تیاگی:ممبئی فسادات کا ایک اہم کردار ـ شکیل رشید

رام دیو تیاگی، سابق پولیس کمشنر ممبئی، موت سے نہیں بچ سکے !
ملک کی سیاہ ترین تاریخ 6دسمبر 1992 کے روز ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد ممبئی میں جو مسلم کش فسادات پھوٹے تھے، ان میں بہت سارے کرداروں کا حصہ تھا، تیاگی ان کرداروں میں سے ایک تھے ۔اور بڑا ہی اہم کردار تھے ۔ وہ فرقہ وارانہ فسادات کے ایک ملزم تھے ۔ ان پر ممبئی کی سب سے زیادہ مصروف سڑکوں میں سے ایک ابراہیم رحمت اللہ روڈ پر واقع سلیمان عثمان بیکری اور بیکری کے اوپر واقع دارالعلوم امدادیہ میں گھس کر گولی باری کرنے اور 9 بےقصور مسلمانوں کو قتل کرنے کا سنگین الزام تھا، ایک ایسا الزام جس کی فسادات کی جانچ کے لیے قائم کیے گئے سری کرشنا کمیشن نے بھی تصدیق کی تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں، لیکن موت تک ، مقدمات کے باوجود، قانون تیاگی کا کچھ نہیں بگاڑ سکا ۔ تیاگی فسادات کے بعد ممبئی کے پولیس کمشنر بنے، اور پھر بڑی ہی شان سے پولیس فورس سے ریٹائر ہوئے، متاثرین انصاف کے لیے گہار لگاتے رہے، عدالت کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے، لیکن تیاگی کے سر پر ہمیشہ حکمرانوں کا ہاتھ رہا، وہ بچتے چلے گئے ۔ مگر پھر وقت کا پہیہ گھوما اور پہلے کینسر نے انہیں آ دبوچا پھر موت کے بے رحم ہاتھوں نے انہیں ایسا دبوچا کہ دنیا کے وہ حکمران اور وہ عدالتیں جو ان کی پشت پناہ تھیں دیکھتی رہ گئیں اور تیاگی کی جان نکل گئی ۔ یقیناً اب اوپر والے کے قانون کے تحت گرفت ہو رہی ہو گی اور انصاف کی گہار لگانے والوں کی فریادیں سنی جا رہی ہوں گی ۔ دنیا کی دو روزہ زندگی کے لیے لوگ کیسے خدا بن جاتے ہیں !
تیاگی کی زندگی،اور موت کی تفصیلات میں جانے سے پہلے اُن دنوں کے حالات پر نظر ڈال لیتے ہیں ۔ کیسے ہولناک دن تھے کہ سارے عروس البلاد ممبئی میں آگ لگی ہوئی تھی ۔ 6 دسمبر 1992اورپھر 5 جنوری 1993دومرحلوں میں ہونے والے فسادات میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 900 افراد ہلاک ہوئے جِن میں مسلمانوں کی تعداد 575اورہندوؤں کی تعداد 275 تھی ۔ پولس کے فرقہ پرستانہ رویّے کا اندازہ اس حقیقت سے لگایاجاسکتاہے کہ اس کی گولی باری سے ہلاک ہونے والوں میں مسلمانوں کی تعداد 356 تھی ۔ پولس کی گولیاں، پولس مینول کے اصول وضوابط کے برخلاف سینوں پرچلیں‘ کمرسے نیچے نہیں ۔
ایک جانب پولس، فسادی اورشیوسینک تھے ۔ ان کے ساتھ بی جے پی کے لیڈراور کارکنان بھی تھے ۔ کئی جگہ آرپی آئی اورکانگریسی لیڈروں نے بھی فسادیوں کا ساتھ دیا ۔ شیوسینا اور شیوسینا کے پرمکھ بال ٹھاکرے کا کردار انتہائی گھناؤنا تھا ۔ سری کرشنا کمیشن رپورٹ میں جسٹس سری کرشنا نے تمام ’حقائق‘ کو عیاں کردیا ہے ۔ رپورٹ میں واضح لفظوں میں تحریر ہے : ’’8 جنوری1993سے تواس میں کوئی شبہ ہی نہیں کہ شیوسینا اورشیوسینکوں نے اپنے لیڈروں کی رہنمائی میں مسلمانوں اوران کی املاک پر منظم حملے کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا، شاکھا پرمکھوں سے لے کرشیوسینا پرمکھ بال ٹھاکرے تک کی رہنمائی انہیں حاصِل تھی، بال ٹھاکرے کسی تجربہ کار جنرل کی طرح اپنے وفادار شیوسینکوں کوہدایت دے رہے تھے کہ وہ مسلمانوں پرمنظم حملے کرکے ان سے انتقام لیں ۔ ‘‘
