تحفۂ مومن:ایک جائزہ – ساجد حسن رحمانی

(فاضل دارالعلوم دیوبند، یوپی)
"تحفۂ مومن ” مفتی محمد ثناء اللہ قاسمی کی تازہ ترین کتاب ہے،جو چالیس حدیثوں کی تشریح و توضیح پر مشتمل ہے۔ یہ مفتی صاحب کی دوسری تصنیف ہے، جس نے قارئینِ  علمِ حدیث کے دلوں میں آپ کے حدیث سے بے پناہ اشتغال اور آپ کی علمی عظمت کا رعب بٹھا دیا ہے اور جس کی تالیف پر آسمانِ علم وادب نے بھی آپ کو مبارکباد دی اور آپ کی ذاتِ با برکات کے تئیں تحسین کے کلمات کہے ۔ یہ کتاب ۲۴۸صفحہ ہر مشتمل ہے، صفحہ ۴تا ۱۳ مرکزی اور ذیلی عنوانات کی فہرست پر محیط ہے، صفحہ ۱۴پر شیخ الحدیث مولانا محمد مظہر عالم صاحب مظاہر ی دامت برکاتہم، خلیفہ ومجاز شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب مہاجر مدنی نوراللہ مرقدہ کا پیشِ لفظ ہے، صفحہ ۱۵پر حضرت مولانا اظہار الحق صاحب المظاہر ی دامت برکاتہم ناظم جامعہ عربیہ اشرف العلوم "کنھواں” کے تأثرات درج ہیں، پھر ڈھا ئی صفحے تک حضرت مولانا زبیر احمد صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ، سابق ناظم جامعہ عربیہ اشرف العلوم "کنھواں” سیتامڑھی بہار کی تقریظ  ہے اور اخیر میں عرضِ مؤلف کے عنوان سے صاحبِ کتاب نے وہ باتیں لکھی ہیں؛ جسے ہر مؤلف اپنی کتاب کی تربیت کی تکمیل کے بعد اپنے انفرادی اور یگانہ اسلوب میں خوشی ومسرت سے لبریز ہو کر سپردِ قرطاس کرتے ہیں۔ مؤلف نے عرضِ مؤلف میں جہاں حدیث کی فضیلت، اربعین کی ترتیب کی فضیلت اور دیگر نفع بخش باتیں تحریر کی ہیں وہیں اس کتاب کا تحفۂ مومن نام رکھنے کی وجہ اور اس کی تالیف کا سبب بھی بیان کیا ہے۔
چنانچہ لکھتے ہیں "فضیلت کے سال بخاری شریف جلد ثانی کے سبق میں استاذ نا االمحترم شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق صاحب اعظمیؒ شیخ ثانی دار العلوم دیوبند اطال اللہ بقاء ہ (جواب رحمۃ اللہ علیہ ہوگئے) نے ہم طلبہ کو چالیس حدیثیں جمع کرنے کی ترغیب دی تھی، حقیقت یہ ہے کہ حضرت والا کی ترغیب ہی اس تالیف کااصل محرک ہے اور ارادہ اسی وقت ہوا مگر عمل کےلیے یہی وقت مقدر تھا۔ (تحفۂ مومن:صفحہ ۲۱) اسی عرضِ مؤلف میں آگے اس تالیف کا تحفۂ مومن نام رکھنے کی وجہ یوں بیان کی ہے۔ "ایک حدیث میں جو اس مجموعہ کی پہلی حدیث ہے موت کو مومن کا تحفہ کہاگیاہے اسی سے استبراک کرتے ہوئے اس کتاب کا نام ” تحفۂ مومن "رکھا، اللہ اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرماکر واقعتاً تمام ایمان والوں کے نزدیک اس کو گرانقدر تحفہ کی حیثیت سے ہی مرغوب ومقبول بنا دیں”۔ (تحفۂ مومن صفحہ ۲۲)تقریظ میں مولانا زبیر احمد قاسمی رحمۃاللہ علیہ نے جس درجہ خوشی کا اظہار کیا اور کتاب کے بارے میں جوبلند کلمات کہے، جدید مصنفین میں بہت کم ہی ایسے ہوں گے جن کی کتاب کو دیکھ کر اور پڑھ کر حضرت رحمۃاللہ علیہ نے ویسی خوشی کا اظہار کیا ہوگا اور اس کے مماثل کلمات کہے ہوں گے؛ چناں چہ لکھتے ہیں:”یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ آج اربعین وچہلِ حدیث کے نام سے جتنے مجموعے مطبوعہ شکل میں ہمارے درمیان پائے جاتے ہیں ان کے مرتبین میں ہند و بیرونِ ہند کے مختلف جبالِ علم کا نام بہ کثرت ملتاہے، جبکہ بہار کے کسی عالم دین کی ایسی خوشی نصیبی دیکھنے کو آنکھیں گویاترستی رہتی تھیں، بلاشبہ یہ ایک کمی تھی جو حسرت وقلق کا باعث تھی اور غیور وحساس دلوں کے لیے سوہانِ روح، اللہ جزاء خیر دے ہمارے عزیز مرتبِ رسالہ کو کہ انہوں نے بڑی محنت وعرق ریزی سے کام لیکر موضوعات کے اعتبار سے بہت جامع اربعین مرتب کردیا ہے جو اپنی تشریح و توضیح کی روشنی میں صرف عوام ہی نہیں؛ بلکہ علماء و طلبہ کے حق میں بھی بارآور مفید تر بن گیا ہے، اور آخر میں اپنا یہ تأثر بھی ظاہر کردینا مناسب سمجھتا ہوں کہ ہم پر تو اس مجموعہ کے مطالعہ سے فرحت وانبساط کی وہی کیفیت طاری ہوئی جس سے کبھی مشہور عالمِ دین اور مضبوط صاحب قلم صحافی مولانا سعید احمد اکبر آبادی کو سابقہ پڑا تھا،آج سے کم وبیش چالیس پچاس سال پہلے جن دنوں عالمِ اسلام میں چند محدثین محققین اپنے خاص تحقیقی وعلمی کارناموں سے دنیائے علم پر گویا چھائے ہوئے تھے اور پورا برصغیر ہند وپاک ان کی نظیر و مثیل سے بظاہر خالی محسوس ہو رہاتھا؛ لیکن انہیں دنوں حضرت الشیخ مولانا حبیب الرحمن اعظمی علیہ الرحمہ نے جب مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبدالرزاق وغیرہما مختلف کتب ِ احادیث کو اپنے تحشیہ وتعلیق سے مزین کر کے شائع کیا؛ بل کہ الشیخ احمد محمد شاکر کی اپنی تعلیق و تحشیہ کے ساتھ شائع کردہ مسند احمدبن حنبل پر اپنے کچھ استدراکات بھی ان کے پاس بھیجے تو شیخ احمد محمد شاکر ان استدراکات کی اہمیت سے اس قدر متأثر ہوئے کہ شیخ اعظمی علیہ الرحمہ کو اپنا استاد مان لیا۔ انہیں دنوں مولانا سعید احمد اکبر آبادی علیہ الرحمہ ایک خط بنام شیخ اعظمی اس طرح لکھتے ہیں۔” اگر چہ چھوٹا منہ بڑی بات ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ آپ کے علم وفضل، بصیرت ودقتِ نظر اور وسعتِ نظر کی داد نہیں دی جاسکتی، اس کا افسوس تھا کہ برِصغیر ہندوپاک میں قاہرہ کے ساعاتی احمد محمد شاکر اور کوثری جیسے محقق علماء نظر نہیں آتے؛ لیکن الحمدللہ آپ نے نہ صرف تلافی کردی ہے؛ بل کہ ان حضرات سے بھی بعض چیز وں میں سبقت لے گئے ہیں "۔
میں بلا تشبیہ اپنی اسی کیفیت فرحت وانبساط کے تحت مرتب رسالہ کو مبارک باد کہتا ہوں "یہ باتیں تمہیدات سےمتعلق تھیں ،اب ذرا ٹائیٹل پیج پر ایک نظر ڈالیں ،یقینا آپ اسے دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ اس کی تزئین کاری میں اس طرح عمدگی وجدت طرازی کا مظاہرہ کیا گیا ہے ،جو قارئین کے ذوق جمال کے لیےباعث تسکین بھی ہے اور عمدہ سامان نظر بھی اور ٹائٹل پیج پر مؤلف کے فیض رسا قلم سے لکھی ہوئی درج ذیل تحریریں اس کی عمدگی اور خو بصورتی کو دوبالا اور دو چند کررہی ہیں:
