اللہ میاں کو دھوکہ دینا ! ـ مسعود جاوید

 

لوگ اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ معاشرے میں ان کا شمار صلحاء میں ہو اور انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے اس کے لئے وہ اپنی مرضی کے اعمال اور ہیئت اصلی پر شرعی لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔
ایسے لوگ نماز روزہ داڑھی کرتا پائجامہ کا بہت زیادہ اہتمام کرتے ہیں تاکہ لوگ انہیں نیک صالح لوگوں میں شمار کریں مگر خود اپنے نفس کی اصلاح نہیں کرتے۔ مال ان کی بہت بڑی کمزروی ہوتی ہے۔ اس لئے ان کی بدنی عبادت اور مالی عبادت میں تطابق نہیں ہوتا۔ مال اپنے ہاتھ سے نہ نکلے اس کے لئے وہ ناجائز کو جائز کرنے کے لئے طرح طرح کی تاویلات کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ ان کا ایسا کرنا شرعاً درست نہیں ہے. وہ خوب اس لئے جانتے ہیں کہ اللہ نے خود قرآن کریم میں فرمایا «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا” اللہ نے ہر ایک کو گناہ اور اس سے بچنے کی سمجھ دی ہے”۔
انسان کا ضمیر اس کا سب سے بڑا مفتی ہے۔
لیکن غلط کرنا بھی ہے اور سماج میں نیک نظر آنا بھی ہے اس کے لئے وہ شرعی جواز کی تگ ودو میں رہتے ہیں۔ ایسے لوگ اور کچھ نہیں تو کسی مولوی سے پوچھیں گے کہ میں ایسا کر رہا ہوں یہ جائز ہے یا نہیں ؟ اگر اس نے بتا دیا کہ یہ جائز نہیں ہے تو پھر کسی اور مولوی سے پوچھیں گے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح کھینچ تان کر تاویل کر کے جواز کا فتویٰ مل جائے۔۔۔۔۔ زکوٰۃ ادا کرنے کی نیت نہیں ہے تو مولانا سے حولان حول کا مسئلہ پوچھیں گے۔ وہ سیدھا مسلمان پوچھنے والے کی اندر کی خباثت نہیں جانا اور بتایا کہ ملکیت پر سال پورا ہونا چاہیے۔ بس کیا تھا اس نے گیارہویں مہینے میں مال ودولت بیوی کے نام کردیا اور سمجھ لیا کہ زکوٰۃ کی ادائیگی اس سے ساقط ہو گئی۔ ۔۔۔ اس طرح اس نے اللہ کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو گیا لیکن اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ کے پاس مال و دولت گوشت اور خون نہیں اس کی نیت پہنچتی ہے۔ "لن ينال الله لحومها و لا دماءها”. نہ دینے کی اس کی خبیث نیت اللہ تک پہنچ گئی۔

عالم اسلام کے مشہور جید عالم دین الشیخ محمد یوسف القرضاوی جن کی بے باکی کی پاداش میں مصری حکومت نے ان کی شہریت سلب کر لی تو قطر حکومت نے اعزاز واکرام کے ساتھ قطری شہریت دے کر اپنے ملک میں جگہ دی، ان سے الجزیرہ لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران ایک عرب خاتون نے سوال کیا کہ اس صورت حال میں اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہے یا نہیں ؟ شیخ نے بتایا کہ فرض ہے۔ خاتون نے کہا کہ میں نے فلاں عالم سے پوچھا تھا اور انہوں نے کہا ہے کہ میرے اوپر زکوٰۃ کی ادائیگی فرض نہیں ہے۔ شیخ نے کہا تم نے پوری بات وضاحت سے نہیں بتائی ہوگی یا ممکن ہے وہ عالم صاحب اقتصادی امور اور موجودہ حالات سے نابلد ہوں گے مگر وہ خاتون حجت کرنے لگی تو شیخ نے کہا کہ تم خوب جانتی ہو تم پر زکوٰۃ فرض ہے مگر چاہتی ہو کہ کل قیامت کے روز کسی مولوی کی گردن پھنسے۔ یاد رکھو تمہاری نہ ادا کرنے کی نیت اللہ سبحانہ وتعالیٰ تک پہنچ گئی ہے اور اللہ تم جیسوں کی زکوٰۃ سے بے نیاز ہے۔ تم اللہ ، جو دلوں کے حال سے واقف ہے، اسے دھوکہ دینا چاہتی ہو۔
اس طرح کی تاویلات کی ضرورت کیا ہے۔ اسلامی ریاست تو ہے نہیں کہ زکوٰۃ نہ دینے والوں کے خلاف جہاد ہو یا پولیس یا ٹیکس افسر بالجبر وصول کرے۔