‘سری کرشنا کمیشن رپورٹ ‘میں کئی واقعات درج ہیں ۔ مثلاً اگرپولس کی بربریت کی مثال چاہئے تو سلیمان عثمان بیکری اوراس سے لگ کر دارالعلوم امدادیہ اور سیوڑی علاقہ کی ہری مسجد میں کی گئی گولی باریوں کی مثالیں موجود ہیں ۔ بات چونکہ تیاگی کی ہو رہی ہے اس لیے سلیمان عثمان بیکری کے واقعہ کا ذکر کریں گے ۔ سلیمان عثمان بیکری ابراہیم رحمت اللہ روڈپرواقع ہے، 9جنوری 1993 کے روزوہاں موجود ایک پولس پارٹی نے یہ رپورٹ دی کہ سلیمان عثمان بیکری کی چھت سے ان پر فائرنگ کی گئی تھی ۔ اس رپورٹ کے بعداس وقت کے جوائنٹ پولس کمشنر رام دیوتیاگی اپنے اسپیشل آپریشن اسکواڈ کے ہمراہ وہاں پہنچے ۔ سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اسکواڈ کے لوگوں نے ”صدردروازہ (تبلیغی جماعت کا مرکز، چونا بھٹی کی مسجد کا ) توڑدیا اوربیکری میں داخل ہوگئے ۔ پولس کے مطابق بیکری میں داخل ہونے کے بعدچاپڑوں، آہنی سلاخوں اور چاقوؤں سے لیس 40سے 50 افراد نے پولس والوں پرحملہ کردیا اورپولس کی وارننگ کے باوجود جب حملہ آوروں نے ہتھیارنہیں پھینکے تو پولس نے وارننگ دے کرگولی چلادی اور آگے بڑھنے لگی لیکن 40 سے 50 افراد نے پولس والوں کو روکنے کی کوشش کی، آپریشن اسپیشل اسکواڈ چھت پر پہنچ گیا جہاں 40 سے 50 افراد پانی کی ٹنکی اورچونا بھٹی مسجد کی دیوارکے درمیان چھپے بیٹھے تھے ۔ انہیں سرینڈر کرنے کا حکم دیاگیا لیکن انہوں نے آٹومیٹک اسٹین گن سے پولس پرحملہ کردیا جواب میں پولس نے فائرنگ کی جس میں 8 سے 10 افراد نے مسجداوربیکری کے درمیان گٹرمیں چھلانگ لگادی اورفرار ہوگئے ۔ آپریشن اسپیشل اسکواڈنے چند کو پکڑلیا، ان سے ہتھیار چھین لیے اور انہیں حراست میں لے لیا، بیکری میں موجود 78 افرادحراست میں لیے گئے اس کارروائی میں 9 افراد مارے گئے ”. پولس کے بیان پر جسٹس سری کرشنا خودموقعہ واردات پر پہنچے اور اُنہوں نے جائزہ لینے اورگواہوں سے مِِلنے کے بعدرپورٹ میں تحریر کیا :” بیکری میں موجود افراد غیرمسلح اورنہتے تھے اورانہیں بے دردی سے گولی ماری گئی تھی ۔ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ پولس کواندھا دھند فائرنگ کی ضرورت تھی، پولس نے خوشی خوشی گولیاں چلائی تھیں اور 9 بے گناہ افراد کو ہلاک کیاتھا ۔ اس سارے معاملے کی ذمہ داری جوائنٹ پولس کمشنر آرڈی تیاگی، اے پی آئی دیشمکھ اورپولس انسپکٹر لہانے پرعائد ہوتی ہے ”۔ اتنی واضح رپورٹ اور مبینہ دہشت گردوں پر 31 راؤنڈ کی گولی باری اور جواب میں کسی پولیس والے کے زخمی نہ ہونے اور نہ ہی ٹیرس سے کسی طرح کے اسلحے کی برآمدگی کے باوجود تیاگی ممبئی کے پولس کمشنر بنے اور سارے الزامات سے بری کردیئے گئے ۔ تیاگی سیشن کورٹ سے بری ہوئے، پھر یہ معاملہ بمبے ہائی کورٹ پہنچا، وہاں سے بھی بری ہوئے ۔ آخر میں سپریم کورٹ نے بھی انہیں بری کردیا ۔ تیاگی کو عدالت تک کھینچنے والے، دارالعلوم امدادیہ کے مولانا نورالہدی بھی اب نہیں رہے ۔ اور نہ ہی ممبئی فسادات کے متاثرین و مظلومین کی رہنمائی کرنے والے مخلص خدمت گار فضل شاد، اور نہ ہی جمعیتہ علماء مہاراشٹر کے اس وقت کے نائب صدر اے اے خان، جنہوں نے کمیشن کے سامنے متاثرین کی گواہی کو ممکن بنایا تھا، حیات ہیں ۔ گویا یہ کہ ممبئی کے دو مرحلوں میں ہونے والے فسادات کی کہانی اختتام کے قریب ہے ۔ حالانکہ سلیمان عثمان بیکری گولی باری معاملے کی شنوائی سیشن کورٹ میں شروع ہے، اور عدالت کا کلرک اب بھی اسٹیٹ آف مہاراشٹر بمقابلہ آر ڈی تیاگی، کی پکار لگاتا ہے، لیکن گواہوں کے حوصلے اب پست ہو چکے ہیں ۔ تیاگی پر شیوسینا کی خاص عنایات تھیں، جنوری 1996ء میں جب مہاراشٹر پر شیوسینا، بی جے پی کا راج تھا تب تیاگی نے شیوسینا کے اخبار سامنا پر سے وہ سارے مقدمات ختم کر دیے تھے جو فسادات سے متعلق تھے ۔ سامنا پر، بال ٹھاکرے پر اور کئی شیوسینکوں پر ممبئی میں فسادات بھڑکانے کے لیے مقدمات قائم کیے گئے تھے ۔ تیاگی کو شیوسینا نے بطور انعام مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے لیے نمائندگی بھی دی تھی ۔ کمشنر کے طور پر انہوں نے مسلمانوں سے رابطے بڑھائے، شہر کی معروف مذہبی شخصیت مولانا عبدالقدوس کشمیری مرحوم سے ان کے قریبی تعلقات ہوئے، مسلم تقریبات میں ان کا آنا جانا ہونے لگا اور انہوں نے کوشش کی کہ ان پر سلیمان عثمان بیکری کا جو داغ لگا ہے وہ دھل جائے، لیکن داغ دھل نہیں سکا ۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ مسلمانوں سے یہ قربت حکومت کے اشارے پر تھی، انہیں یہ ہدایت تھی کہ ممبئی میں پھر فساد نہ ہونے پائے، اس میں تیاگی کامیاب رہے ۔ تیاگی کا بڑا دبدبہ تھا، انہیں پورا یقین تھا کہ ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوگا ۔ اور ایسا ہی ہوا ۔ سچ تو یہ ہے کہ ممبئی فسادات کے کسی بھی قصور وار کو سزا نہیں ملی ہے ۔ بال ٹھاکرے کو صرف ایک دفعہ ہی عدالت میں حاضر کیا جانا ممکن ہو سکا تھا، پھر موت تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ پولیس افسر نکھل کاپسے کو آج تک سزا نہیں دی گئی جنہوں نے سیوڑی کی ہری مسجد میں ظہر کی نماز کے موقع پر گھس کرگولی باری کی تھی جس میں9؍مسلمان شہید ہوئے تھے ۔ حالانکہ کمیشن کی رپورٹ میں مسجدکے اندرمسلمانوں کی شہادت کا سبب نکھل کاپسے کی اندھا دھند اور بلااشتعال فائرنگ کو قرار دیا گیا ہے ۔ کارروائی صرف شیوسینا کے ایک ایم پی مدھوکر سرپوتداراور ان کے دو شیوسینک ساتھیوں جینت پرب اور اشوک شندے کے خلاف ہوئی ۔ خصوصی عدالت نے انہیں فسادات کا قصوروار قرا ر دیا مگر انہیں فوری ضمانت مل گئی ۔ اور دو سال بعدسرپوتدار کی موت ہو گئی ۔ یہ معاملہ بھی اب ختم ہے ۔ مجھے آج بھی ریٹائرڈجسٹس بی این سری کرشنا کی بات یادآرہی ہے،موقع انگریزی کی جرنلسٹ مینامینن کی ممبئی فسادات پر انگریزی کتاب کی رونمائی کا تھا، جسٹس سری کرشنا اس موقع پر موجودتھے اورانہوں نے کہاتھا کہ وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کی رپورٹ پر عملدرآمد ہوتاکہ متاثرین کو انصاف فراہم ہو سکے ۔ یعقوب میمن کی پھانسی کے ایک دن بعدانہوں نے یہ سوال اٹھایاتھا کہ’یعقوب میمن کو تو اس کے جرم کی سزا مل گئی ممبئی کے فسادیوں کو کب سزا ملے گی؟ ‘یہ سوال آج تک جواب طلب ہے ۔ سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ کو دبانے اور دبوانے میں تمام ہی سیاسی پارٹیوں کا ہاتھ رہا ہے ۔ پہلے تو شیوسینا، بی جے پی کی سرکار نے کمیشن کی راہ میں روڑے اٹکائے، مگر اٹل بہاری واجپئی کے کہنے پر حکومت پیچھے ہٹ گئی لیکن سفارشات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ۔ کانگریس اور این سی پی کی سیکولر کہلانے والی سرکاریں بھی رپورٹ کو نظر انداز کرتی رہیں ۔ مسلم سیاست دانوں نے بھی اس رپورٹ کو دبانے میں گھناونا کردار ادا کیا ۔ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے دیکھیے کب شنوائی کی باری آتی ہے ۔اور شنوائی ہوئی بھی تو کیا ہوگا، ممبئی فسادات کے سارے کردار ایک ایک کر کے اوپر والے کے سامنے پہنچ رہے ہیں ۔ اور شاید یہی ٹھیک بھی ہے کہ فیصلہ، کھرا فیصلہ تو اوپر والا ہی کرے گا ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*