اور ٹائمز ناؤ نے گھٹنے ٹیک دیے ـ ایم ودود ساجد

 

ایک بڑی خبر آئی اور یوں ہی گزر گئی۔جنہیں نوٹس لینا چاہئے تھا انہوں نے بھی اس خبر کا نوٹس نہیں لیا۔ خبر یہ تھی کہ گزشتہ 22 جون کو ٹائمز آف انڈیا گروپ نے ہندی فلم انڈسٹری سے صلح کرلی ہے اور آئندہ کیلئے وعدہ کیا ہے کہ وہ کبھی ہندی فلم انڈسٹری کے خلاف کوئی ہتک آمیز خبر شائع یا نشر نہیں کرے گا۔۔ اس مفہوم کا ایک عہدنامہ دہلی ہائی کورٹ میں داخل کر دیا گیا ہے۔اب عدالت کو اس پر غور کرکے اسے منظوری دینی ہے۔۔ اس معاہدہ کی خبر ’پروڈیوسرز گلڈ آف انڈیا‘ اورٹائمز ناؤ نیٹ ورک نے مشترکہ طور پر جاری ایک بیان میں دی۔

اس گروپ کے چینل ٹائمز ناؤ اور ارنب گوسوامی کے چینل ریپبلک نے نوجوان فلم اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد ہندی فلم انڈسٹری کے خلاف مختلف الزامات کے تحت انتہائی ہتک آمیز مہم چلائی تھی۔ اس سلسلہ میں پچھلے سال اکتوبر میں فلم انڈسٹری کی چار انجمنوں اور 34 نامور پروڈیوسرز نے دونوں چینل اور ان کے کچھ اینکروں کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کردی تھی۔انہوں نے چینلوں پر غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا الزام عاید کیا تھا۔ ان پروڈیوسرز میں کئی بڑے اداکار بھی شامل ہیں جنہوں نے اب اپنا پروڈکشن ہاؤس کھول لیا ہے۔

دونوں فریق نے جو بیان جاری کیا اس میں مزید کہا گیا کہ معاہدہ کی شرائط کے مطابق ٹائمز ناؤ کیبل ٹیلیویزن نیٹ ورک (ریگولیشن) ایکٹ کے تحت پروگرام کوڈ کی پاسداری کرے گا اورٹائمز ناؤ اور شکایت کنندگان (فلم انڈسٹری) ہم آہنگی پر مبنی اپنے تاریخی رشتوں کو مضبوط کرنے کے لئے کام کریں گے۔

ہندی فلم انڈسٹری نے دہلی ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن میں کہا تھا کہ مذکورہ دونوں چینلوں نے ہندی فلم انڈسٹری کے خلاف انگریزی کی منفی اصطلاحات Dirt, Filth, Scum اور Druggies وغیرہ کا استعمال کیا ہے۔۔ (ان اصطلاحات کا ترجمہ گندگی‘ غلاظت‘ گندگی کے بھوکے اور نشہ باز ہوتا ہے)۔ پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان دونوں چینلوں کوفلم انڈسٹری کے خلاف ہتک آمیز اور ذلت آمیز رپورٹنگ سے روکا جائے۔ان چینلوں پر یہ بھی الزام عاید کیا گیا تھا کہ انہوں نے فلم انڈسٹری کو ملک کی سب سے گندی انڈسٹری اور کوکین کا پیاسا بالی ووڈ قرار دیا ہے۔

فلم انڈسٹری کی پٹیشن میں شکایت کنندگان نے یہ واضح کردیا تھا کہ وہ سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے سلسلہ میں جاری تحقیقات میں چینلوں کے خلاف مطلق امتناعی حکم کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ صرف ایسی رپورٹ اور مواد کی اشاعت اور نشریہ کے خلاف مستقل پابندی کا حکم چاہتے ہیں جونافذ العمل قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہو۔۔ جن اداکاروں نے پٹیشن دائر کی تھی ان میں اکشے کمار‘شاہ رخ خان‘اجے دیوگن‘ عامر خان اور انوشکا شرما کے نام بھی شامل تھے۔اس کے علاوہ بہت سے نامور فلم ساز بھی اس پٹیشن پر دستخط کرنے والوں میں شامل تھے۔

مجھے یاد آیا کہ مئی 2020 میں‘ یعنی فلم انڈسٹری سے بھی 6 مہینے پہلے جمعیت علماء نے میڈیا اور خاص طور پر چینلوں کے خلاف ایک پٹشین دائر کی تھی جس میں شکایت کی گئی تھی کہ میڈیا نے تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے اور اس کے بہانے سے ملک بھر کے مسلمانوں کے خلاف ماحول بنانے کیلئے خلاف واقعہ اور غلط خبریں شائع اور نشر کی تھیں۔یہ پٹشین سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے پریس کونسل آف انڈیا‘حکومت ہند اور ان چینلوں کو نوٹس جاری کئے تھے۔اس کے بعد کئی تاریخوں پر سماعت ہوئی اور حکومت نے جو حلف نامے داخل کئے سپریم کورٹ نے انہیں بے ہودہ‘ لغو اور بوگس قرار دے کر حکومت اور افسروں کی گوشمالی بھی کی۔اب یہ مقدمہ کس مرحلہ میں ہے نہیں معلوم۔

