تحفے کا اصلی حقدار ـ دانش حماد جاذب

اسسٹنٹ پروفیسر، ٹاٹا کالج چائباسہ

استاذ کی قیمت سال بھر میں ایک تحفہ دے کر ادا نہیں کی جاسکتی ۔ ایک استاذ طالب علم پر بہت محنت کرتا ہے وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کا یہ شاگرد اس سے بھی آگے نکل جائے اور اعلی مرتبہ پائے اور اپنے طالب علم کی کامیابی پر فخر بھی کرتا ہے اسی لئے کلاس میں جو بچہ ذہین ہوتا اس سے استاذ کو انسیت ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ استاد اس طالب علم سے کئی امیدیں وابستہ کرلیتا ہے ۔ ایک دن یوم اساتذہ مناکر استاد کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا ۔ بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ہر جگہ استاد کا احترام لازم ہے ۔ اگر ہم اپنے اساتذہ کی ہمیشہ قدر کریں اور ایک دن انہیں تحفے تحاءف سے نوازیں اور ایک دن ان کے نام کریں تو اس میں قباحت نہیں ۔ عالمی یوم اساتذہ ایک استاذ کیلئے واقعی خاص ہونا چاہیے ۔ جیسے جیسے عالمی یوم اساتذہ قریب آرہا ہے طلباء کے مابین جوش وجذبہ بڑھتا جارہا ہے ۔ بازاروں میں رونق بڑھی ہوئی ہے ۔ ہرطرف طلبہ و طالبات کا شور وغوغا ہے ہر کوئی اپنی پسند اور اپنی حیثیت کے مطابق تحفے خریدنے میں مشغول ہے ۔ کچھ طلبہ پلاننگ کررہے ہیں کہ اس سال اپنے چہیتے استاذ کے ساتھ یوم اساتذہ کے تقریب کو کس طرح ممتاز اور خاص بنایا جائے ۔ کسی کے لئے ریاضی کے استاذ اہم تھے تو کسی کے لئے انگلش کے اور کوئی اپنے ٹیوشن کے استاذ کے لئے تحاءف خرید رہا تھا ۔ کالجوں کے طلبہ اپنے اپنے شعبے کے استاذ کے لئے تیاری کررہے تھے ۔ شعبہ اردو کے آفس میں بیٹھے میرے ذہن میں طرح طرح کے خیالات امڈ رہے تھے ۔ میں یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ مجھے کس طرح کے تحاءف ملیں گے یاطلبہ میرے لئے کیا تیاری کررہے ہیں بلکہ یہ سوال ذہن میں ابھر رہا تھا کہ میرے لئے کون سے استاذ سب سے اہم ہیں جنہیں ایک خوبصورت تحفہ دوں ۔ آج میں تعلیم یافتہ ہو کر اس مقام پر فائز ہوں تو اس کے لئے کس استاذ نے سب سے زیادہ محنت کی ہے ۔ میرے اساتذہ کی فہرست بہت لمبی تھی ۔ ابتدائی تعلیم مکتب میں حاصل کی وہاں ایک استاد نے حروف تہجی سے متعارف کرایاتو ایک نے ریاضی کے علم الاعداد یاد کرائے ۔ ایک نے انگلش کا اے بی سی ڈی پڑھایا تو ایک نے ہندی کے حروف سے آشنا کرایا ۔ اپنے تصورات کو ماضی کی کتاب میں لے گیا اور یکے بعد دیگرے سبھی اوراق کا سرسری جائزہ لینے لگا ۔ مکتب میں حافظ صاحب نے قران کا ناظرہ کروایا تو مولانا صاحب نے اسلامیات پڑھایا ۔ دین کے ابتدائی علوم سے آشنا کرایا ۔ ایک پل کے لئے لگا کہ یہی وہ اشخاص جنہیں تحفے دینا چاہیے ۔ کیونکہ انسانی حیات کا مقصد ہی اخروی زندگی کی تیاری ہے اور یہ علوم میں نے انہی سے سیکھاہے ۔ قران و احادیث ہی مشعل راہ ہے اور اس پر انہی اساتذہ نے مجھے گامزن کیا ہے ۔ سوچا کہ ماضی کا پورا مطالعہ کیا جائے اس لئے اوراق ماضی کو الٹنے لگا اور علاقائی مکتب و مدارس سے نکل کر ہندوستان کے دو بڑے ادارے میں پہنچ چکا تھا ۔ جامعہ سلفیہ بنارس جہاں میں نے قران یاد کیا ۔ یہاں حافظ صاحب بہت ہی شفیق اور مہربان تھے ۔ جو طالب علم سبق اچھی طرح سناتا انہیں اپنا کھانا اور ناشتہ تک دے دیتے ۔ اللہ انہیں غریق رحمت کرے اور ان کی بشری لغزشوں کو معاف کرے ۔ عمراباد میں عربی صرف و نحو کے ساتھ علوم حدیث سیکھا ۔ یہاں کے اساتذہ نے بھی میرے اندر کے جوہر تراشے ۔ دراصل میرے قلم کو روانی یہیں حاصل ہوئی ۔ یہاں کے طلباء کے درمیان میں صاحب قلم تھا اساتذہ مجھے بلاتے اور نیک مشوروں سے نوازتے ، میری سخن گوئی کا اعتراف کرتے ہوئے مجھ سے امیدیں وابستہ کرتے اور صحیح رہنمائی فرماتے ۔ مدارس کی تعلیم سے فراغت کے بعد میں نے کالج میں داخلہ لیا گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن مکمل کیا ۔ ممتاز ہونے پر سونے کا تمغہ بھی ملا ۔ لیکن کالج میں اساتذہ کی رہنمائی حاصل نہیں ہوئی جوبھی کیا خود سے کیا ۔ اس طرح پورے ماضی کا احاطہ کرنے پر مجھے بہت سے استاذ ایسے ملے جنہوں نے جب جب جہاں جہاں موقع تھا مجھے تراشا اس ٹیچرس ڈے کا تحفہ کسے دوں میں کنفیوز تھا ۔ پھر اچانک ایک خیال آیا کہ ایک استاذ ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے میں تعلیم کے ہر میدان میں میری رہنمائی کی ۔ بری صحبت اور بری عادت سے روکنے کے لئے سختی سے پیش آئے ۔ ان کی سختیاں بچپن میں بہت چبھتی تھیں پر آج وہ بت تراشی میں ہتھوڑے کی چوٹ معلوم ہوتی ہیں ۔ میری زندگی کے اصول انہوں نے مقرر کئے، سچائی اور ایمانداری کی راہ پر گامزن کیا ، حلال رزق کے حصول میں کافی زور دیا ۔ سماجی اور اقتصادی پہلو میں میری رہنمائی کی ۔ بچپن کا تو نہیں معلوم مگر جوانی میں میں انہی کی طرح بننا چاہتا تھا ۔ اسکول اور مدرسے میں ہر سبجیکٹ ہر مضمون کے لئے الگ استاد تھے لیکن وہ مجھے ریاضی بھی پڑھاتے ، انگلش ، ہندی ، عربی ، سائنس، جغرافیہ، تاریخ غرض ہر مضمون کے استاذ وہ اکیلے تھے ۔ جب میں بڑا ہوا دینی مدارس میں پڑھنے لگا تو مجھ سے قران سنتے، احادیث پر تبادلہ خیال کرتے ، کالج کی پڑھائی میں اکساتے ہمیشہ رپورٹ لیتے رہتے ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ تجارتی علوم ، نفع نقصان ،حساب کتاب اور تقاضہ سب میں نے ایک ہی استاذ سے سیکھا ۔ تو عالمی یوم اساتذہ میں میرے تحفے کا پہلا حق دار وہی ہوئے نا;238; ایک بات اور کہ اپنے طویل تعلیمی سفر میں میرے جتنے بھی اساتذہ تھے سبھی پیشے سے استاذ تھے ۔ اپنی ذمہ داریوں اور فراءض کے تحت رہنمائی کررہے تھے ۔ مگر میرے استاذ نے بلا معاوضہ ہمیشہ میری رہنمائی کی ۔ میرا مستقبل سنوارنے میں لگے رہےاور ساتھ ہی ساتھ ہمیشہ دعاءوں سے نوازتے رہے ۔ آپ نے کبھی مجھ سے گرو دکشنا یا ٹیچرس ڈے کا تحفہ طلب نہیں کیابلکہ میری کامیابی ہی ان کے لئے سب سے بڑا تحفہ تھا ۔

بہت پر عزم ہوکر اپنے ٹیبل سے یہ عہد کرتے ہوا اٹھا کہ اس بار بلکہ ہر بار عالمی یوم اساتذہ میں اپنی زندگی کے ہر شعبے کے استاذ بے لوث اور مخلص استاذ اپنے ’’ والد محترم‘‘ کے ساتھ مناءوں گا ۔ میرے یوم اساتذہ کے تحفے کے حقدار میرے والد ہیں جو بلا معاوضہ میری رہنمائی کرتے رہے اور اب تک اپنے مفید مشوروں سے نواز تے ہیں ۔ ہمیشہ میرے لئے دعا گو رہتے ہیں اور میرے بہتریں مستقبل کیلئے کوشاں ہیں ۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ آپ بھی میرے نظریے سے ایک بار دیکھیں ۔ آپ بھی ایک غائرانہ نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ اس سال آپ یوم اساتذہ کس کے ساتھ منانا چاہیں گے ۔