ایسے لوگ اللہ کی مرضی کے مقابل اپنی مرضی پر چلنے کے لیے اپنے اعمال پر شرعی جواز کا غلاف چڑھا کر سماج میں عزت دار بنے رہنا چاہتے ہیں۔

وراثت کی تقسیم :

"إنه لحب الخير لشديد”( قرآن) انسان مال و دولت سے شدید محبت کرنے والا ہے۔ اسی شدید محبت کا نتیجہ ہے کہ عام مسلمان ہی نہیں علماء صلحاء ‌نظر آنے والے بھی وراثت سے بہنوں کو محروم کۓ بیٹھے ہیں۔ اولاد کے حقوق ادا نہیں کرتے یا انصاف نہیں کرتے۔
اللہ نے مال ودولت کو متداول بنایا ہے یعنی آج اس کے پاس تو کل کسی اور کے پاس۔ اسی لئے وراثت کی تقسیم میں کسی کی موجودہ حالت کا اعتبار کرتے ہوئے کم زیادہ کرنے سے منع کیا ہے اور قرآن کریم میں اللہ نے خود تقسیم کر دیا ہے۔ اب کئ باپ یا وراثت تقسیم کرنے والے اللہ سے زیادہ اپنے آپ کو رحم دل ثابت کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ نعوذباللہ۔۔۔ اور بہن یا بیٹی بیٹے کی موجودہ معاشی حالت کے مطابق اللہ کی تقسیم کے خلاف کم زیادہ کرتے ہیں۔ اس تناظر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل حدیث ذہن میں رکھنا چاہیے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مجھے اس ظلم پر گواہ مت بناؤ۔۔۔۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے سے روایت ہے: انہوں نے کہا کہ میرے والد نے مجھے کچھ مال دیا تو میری والدہ نے کہا کہ جب تک اس کے گواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہوتے میں اسے لینے نہیں دوں گی۔ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوۓ تاکہ وہ اس کے گواہ ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو ایسا ہی دیا ہے؟ میرے والد نے کہا ‘نہیں’ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی اولاد کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور ان کو برابر دو ۔ یہ سن کر میرے والد لوٹ آئے اور اس چیز (ایک روایت میں غلام) کو واپس لے لیا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مجھے گواہ مت بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا ہوں۔
عن النعمان بن بشير – رضي الله عنهما – قال: تصدق علي أبي ببعض ماله، فقالت أمي عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى يشهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فانطلق أبي إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ليشهده على صدقتي، فقال له رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أفعلت هذا بولدك كلهم؟ قال: لا، قال: "اتقوا الله، واعدلوا بين أولادكم”، فرجع أبي فرد تلك الصدقة وفي لفظ: قال: "فلا تشهدني، إذًا فإني لا أشهد على جور.

اولاد کی مالی حالت کو مدنظر رکھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اولاد کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں ، نا کہ وراثت میں کم و زیادہ کیا جاۓ۔
بہنوں اور بیٹیوں کے حقوق غصب کرنے والوں میں علماء صلحاء بھی ہیں ۔ وہ خود بہنوں اور بیٹیوں کے حقوق کے غاصب ہیں تو منبر و محراب سے ایسا کرنے کے خلاف وعیدیں کیوں بتائیں گے۔
واضح رہے کہ والدین کے ترکہ میں جس طرح ان کی نرینہ اولاد کا حق وحصہ ہوتا ہے اسی طرح بیٹیوں کا بھی اس میں شرعی حق وحصہ ہوتا ہے، والدین کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ پر بیٹوں کا قبضہ کرلینا اور بہنوں کو ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا یا مقررہ حصے سے کم دینا ناجائز اور سخت گناہ ہے، بھائیوں پر لازم ہے کہ بہنوں کو ان کا حق وحصہ اس دنیا میں دے دیں، ورنہ آخرت میں دینا پڑے گا اور آخرت میں دینا آسان نہیں ہوگا ، حدیثِ مبارک میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں ، حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گاـ