ٹرینوں کی بے سمت رفتار-محمد نوشاد عالم ندوی

(سینئر سب ایڈیٹر روزنامہ انقلاب، دہلی)

ملک میں غیر متوقع لاک ڈاؤن کی دشواريو ں سے نبرد آزما اور بھانت بھانت کے مسائل سے دوچار ایک بڑی آبادی کو راحت دینے کے لئے کافی غور و فکر کے بعد اسپیشل ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سے جہاں تہاں جیسے تیسے پھنسے لوگوں کے چہروں پر امید بھری مسکراہٹ آئی ۔لیکن ٹرینوں کی رفتار اور روٹ کو لے کر جو پریشانیاں  ہوئی ہیں وہ معمولی نہیں ہیں، ٹرینوں کی بے سمت رفتار نے بھی کمزوروں اور بے بسوں کے لیے سہارا بننے کے بجائے ان بیچاروں کی رہی سہی کسر پوری کردی، اور اس طرح ریلوے بھی مزدوروں کے لیے متاع نفع بخش ثابت نہیں ہوئی،بالفاظ دیگر سرکار ٹرین چلا کر بھی مزدروں کو راحت پہنچانے میں ناکام رہی، کیونکہ اسپیشل ٹرینوں کی رفتار، سمت اور منزل کا کوئی ٹھکانہ نہیں، ٹرینوں کی لیٹ لطیفی کی بھی کوئی حد نہیں ، یہ گھنٹوں میں نہیں دنوں میں لیٹ ہو رہی ہیں۔ سورت سے سیوان کے لئے چلی ٹرین نہ جانے کہاں کہاں چلی گئی، دودن کے بدلے ۹ دن میں منزل مقصود تک پہنچی۔ شاید یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ ۴۰؍ ٹرینیں اپنی منزل سے ہی بھٹک گئی، جن ٹرینوں کو ۲۴؍ گھنٹے میں اپنی منزل کو پہنچنا تھا وہ ۱۰۰؍ گھنٹے بعد پہنچیں ، جس سے مسافروں کو غیر معمولی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، دوران سفر وہ کافی پریشان بھی ہوئے ، حکومت کی اس غیر ذمہ دارانہ رویہ کے خلاف سوال بھی اٹھائے گئے ہیں ۔ ٹرین اسٹیشن اور ٹرین کے اندر لوگوں کے ہلاک ہونے کی خبریں بھی خوب چل رہی ہیں ۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ وزارت ریل نے اپنے اوپر کوئی الزام لیے بغیر اس کو سرے سے خارج کردیا ہے۔ حالانکہ مصیبت اور پریشانی کے وقت وزیر ریل کو غریبوں کے دکھ اور درد کو سمجھنا چاہیے، لیکن وہ کہیں پر مہاراشٹر حکومت سے لڑائی کررہے ہیں تو کہیں کیرالہ کے وزیراعلیٰ سے جھگڑتے نظر آرہے ہیں۔ یعنی ان کا جو بنیادی کام ہے، اس سے وہ پہلو تہی کررہے ہیں ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ وہ دعویٰ یہ کہاجارہا ہے کہ کوئی بھی ٹرین منزل مقصود تک پہنچنے میں دو دن سے زیادہ کا وقت نہیں لے رہی ہے، جبکہ سفر کررہے مزدور میڈیا سے صاف کہتے نظر آرہے ہیں کہ انھوں نے دو دن کے سفر کو پانچ دن میں طے کیا ہے ، وہ بھی بھوکے پیاسے۔ وہ لوگ ویڈیو میں اپنا ٹکٹ تک بھی دکھارہے ہیں۔ لیکن ، ریلوے انتظامیہ بار بار جھوٹ بول رہی ہے یا اپنی خامی اور کمیوں کو چھپانے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے، شرم تم کو مگرنہیں آتی۔ کھانا اور پانی سے محروم مسافروں کا اتنا طویل سفر کے دوران بیمار پڑنا کوئی خلاف واقعہ بات نہیں ہے۔ کچھ اموات کی بھی اطلاعات ہیں۔