"موت وآخرت کی تیاری ،دنیا کی بے ثباتی اور اس سے بے رغبتی،دل کا استغنا ,گناہوں سے اجتناب،توبہ،استغفار،مریض کی عیادت،قبروں کی زیارت،بری موت سےحفاظت،آخرت کی پہلی منزل ،میدان حشر اور دلوں کی صفائی وغیرہ پر مشتمل چالیس حدیثوں کا حسین و دلکش مجموعہ” بلاشبہ یہ کتاب مذکورہ بالا اوصاف کو جامع ہے، نیز صاحب ِ کتاب میں بھی وہ اوصافِ حمیدہ موجود ہیں، جسے انہوں نے اپنانے کی لوگوں کو تلقین کی ہے اور ابھارا وبرانگیختہ کیاہے اور ان صفات ِ رذیلہ سے با الکل خالی وعاری ہیں، جسے چھوڑنے پر لوگوں کو زور دیا ہے۔ مفتی صاحب پر آخرت کی فکر، موت کا استحضار اور اللہ رب العزت کے سامنے جواب دہی کا احساس ہمہ وقت اس قدر غالب رہتا ہے کہ انہیں دنیا اور دنیا کی عزت و شہرت اور دولت کے حصول میں اپنی زندگی کے بیشتر قیمتی لمحات وساعات کو صرف کرنا غیر دانشمندانہ کام سمجھ میں آتاہے۔ انہیں دیکھنے دینے والا، ان سے ملاقات کرنے والا اور ان سے ہم کلام ہونے والا یہ کہنے پر مجبور ہوجاتاہے کہ وہ اس دنیا میں موجود ہوتے ہوئے بھی، اس دنیا میں نہیں؛ بلکہ کسی اور دنیا میں رہتے ہیں۔ مفتی صاحب جس طرح خود ان مذکورہ بالا اوصاف کے حامل ہیں اسی طرح وہ دوسروں کو بھی انہیں اوصاف سے متصف دیکھنا پسند کرتے ہیں؛ اسی لیے انہوں نے اپنی اس کتاب میں زیادہ تر حدیثوں کا انتخاب موت وآخرت سے ہی متعلق کیاہے۔
مؤلف نے اس کتاب کی افادیت وقبولیت عام وتام کرنے کے لیے وہ ساری جتن کی جو ان کے بس میں تھا؛ چنا نچہ سب سے پہلے انہوں نے متنِ حدیث پر صحیح اعراب لگایا، اس کے بعد اردو زبان میں اس کا نہایت عمدہ ترجمہ کیا، پھر انتہائی سادہ سلیس اور لغات سے کنارہ کش ہوکر عام فہم زبان میں اسکی تشریح کی، کسی حدیث کی تشریح انہوں نے ازخود کیا اور کسی کی تشریح عربی زبان میں حدیث کی شرح کردہ کتابوں سے اخذ کیا؛ بایں طور کہ ان عربی عبارات کا اردو میں ترجمہ کردیا اور ساتھ ہی ساتھ ان کتابوں کا جلد مع صفحات حوالہ بھی درج کر دیا،تشریح میں معاون واقعات، اردو، عربی اور فارسی کے اشعار جو مؤلف کے ذہن میں تھے انہیں بھی ذکر کرنے کا التزام کیا،اگر کسی حدیث میں کوئی مشکل لفظ آیا تو انہوں نے الگ سے اس کی وضاحت کی۔ تشریحات ِ حدیث اور تشریحات ِ الفاظ مشکلہ کو کہیں حدیث ، کہیں آیتِ قرآنیہ اور کہیں دونوں سے مدلل کیا، نیز مرکزی وذیلی دونوں عنوان لگانے کا حد درجہ اہتمام بھی کیا ہے؛ البتہ تشریح میں ذکر کردہ فارسی کے اکثر اشعار کا ترجمہ رہ گیا ہے، حالانکہ فارسی اشعار کا ترجمہ کرنا عربی اشعار کا ترجمہ کر نے کے مقابلہ میں زیادہ ناگزیر تھا؛ کیونکہ نئے فضلاء بھی عربی اشعار سمجھ لیتےہیں؛ لیکن فارسی کا چلن بند ہونے کی وجہ سے بعض کے لیے فارسی اشعار کا ترجمہ کر نا مشکل اور بعض کے لیے نا ممکن ہوجاتاہے ۔ اسی طرح بطورِ دلیل ذکر کیے ہوئے احادیث رسول ﷺ اور آیاتِ قرآنیہ کاتر جمہ کہیں متن سے پہلے اور کہیں بعد میں کیا گیا ہے؛ لیکن اکثر ترجموں کے شروع میں لفظِ”ترجمہ "کے ذریعے عنوان نہ لگایا گیا ہے، اگر عنوان لگادیا جاتا تو ایک عام آدمی کے لیے بھی اسے دیکھ کر یہ سمجھنا آسان ہو جاتا کہ یہ مندرجہ ذیل یا مذکورہ بالا حدیث یا آیت کا ترجمہ ہے ، نیز حدیث سے مستنبط کچھ مسائل ذکر کر دیئے جاتے تو علماء کے نزدیک اس کی عظمت بڑھ جاتی۔
یہ کتاب نہ تو شروحاتِ حدیث کے اسلوب پر ہے اور نہ ہی تقریری کتب کے طرز پر؛ بلکہ ناصحانہ انداز میں ہے، حدیث کی نہ تو مختصر تشریح کی گئی ہے اور نہ ہی طویل؛ بلکہ درمیانہ راہ اپنایا گیا ہے؛ کیونکہ یہ کتاب علماء و طلبہ کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے، اگرچہ خواص وعوام دونوں کے لیے یکساں مفید ہے؛ مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ عوام کی دلچسپیوں کا مرکز ماضی میں بھی دینی کتابیں عدم کے درجہ میں ہی رہی ہیں اور حال میں تو موبائل فون نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ فی الوقت ہرطرح کی کتابیں اور بالخصوص دینی کتب سے بیزاری کا رجحان اس درجہ بڑھ گیا ہے کہ اسے پڑھنا تو دور کی بات ہے، میرے خیال سے ۹۵ فیصد مسلم عوام صحاحِ ستہ میں سے ہر ایک کا نام بھی نہیں جانتے ہیں جو قرآن پاک کے بعد سب سے زیادہ صحیح اور سب سے زیادہ مقبول و محبوب ہے ؛ اس لیے اگر اسے واقعات بڑھاکر ، تشریحات کو مزید پھیلا کر اور اسلوب خطابی اپناکر "خطبات” کے طرز پر ڈھال دی جاتی تو اس کی افادیت اور بڑھ جاتی اور ائمہ، خطبا اور واعظین بھی اسے حرزِ جاں بنالیتے۔
چند چھوٹی چھوٹی فرو گزاشتیں ہیں، جن سے شاید ہی کوئی مؤلف بچ سکتا ہے۔ باقی مجموعی اعتبار سے یہ کتاب عوام وخواص دونوں کے لیے یکساں مفید اور لائقِ استفادہ ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کر جہاں ایک طرف قبر وآخرت جہنم اور اس کی سزاوعقاب کاخوف ذہن ودماغ کواپنا اسیر بنالیتا ہے تو وہیں دوسری طرف فانی دنیا کی فانی لذتوں، چمک دمک اور اس کی ظاہری ٹیپ ٹاپ سے دھوکہ کھانے کا احساس طشت ازبام ہوجاتا ہے، نیز معاملات کی صفائی، فرائض کی ادائیگی،علماء و صلحا ء کی صحبت کی اہمیت بھی واضح ہو جاتی ہے اور حقوق العباد میں کوتاہی، نافرمانوں سے قرب اور آخرت سے غفلت کا نتیجہ بھی آشکارا ہوجاتا ہے؛ لہذا قارئین ِ حضرات درج ذیل نمبر پر رابطہ کرکے یہ کتاب حاصل کریں، بار بار پڑھیں اور اس میں بیان کردہ تعلیمات و ہدایات کو اپناکر دنیا وآخرت دونوں جہاں میں سرخ روئی وسرفرازی حاصل کر یں اور دعا کریں کہ الله رب العزت مؤلف کو عمرِ دراز عطا فرمائے اور اس طرح کا بیش بہا تحفہ امت کو تا زندگی برابر پیش کر نے کی توفیق بخشے ، آمین ۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ نمبر: ۷۳۵۲۶۲۵۲۸۹

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*