بدلتے بھارت میں مسلم پولس افسر کا دردناک قتل-سید فاروق احمد

دہلی سرکار میں سول ڈیفنس میں تعینات سنگم وہار کی رہنے والی۲۱ سالہ رابعہ سیفی کا قتل گزشتہ کچھ دن قبل انتہائی وحشیانہ طریقے سے کر دیا گیا۔قتل اتنا خطرناک اور دردناک طریقے سے کیاگیا کہ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، روح کانپ جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سنگم وہار کی رہنے والی رابعہ سیفی دہلی پولس اسٹیشن میں پولس کانسٹبل کے عہدہ پر فائز تھی اور ابھی اس کی نوکری کو صرف چاہ ماہ ہی مکمل ہوئے تھے۔ جب وہ ۲۷؍ اگست کو گھر نہیں لوٹی تو گھر والوں نے پولس اسٹیشن کوفون کیاوہاں پہلے فون ریسیو نہیں کیاگیا بعد میں بار بار فون لگانے کے بعد جواب یہ ملا کہ وہ یہاں سے جاچکی ہے ۔پھر گھر والوں نے اسے تلاش کرنا شروع کیا لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں ملا بعدمیں رابعہ کی لاش ملی جو انتہائی بے دردی سے قتل کی ہوئی پائی گئی۔ جس کا پہلے کئی بار ریپ ہوا پھر اس کو بے رحمانہ قتل کیاگیا جس کی لاش پر۵۰ سے زائد چاقو سے وار کئے گئے تھے۔گردن کاٹ دی گئی،دونوں پستان کاٹ دیے گئے شرم گاہ میں متعدد بار چاقوں سے وار کئے گئے۔ پیر اور ہاتھ کی نسیں کاٹ دی گئی اور کمر کے حصے میں چاقو سے پے درپے وار کئے گئے۔والدین نے فوری کیس درج کیا لیکن پولس اس معاملہ کو نظر انداز کررہی ہے۔ اور ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ متاثرہ خاندان اس معاملے کو فرید آباد کے سورج کنڈ پولیس اسٹیشن سے سنگم وہار پولیس اسٹیشن منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ پولیس اس کیس میں تیزی سے کام کر سکے اور مجرموں کو سزا دلانے میں مدد مل سکے۔ اب تک اس معاملے میں پولیس نے کوئی بڑی کارروائی نہیں کی ہے اور کاروائی کے نام پر صرف ٹال مٹول کررہی ہے جس کی بنا پر رابعہ کے والدین نے پولس افسران پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ وہ لوگ ہی اس قتل کے اصل ذمہ دارہیں اوران کے خلاف سخت سے سخت کاروائی ہونی چاہیے ،اور سی بی آئی جانچ کے بعد ان قاتلوں کو پھانسی کی سزا ہونی چاہیے۔

اس بے رحمانہ قتل کے بعد دہلی میں شدید ناراضگی ہے۔ رابعہ کو انصاف دلانے کے لیےسنگم ویہار میں گلی نمبر 1 سے رات 8 بجے تک پوری سنگم وہار تک کینڈل مارچ نکالا گیا۔ رابعہ کی روح کے سکون کے لیے نکالے گئے کینڈل مارچ میں نوجوانوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سب نے رابعہ کے قاتلوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔وہیں اس معاملے کو لے کر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) دہلی یونٹ کے ارکان نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور رابعہ کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن یقین دہانی کرائی۔ ایم آئی ایم کے دہلی صدر کلیم الحفیظ نے رابعہ معاملے پر کیجریوال حکومت سے متاثرہ کنبہ کو فوراً انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے ساتھ ہی قومی(گودی) میڈیا کے ذریعہ اس حساس معاملے کو نہ اٹھانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

رابعہ کے بھائی نے انصاف کی بھیک مانگتے ہوئے سیاسی پارٹیوں پر الزام لگایا کہ ان کی مدد کے لیے کوئی بھی آگے نہیں آرہا ہے۔انھوں نے کہا کہ نربھیا ریپ کے بعد جس طرح پورا ملک متحد تھا ، اسی طرح کی یکجہتی نہیں دکھائی دے رہی ہے اور اس کیس میں ہمارا کوئی ساتھ نہیں دے رہا ہےجبکہ یہ معاملہ نربھیا کیس سے زیادہ وحشیانہ اور بھیانک ہے۔

اس کیس میں ایک اور نیاموڑ سامنے آیا ہے۔ جو اس کیس کی مزید پرتیں کھولے گا۔نئی بات یہ سامنے آئی ہے کہ رابعہ کی والدہ کورابعہ کی پولس دوست جیوتی کا فون آتا ہے جس میں وہ کسی مسلم لڑکے کا نام لیتی ہے اور بار بار یہ کہتی ہیں کہ آنٹی آپ فون کال ریکارڈ تو نہیں کررہی ہیں نا۔رابعہ کی والدہ کہتی ہیں کہ نہیں بیٹی بولو کیا مسئلہ ہے۔پھر جیوتی بار بارسول ڈیفیس کے مہرا سر کا ذکر کرتی ہے اور کہتی ہیں کہ رابعہ کے پاس مہرا سر نے چابیاں رکھنے کے لیے دی تھی اور پھر جیوتی کسی فلیٹ کی بات کرتی ہیں۔جہاں کی وہ چابیاں تھیں جس کے اندر شاید لاکھوں کروڑوں روپے رکھے گئے تھے۔یعنی کہ رابعہ ایک ایسا راز جانتی تھی جس میں بڑے بڑے سیاستداں سمیت اعلی عہدیداران بھی شامل تھےاور وہ راز سچی محنت اور لگن سے کام کرنے والی رابعہ کے ذریعے باہر آجانے کا ڈر تھااسی لیے شاید پولس افسران نے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اس کا قتل کروادیا۔ اگرکیس کی صحیح صحیح طور پر جانچ ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ پولس کا کالا چہرہ سامنے ضرور آئے گا۔اس کی تو امید بہت کم ہے لیکن یہ بات توضرور ہے کہ اس کیس میں پولس کا کچھ نہ کچھ ہاتھ ضرور ہے۔

