تلنگانہ کے ’سیکولر‘وزیراعلیٰ نے حیدرآبادیونیورسٹی کا نام نرسمہاراؤ یونیورسٹی سے بدلنے کی تجویزپیش کی

حیدرآباد:تلنگا نہ کے ’سیکولر‘وزیراعلیٰ آج کل’نرسمہارائوپریم‘میں مبتلاہیں۔بھارت رتن اورمجسمہ کے علاوہ اب نیاشوشہ چھوڑاگیاہے۔غیربی جے پی وزیراعلیٰ کوبھی ’حیدر‘نام پسندنہیں ہے۔انھوں نے وزیراعظم کوخط لکھ کرحیدرآبادیونیورسیٹی کانام تبدیل کرنے کامشورہ دیاہے اورتجویزدی ہے کہ اس کانام سابق و زیراعظم نرسمہارائوکے نام پررکھاجائے جومسلمانوں کے درمیان پہلے سے ہی مشکوک رہے ہیں اورجن کی وجہ سے کانگریس کوعرصے تک اقتدارسے دوررہناپڑاہے۔ لیکن اب جب کہ رام مندرکی تعمیرکامسئلہ حل کرادیاگیاہے ،نرسمہارائوکودوبارہ زندہ کرناکہیں نہ کہیں فرقہ پرست طاقتوں کے لیے نئی توانائی فراہم کرے گا۔کے سی آر نے حیدرآباد یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کے حوالے سے پی ایم مودی کو خط بھیجا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ تلنگانہ کے عوام چاہتے ہیں کہ حیدرآباد یونیورسٹی کا نام سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کے نام پر رکھا جائے۔ انہوں نے یونیورسٹی کا نام تبدیل کرتے ہوئے ’’پی وی نرسمہا راؤ سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد‘‘رکھنے کی اپیل کی ہے۔ایسے میں دیکھنایہ ہوگاکہ ’دوست‘اویسی جوپورے ملک کے مدعے پرجرات کی دادوصول کرتے ہیں، اس مدعے پرکچھ لب کشائی فرماتے ہیں یانہیں۔سی ایم کے سی آر نے وزیر اعظم مودی کو بھیجے گئے خط میں لکھاہے کہ سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤتلنگانہ (سابقہ آندھرا پردیش) میں 28 جون 1921 کوپیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ملک کی ترقی میں بہت تعاون کیا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*