ٹول کٹ کیس،عدلیہ نے دشاروی کو ایک لاکھ کے مچلکے پر دی ضمانت

نئی دہلی:کسان کی تحریک سے وابستہ ٹول کٹ کیس میں کلائی میٹ کارکن دشا روی کو ضمانت مل گئی ہے۔ دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت نے منگل کو دشا کو ایک لاکھ کے مچلکے پر مشروط ضمانت منظور کرلی، اس طرح دشا 9 دن کے بعد جیل سے باہر آسکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس کیس کے شریک ملزم شانتانو ملوک نے بھی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔ اس کی سماعت بدھ کے روز ہوگی ۔پچھلی سماعت میں عدالت نے دہلی پولیس سے پوچھا تھا ، آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ 26 جنوری کو ٹول کٹ اور تشدد کے مابین کوئی تعلق ہے؟ اس پر دہلی پولیس نے بتایا تھا کہ اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے، ہمیں اس کی تلاش جاری ہے ۔ پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ بھارت کو بدنام کرنے کی عالمی سازش میں دشا بھی مبینہ طور پر ملوث ہے۔ اس کے ذریعہ کسانوں کی تحریک کی آڑ میں ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ دشا نے نہ صرف ٹول کٹ بنائی اور شیئر کیا، بلکہ وہ خالصتان کی ایک وکیل کے ساتھ بھی رابطے میں تھیں، تاہم دشا کے وکیل نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔دشا روی کا پولیس ریمانڈ پیر کو ہی ختم ہوگیا تھا۔ جس کے بعد چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے ایک دن کے پولیس ریمانڈ میں توسیع کی۔ تاہم دہلی پولیس نے عدلیہ سے 5 دن کا ریمانڈ حاصل کیاتھا، آج یہ ریمانڈ بھی ختم ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دشا نے اس معاملے میں سارے الزامات شانت نو اور نکیتا پر ڈال دیئے تھے ، لہٰذا آمنے سامنے بٹھا کر پوچھ گچھ ضروری تھی۔دشا کو دہلی پولیس نے 14 فروری کو گرفتار کیا تھا، دہلی پولیس کے مطابق دشا ’فرائڈے فار فیوچر ‘ مہم شروع کرنے میں شامل تھیں ، نے گوگل ڈاک بنا کراسے سرکولیٹ کیا تھا۔ اس کے لئے اس نے واٹس ایپ گروپ بنایا، وہ اس ٹول کٹ کا مسودہ تیار کرنے میں بھی شامل تھی اور گریٹا تھونبرگ کے ساتھ ٹول کٹ شیئر کیا تھا۔