ایک طرف دلی سرکاراور بی جے پی حکومت’’بیٹی بچاؤ‘‘ کے تحت خواتین کی حفاظت کے لیے بسوں میں اور ٹرینوں میں خواتین پولس اہلکار تعینات کرتی ہیں لیکن خود پولس اہلکار،پولس کانسٹبل کا اتنا برا اور دل دہلا دینے والا قتل ہوجاتا ہے تو پھر اب ایسے میں دہلی پولس کیا قدم اٹھائے گی۔مودی راج میں جب پولس مسلم کانسٹبل ہی محفوظ نہیں تو عام عوام اپنی حفاظت کے لیے کیا کریں۔ملک میں بڑھ رہی ہندو مسلم منافرت کے درمیان اس طرح کے واقعات کو نہ ہی گودی میڈیا بتارہا ہے اور نہ ہی اس ملک کی اکثریت اس کے انصاف کی بھیک مانگنے سڑکوں پر اتررہی ہے۔ جس طرح نربھیا کیس کو پورے بھارت میں ایک تحریک کے طور پر پیش کیاگیا تھا، کیا رابعہ سیفی کے اتنے خطرناک قتل اور دل دہلادینے والے واقعہ کو بھی گودی میڈیا میں کوئی جگہ ملے گی؟جبکہ نربھیا سے خطرناک رابعہ سیفی کا معاملہ پیش آیا ہے لیکن قصور صرف اتنا ہے کہ نربھیا ہندو تھی اور رابعہ مسلمان ، افسوس کہ شیطان طاقتیں نفرتوں کے بیج بونے میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہیں۔

اب جبکہ یہ بات دھیرے دھیرے کھلتی جارہی ہے کہ رابعہ قتل کے پیچھے پولس افسران کا بھی ہاتھ ہے تو عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہلی سول ڈیفینس میں ہم اپنے بچے بچیوں کو نہیں بھجیں گے کیونکہ ملک کی رکشا کرنے والے ہی اب قاتل بن رہے ہیں توعام عوام کہاں جائیں اور دہلی ڈفینس کے بارے میں عوام کہہ رہی ہیں کہ وہاں اپنے بچوں کو نہ بھیجیں کیوں کہ وہاں لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں کی جاتی ہیں،ان کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں اور منہ بند نہ رکھنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہے۔یہ ساری باتیں اس لیے سامنے نہیں آتیں کیونکہ لوگ اپنی بدنامی کے ڈر سے یہ باتیں کسی سے کہہ نہیں پاتے ہیں۔

رابعہ کے والد نے بتایا کہ میری بیٹی کا دردناک قتل پولس والوں نے ہی کیا ہے۔یہ قتل کسی ایک شخص نے نہیں کیا؛بلکہ اسٹاف کا ہیڈ رویندرمہرا کا پورا اسٹاف اس میں شامل ہے۔ گھروں میں جھاڑوپوچھا لگاکر اور برتن دھو کر بیٹی کو پڑھانے لکھانے والی ماں کا کہنا ہے کہ کیاہم نے رابعہ کواسی لیے پڑھایالکھایا اور بڑا کیا کہ وہ جس شعبہ میں جاکر اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کریں وہیں قانون والے اور انصاف والے اسے ایک دن مارڈالیں گے یہ ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا۔رابعہ کے قتل کے بعد یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ پولس جیسا قانون والا شعبہ بھی اب داغدار ہونے لگا ہےداغدار تو پہلے ہی ہوچکا تھا لیکن اب پرتیں کھلنے لگی ہے اور لوگوں کا اب پولس پر سے بھروسہ اٹھنے لگا ہے ،لوگ اب ڈرنے لگے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو سول سروسیز میں آگے پڑھائیں یانہ پڑھائیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا رابعہ کو نربھیا کی طرح انصاف ملے گا یا پھر کیس صرف ڈائری تک سمٹ کررہ جائے گااور ہمارے دھرنے اور احتجاجات صرف اخباروں کی زینت بن کر رہ جائیں گے؟

رابعہ سیفی کو انصاف دلانے کی لیے کینڈل مارچ اتر پردیش کے ضلع نوئیڈا میں بھی نکالا گیا۔ جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔یہ کینڈل مارچ اسپائس مال سیکٹر 25 سے شروع ہوکر نوئیڈا اسٹیڈیم پر ختم ہوا۔ اس دوران حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قاتلوں کو پھانسی کی سزا دی جائے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت کا مقام ہو۔ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ اس کیس کی سی بی آئی جانچ ہو اور اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دیا جائے اور گھر کے کسی ایک فرد کو سرکاری نوکری بھی دی جائے۔جی ہاں، ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ رابعہ کو انصاف ملے اور قاتلوں کو پھانسی کی سزا ہواو رآپ تمام سے گذارش ہے کہ آپ اپنی طاقت اور اپنی استطاعت کے مطابق انصاف کے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانا بھی ظالم کا ساتھ دینا ہوتا ہے۔