جلے پر نمک چھڑکنے جیسی بات یہ ہےکہ ایسی بدنظمی اور بے توجہی کے دوران بھی وزراء کی توجہ مسئلہ کو حل کرنے سے زیادہ مخالفین کو نیچا دکھانے پر ہے، وزیر ریل پیوش گوئل ٹویٹر پر یہ ثابت کرنے میں لگے ہیں کہ وہ تو ممبئی سے 200 ٹرینیں روز چلا سکتے ہیں، لیکن مہاراشٹر حکومت کی انتظامیہ اتنا نکما ہے کہ وقت پر مسافروں کی فہرست ہی نہیں دے رہا ہے،جبکہ سچ یہ ہے کہ حکومت کو اتنے کم وقت میں اتنے مزدروں کی فہرست دینا ناممکن تھا، خیر،یہ تو سیاست کی بات ہے اہل سیاست ہی جانیں۔ ۴۵؍ ڈگری سے زیادہ کا درجہ حرارت ہونے کے باوجود بھوکے پیاسے چارچار پانچ پانچ دن سفر کرنے پر مجبور ہیں یہ مزدور۔ اس سے تو یہی ثابت ہورہا ہے کہ مزدوروں کامرنا ان کا نصیب بن چکا ہے، وہ روڈ پر بھی مریں گے اور ریل میں بھی۔ آپ کو بتادیں کہ ۴۹ لاکھ مزدوروں کو صرف اور صرف ۸۴ لاکھ کھانے کے پیکٹ مل رہے ہیں۔ اگر صرف دو وقت کے کھانے کا ہی حساب لگائیں تو کم از کم ۹۸ لاکھ پیکٹوں کی ضرورت پڑتی ہے، یعنی ۱۴ لاکھ پیکٹ کم۔ اس سے یہی ثابت ہورہا ہے کہ سات لاکھ مزدوروں کو دو وقت کا کھانا بھی نہیں دیا گیاجبکہ ریلوے نے بھروسہ دلایا تھا کہ سفر کے دوران دو وقت کا کھانا دیں گے۔ ریلوے کا یہ وعدہ تو نارمل سفر کے لیے تھا، لیکن جب ٹرین کو پہنچنے میں چار سے پانچ دن کا وقت لگ رہا ہے، تو حکومت کو کیا کرنا چاہیے تھا اور وہ کیا کررہی ہے۔ ان کی بے حسی پر کیا کہیں اور کیا نہ کہیں۔ یعنی سرکار کے قول وفعل میں کس قدر تضاد ہے؟ ۔غریب مزدور انڈین ریلوے کا پردہ فاش کررہا ہے۔ ریلوے کی بدنظمی کو اجاگر کررہا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ریل میں اتنے مزدور سفر کے دوران بھوک اور پیاس سے مررہے ہیں۔ بے سمت یاترائیں کو روکنے کے لیے سرکار نے ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا، تو اب سپریم کورٹ نے اس پر نوٹس لیتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ لیکن آپ کو یاد ہوگا کہ کورٹ سے تشار مہتہ نے ہی 31 مارچ کو کہا تھا کوئی مزدور سڑکوں پر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سالیسیٹرجنرل نے سرکار کی ترجمانی کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے وہ انسانیت کو شرمشار کردینے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا یا جو صحافی ان مزدوروں کی بات کرتا ہے وہ گدھ ہیں یا قیامت کے پیغمبر ۔ وہ تو ہندوستان کی سڑکو ں اور ٹرینوں میں دیکھ ہی رہے ہیں کہ قیامت کے پیغمبر کون ہیں؟ سرکار یا سوشل میڈیااورصحافی؟ یہ الگ بات ہے کہ سپریم کورٹ کو بھی 65دن لگ گئے۔ لیکن پھر بھی ہم کورٹ کے شکر گزار ہیں کہ 65 دن بعد ہی سہی لیکن بیدار تو ہوئے، دیر آید درست آید،لیکن اگر یہ بے حس اور اقتدار کے نشہ میں چور سرکار وقت رہتے بیدار ہوتی تو سپریم کورٹ کو اتنا سخت نہیں ہونا پڑتا ۔ کورٹ کو یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کہ، جب بھی کوئی ریاست ٹرینوں کی مانگ کرے تو ریلوے کو انہیں فوراً مہیا کرایا جائے، مہاجر مزدوروں سے بس یا ٹرین کا کرایہ نہیں لیا جائے،کرایہ ریاستوں سے شیئر کیا جائے، مزدوروں کو کھانا مہیا کرایا جائے، جہاں سے سفر شروع ہوتا ہے وہاں کی سرکار کھانا اور پانی مہیا کرائے، اور ریلوے بھی اسے کھانا اور پانی مہیا کرائے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ سرکار کی نیت صاف نہیں ہے۔ یعنی آپ یہ سب نہیں کررہے تھے، یا جو کررہے تھے وہ ناکافی تھا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سرکارکو مزدوروں کی پریشانیوں اور ہونے والے اموات کی کوئی فکر ہی نہیں۔ تقریباً 21 ماہرین قانون نے چٹھی لکھی ، جس پر سپریم کورٹ نے ایکشن لیا اور فرمان جاری کیا۔یقیناًشہروں سے گاؤں اور قصبوں کے لیے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں مزدوروں کو اس فرمان سے بڑی راحت ملی ۔سپریم کورٹ نے کہا،نقل مکانی کررہے مزدوروں سے بسوں اور ٹرینوں کا کرایہ نہ وصول کیا جائے اور دس دن کے اندر ان کے گھر بھیجاجائے ۔ ریاستی حکومتیں ان کے کرایہ کی ادائیگی کریں ۔ اتنا ہی نہیں سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم جاری کیا کہ مزدوروں کو گھر پہنچانے میں تیزی لائی جائے کیونکہ زندگی خطرے میں ہے ۔ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پھنسے ہوئے مزدوروں کو کھانا مہیا کرائیں ، جو بھی مزدورہیں ان کو حکومت بتائے کہ کب اور کہاں سے ان کے لیے بس جائے گی ،جس ریاست سے مہاجر مزدور چلیں گے وہاں اسٹیشن پر ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے ۔
معاف کیجئے گا! ہم اس تحریر کے ذریعہ پوچھنا چاہیں گے کہ کیاوزیر ریل پیوش گوئل اپنا کام ایمانداری سے کررہے ہیں؟ کیا وقت نہیں آگیا ہے کہ انہیں کٹگھرے میں کھڑا کیا جائے، ان کی ناکامی کی وجہ سے ان سے سوال کیا جائے۔ یہ بندھوا مزدور نہیں ہیں کہ ان کو کسی بھی بارڈر پر روک دیا جائےگا، ان کو روکنا بالکل درست نہیں ہے، بلکہ یہ آئین ہند اور جمہوری تقاضوں کے خلاف ہے۔ یہ بھی ہندوستانی ہیں ، ان کو بھی ان کا حق ملے یہی ہمارا دستور ہے۔
سرکار کو چاہیے کہ وہ مزدوروں کے اکاؤنٹ میں جلد سے جلد خاطرخواہ روپے بھیجیں، ان کی ہرممکن مدد کو یقینی بنائیں۔ ہم یہ نہیں کہتے ہیں کانگریس صدر سونیا گاندھی کے فارمولہ پر ہی عمل کیا جائے، لیکن اگر وقت اورحالات کے اعتبار سے صحیح ہوتو سرکار کو لبیک کہنا چاہیے۔ کیونکہ یہ وقت سیاست کے لیے بالکل موزوں نہیں ہے۔ بلکہ یہ وقت قدم سے قدم اور اآواز سے آواز ملا کر چلنے کا ہے، کیونکہ پورا ملک ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے ۔ اس پورے نظام میں کن کن سطحوں پر کس کس طرح کے مسائل آ چکے ہیں اس کو حل کرنےاور اس کے لیے مضبوط اور ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنے اور اپنی غلطی کو قبول کرنے کے ساتھ آگے بڑھنے سے ہی ملک کی ترقی کی رفتار میں تیزی آئے گی۔ ہم یہ بھول نہیں سکتے کہ وائرس سے ہماری لڑائی اب بھی جاری ہے، جس میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جارہاہے۔ ایسے میں سب کے لئے اچھا یہی ہوگا کہ ہم آپسی چھینٹا کشی سے گریز کریں۔ اور ملک کے مسائل کو خواہ وہ مزدوروں کے ہی مسائل کیوں نہ ہو، جلد سے جلد حل کریں۔ کیونکہ یہ غیر معمولی آفت ہے ، اس لیے سرکار کو چاہیے کہ مناسب قدم اٹھائے ۔ورنہ سرکار کے لیے یہی کہنا مناسب ہوگا کہ :کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)