میں تین دہائیوں سے دو نکتوں پر زور دیتا آیا ہوں۔ایک تو یہ کہ براہ راست سپریم کورٹ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ دوسرے محاذوں سمیت قانونی محاذ پر بھی الگ الگ کوششوں کی بجائے متحدہ کوششیں ہونی چاہئیں۔شاید جماعتیں براہ راست اس لئے سپریم کورٹ پہنچ جاتی ہیں کہ لفظ "سپریم کورٹ” کہنے سننے‘ سنانے‘لکھنے اور پڑھنے میں کچھ اچھا اور بڑا سا لگتا ہے۔ دوسرے جو بات تنہا چلنے میں ہے وہ اکٹھا چلنے میں کہاں ہے؟ تنہا چلیں گے تو ذرا نمایاں طورپر ذکر آئے گا اور مل کر چلیں گے تو ایک دوسرے میں مدغم ہو جائیں گے۔ من و تو کا فرق ہی مٹ جائے گا۔پتہ ہی نہیں چلے گا کہ کس نے کیا کیا۔پھر مختلف شکلوں میں دور دراز سے جو ’شاباشی‘ آئے گی وہ آخر کس کو ملے گی۔۔ وہ تو سب کے حصے میں آکر حصے بخرے ہوجائے گی۔

ٹائمز آف انڈیا گروپ کوئی چھوٹا موٹا گروپ نہیں ہے۔اس کی ابتدا 3 نومبر 1938کو ممبئی میں ہوئی تھی جب اس نے اپنا پہلا ایڈیشن ’بامبے ٹائمز اینڈ جرنل آف کامرس‘ کے طور پر شائع کیا تھا۔ 20ویں صدی کی ابتدا میں ہندوستان کے وائسرائے لارڈ کرزن نے ٹائمز آف انڈیا کو ایشیا کا ’قائد اخبار‘ Leading Paper قرار دیا تھا۔دسمبر 2019 کی آر این آئی رپورٹ کے مطابق ٹائمز آف انڈیا کے تمام ایڈیشنز کی ہر روز چھپنے والی تعداد 28 لاکھ 80 ہزار 144 تھی۔اس گروپ کے چینل ٹائمز ناؤ کی ابتدا 23 جنوری 2006 کو ہوئی تھی۔۔ باوجود اس کے کہ 1988 میں شروع ہونے والے این ڈی ٹی وی کے علاوہ آج تک‘ انڈیا ٹی وی اور دیگر کئی بڑے چینل پہلے سے موجود تھے’ ٹائمز ناؤ نے بہت کم مدت میں اپنے خاص انداز’ دلکش لب ولہجے اور متوازن رپورٹنگ کے سبب مقبولیت حاصل کرلی تھی۔

ہندوستان کے اِس وقت کے سب سے بد زبان اور انتہائی مسلم دشمن اینکر ارنب گوسوامی نے بھی اُس وقت ایک ایماندار اور انتہائی صاف گو اور سیکولر صحافی کی حیثیت ٹائمز ناؤ میں ہی بنائی تھی۔ٹائمز ناؤ پر ان کے ہر شب نشر ہونے والے پروگرام ’نیوز آور‘ نے انہیں ایک بڑے سیکولر حلقے کی آنکھوں کا تارا اور فرقہ پرستوں کی آنکھوں کا کانٹا بنادیا تھا۔

ایسے میں اگر ٹائمز آف انڈیا جیسا طاقتور گروپ ہندی فلم انڈسٹری سے محض 9 مہینے میں ہی گھبرا جاتا ہے اور اس سے نہ صرف معافی مانگ کر صلح کرلیتا ہے بلکہ کبھی بھی اس کے خلاف ہتک آمیز خبر شائع اور نشر کرنے سے توبہ کرلیتا ہے اور آئندہ اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کرلیتا ہے تو کوئی تو بات ایسی ضرور ہے کہ جس نے اسے اس امر پرمجبور کردیا۔

میرا خیال ہے کہ فلم انڈسٹری کی مضبوط پٹیشن‘ فلم انڈسٹری کا اٹوٹ اتحاد اور دہلی ہائی کورٹ میں اس کے وکیلوں کے مضبوط وموثر دلائل نے ٹائمز ناؤ جیسے مضبوط گروپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔اس سے آگے کی جملہ سازی آپ خودکرلیجئے۔