ ہیں اور قدرت کے بہت تھوڑے سے اشارے ہماری گرفت میں آپاتے ہیں۔ اپنی ان معذرتوں پر قابو پانے کے لیے انسان نے ہزاروں ایجادات کیے۔ اپنے ہی اشاروں کے معنیٰ متعین کیے۔ اپنے ہی نشانات کو آوازوں میں تبدیل کیا اور حقائق کی ایک نئی دنیا کی سیر کے لیے وہ نکل پڑا۔ ہوائوں کے شور، جانوروں کی آوازیں اور پرندوں کے چہکنے کے معانی کے قریب پہنچنے کی اس نے کوشش کی۔ جو آوازیں وہ بول سکتا تھا اور جنھیں وہ سن سکتا تھا، ان کے لیے حروف اور الفاظ گڑھے گئے اور اس طرح پتّھر سے لے کر کاغذ تک متعین صورت میں پیش کرنے کے جتن میں انھیںکامیابی ملی۔ اگرچہ یہ کامیابی جزوی تھی مگر زندگی اور کاینات کو سمجھنے کے لیے اوّلین سنجیدہ اور بنیادی کوششیں اسی کی مرہونِ منّت رہیں۔
تاریخ کے مطالعے سے دنیا کی قدیم تہذیبوں کے سراغ حاصل ہوئے۔ دنیا کے کسی گوشے میں ایک طبقہ تھا اور دوسرے گوشے میں دوسرا۔ یہ بے زبان لوگ نہیں تھے۔ تحریر اور تکلّم کے پیمانے وضع کیے گئے مگر ایک خطّے سے دوسرے خطّے کی جغرافیائی دوری کچھ اس طرح کی رہی کہ کوئی اپنے سوا دوسرے کو نہ جان سکتا تھا اور نہ سمجھ سکتا تھا۔ تہذیبِ انسانی کے کارواں آگے بڑھتے گئے اور انسان اپنی ایجادات اور ذوق و شوق سے اس بدلتی ہوئی کاینات میںبہ تدریج آگے بڑھا۔ اس ترقّی میں انسان کے پاس جو سب سے بڑی صلاحیت ایک دوسرے کی باتوں کو سمجھنے کے لیے یہ شوقِ فراواں ہی تھا۔ ہر جگہ ہم نے لفظ نہیں سمجھے۔ بہت سارے اشارے ہماری دست رس سے دوٗر رہے۔ مگر ہم نے کوششیں کیں اور ایک دوسرے کے جذبات اور خواہشات کو اپنے ذہن و دل میں اُتارنے میں مقدور بھر کامیابی پائی۔ زبان کی ایجاد، لفظوں کے معنوں کی تعیین اور پھر انجان علاقوں کا سفر؛ یہ ایک ایسا سلسلہ قایم ہوا جسے ہم علم کی سماجیات کہتے ہیں۔ سیکھنے اور سمجھنے کا یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ سچ تو یہ ہے کہ انسانی سماج کو آج بھی یہ کہاں معلوم ہے کہ وہ اس سفر کے کس مرحلے میں ہے اور وہ کہاں تک جانا چاہتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کارجہاں دراز ہے اور انسان اسی میں مصروف اور منہمک ہے۔
آوازوں اور اشاروں کے معنی متعین کرنے کو "Translation” یا ترجمہ کہتے ہیں۔ غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ انسانی سماج کے پاس یہ ایک ایسابنیادی ہنر رہا ہے جس کی مدد سے یہ کاینات تہذیب و ثقافت کی منزلوں سے بہرہ مند ہوتے ہوتے آج کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ ہم نے اپنے ایک جذبے کو لفظوں کی پہچان دلانے میں نہ جانے کتنی صدیاں گزاری ہوںگی۔ انسانوں کی کوششوں سے ان کی صلاحیت بھی بڑھی ہے۔ لقمان حکیم کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ جنگلوں سے گزرتے ہوئے پیڑ پودے انھیں بتاتے چلتے تھے وہ کس مرض کی دوا ہیں۔ مذہبی کتابوں میں درج ہے کہ پہاڑ بھی عبادتوں میں مشغول رہتے ہیں۔ ہمارے زمانے کے ایک شخص تھے ’’سالم علی‘‘ جو چڑیوں سے باتیں کرلیتے تھے اور ان کی زبان پرندے سمجھ لیتے تھے۔ یہ مقام حیرت تو ہے مگر ہمیں انسانی صلاحیت کی منتہا پر بھی ایمان لانا پڑتا ہے کہ انسان قدرت کے ہزاروں پوشیدہ راز سمجھ سکتا ہے اور وہ اپنی صلاحیت سے پوشیدہ پہلوئوں کو بیان کا قالب عطا کرسکتا ہے۔ انسان کی اگر یہ صلاحیت نہ ہوتی تو دنیا کی تسخیر شاید ممکن نہ ہوتی اور آج ہم ہزار رکاوٹوں کو یاد کرتے ہوئے ایک دوسرے کو جاننے اور وہاں تک پہنچنے میں کامران ہوتے ہیں تو اس کا سبب انسان کی یہی لامحدود صلاحیتیں ہیں جس سے وہ ہر انجانی چیز کو جاننے کی کوشش کرتا ہے اور اس میں کامیاب ہوتا ہے۔
تمدنِ انسانی کے ارتقا میں جس طرح زبان نے اپنے اثرات سے اسے ہمہ گیر جانی انجانی دنیائوں تک پہنچایا، اسی طرح سے اس کی تفہیم کے لیے ایک زبان سے دوسری زبان کے درمیان پُل بنانے اور مافی الضمیر کو نئے معنوی کارخانوں تک پہنچانے کا کارنامہ حقیقت میں نئی دنیا کے دو ایسے طلسم ہیں جن پر نئی دنیا اورہماری کاہنات کا مدارِ حقیقی قایم ہوا ہے۔ اگر ایسے پُل نہ بنے ہوتے اور ایک دوسرے کو جاننے ، اس کی زبان کو سمجھنے اور اس کے بیان کو اپنی زبان میں منتقل کرنے کے ذوق میں انسان دیوانہ نہ ہُوا ہوتا تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ یہ کاینات ایک سکڑی ہوئی اور تنگ گلی سے آگے نہ بڑھتی اور انسان کنوئیں کا مینڈک بنا رہتا۔ آج کی زبان میں کھلے بندوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کاروبارِ ترجمہ کے بغیر یہ دنیا قابلِ تسخیر نہ ہوئی ہوتی اور نہ ہم وسیع و عریض کاینات کے اتنے راز ہرگز نہیںجان سکتے جن تک آج ہماری رسائی ممکن ہوسکی ہے۔ اس لیے آغاز میں ہی یہ بات قبول کرکے ہمیں آگے بڑھنا چاہیے کہ انسانی سماج میں زبان اور لفظ و بیان اگرایک طرف حیرت کا مرکز رہے تو اسی کے ساتھ ایک زبان سے دوسری زبان تک پہنچنے کے شوقِ پایاں نے بھی تفہیمِ کاینات کے بند دروازوں کو کھولا اور دنیا میں نامعلوم سے معلوم کا سفر ہمارے لیے آسان ہوا۔
اعداد و شمار کے ماہرین کے مقالات اور ان کی کتابوں کے مطالعے سے دنیا میں آٹھ ہزار سے زیادہ زبانوں کے وجود کی خبر ہم تک پہنچی ہوئی ہے۔ اس سے زیادہ زبانیں گم ہوگئیں یا مردہ قرار دے دی گئیں، اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ہر زبان کے آس پاس درجنوں بولیوں اور اپنی امتیازی شناخت نہ رکھنے والی علاقائی زبانوں کی ایک فوج بھی موجود رہتی ہے۔ ان تمام کو جمع کرلیا جائے تو یہ تعداد اتنی بڑھ جائے گی کہ Arithmatic کی مہارت کی ضرورت پیش آجائے گی۔ موجودہ عہد تو اختصاص کے لیے سر دھنتا رہتا ہے۔ ایسے میں کوئی ایک شخص زیادہ سے زیادہ دو تین زبانوں سے واقفیت حاصل کرلے تو بڑی بات ہے۔ تاریخ میں پانچ سات زبانوں کے جاننے والے حیرت انگیز کردار کبھی کبھی نمودار ہوجاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک زبان میں خدمات انجام دینے والے شخص کی ہی پوری زندگی لگ جاتی ہے تب بھی وہ اس زبان کا بہ مشکل ماہر قرار دیا جاتا ہے۔ مگر جیسے ہی وہ دوسری زبان کے دروازے پر دستک دیتا ہے، اس کی مہارت اب مبتدیانہ ذوق و شوق کے ساتھ نئے سرے سے میدانِ عمل میں ہوتی ہے۔ زبان کی تہذیب، اس کے بولنے والوں کا روزمرہ، مخصوص لہجہ اور ہزاروں کی تعداد میں آزمائی گئی اصطلاحات کی ایک ایسی مشکل دنیا ہوتی ہے جس سے آگے بڑھنا اکثر ناممکنات میں ہوتا ہے۔ مگر نئی دنیائوں کی طرف اگر ہم نگاہ نہ بڑھائیں تو اپنی زبان کے دائرے میں قید ہوجانے کے علاوہ اور ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ایسے ہی مرحلے سے مترجمین کی قیمت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کیسے چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں اور کس طرح اپنے محفوظ دائرے سے نکل کر بے حد لچیلے اور مشکل راستوں سے نئی زبان تک پہنچتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ہزار مہارتوں کے باوجود آپ اپنی مادری زبان یا بنیادی زبان میں جس قدر کامیابی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرپاتے ہیں، ایک نئی زبان تک پہنچتے ہوئے آپ خود نہ جانے کتنی رکاوٹوں کے ساتھ وہاں پا بہ زنجیر ہوتے ہیں۔
آج کی دنیا میں بڑی حد تک سیاست، ٹکنالوجی اور طاقت کے اعتبار سے زبانوں کا وجود قایم ہوا ہے۔ کچھ زبانیں تاریخ کے پچھلے دور میں بااثر تھیں اور کچھ زبانیں نئے عہد میں اپنی بڑی خدمات سے ایک عالم کو متاثر کررہی ہیں۔ بہت ساری ایسی زبانیں بھی ہیں جو پچھلے دور میں بے حد قیمتی تھیں مگر اب وہ ویسی حیثیت کی حامل نہ رہیں مگر ان کا سرمایۂ ادب اعتبار کا حامل ہے۔ کچھ ایسی بھی خوش قسمت زبانیں ہیں جو دو ہزار اور تین ہزار سال سے اپنا مستقل وجود قایم رکھنے میں کامیاب ہیں۔ وہ زبانیں زیادہ قیمتی تسلیم کی جاتی ہیں جن کے پاس بڑا سرمایۂ ادب موجود ہے۔ عالمی سطح پر موجود ہزاروں زبانوں میں اگر آج یورپ اور امریکہ ، ایشیا اور افریقہ کے شامل قابلِ ذکر زبانوں کی فہرست تیار کریں تو جدید و قدیم بڑی زبانوں کی ایک مختصر سی فہرست بھی کم و بیش تین درجن تو پہنچ ہی جائے گی۔ اس کے بعد بھی وہ اعتراضات قایم رہ جائیں گے کہ آپ نے فلاں فلاں زبانوں کو اس فہرست سے کیوں کر خارج کر دیا؟ ہندستان کو ہی نگاہ میں رکھیں تو اس ملک میں دو درجن سے زیادہ ایسی معتبر زبانیں موجود ہیں جن کے سرمایۂ ادب سے استفادہ کرنا ادب کے ایک طالب علم کے لیے لازم ہوجاتا ہے۔ اگر اسے ہی عالمی سطح پر ایک پیمانہ تسلیم کرلیا جائے تو کم از کم سو زبانوں کی فہرست بنانی ہی چاہیے جنھیں ہم ادبیاتِ عالم کی اصطلاح کی تفصیل کے طور پر پہچان سکتے ہیں۔ اس کے بغیر اطلاق کی سطح پر کوئی گفتگو شاید ہی کارگر ہوسکتی ہے۔