طفلِ مکتب ہیں طالبان ابھی-عبدالسلام عاصم

 

بادشاہوں کے زمانے میں لوگ کسی بھی انفرادی یا اجتماعی ظلم سے اُس وقت تک بے خبر رہتے تھے جب تک کوئی جان ہتھیلی پہ لے کر کسی کو اس کی اطلاع نہیں دیتا تھا۔ باوجودیکہ خبربس ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتی تھی۔ پھر کانوں کان خبر عام ہونے تک ظلم کے سارے نشاں از خود مٹ جاتے تھے۔

تاریخ میں ایسے واقعات و سانحات کا ذکر معتبر اور غیر معتبر حوالوں سے ہوتا تھا، جسے پڑھ کر کچھ لوگ عبرت حاصل کرتے تھے، کچھ سہم جاتے اور کچھ تبدیلی کے رخ پر حکیمانہ یا جارحانہ خطوط پر سوچنے لگتے تھے۔ اس طرح بدلہ بھی لیا جاتا تھا،حالات بھی بدلتے تھے، عبرت حاصل کرنے والوں کو خوش عملی کی توفیق بھی ملتی تھی اور ناصحین کے ٹولے جن میں مفسدین کے بہروپیوں کی ایک بڑی تعداد ہوتی تھی، حسب روایت تبدیلی کاسہرا اپنے سر باندھ کر گھومنا بھی شروع کر دیتے تھے۔

ان سب تبدیلیوں میں صدیاں لگ جاتی تھیں۔ ان کی داستاں کہیں آسمانی حوالوں سے تو کہیں ارتقا کے سفر سے جوڑ کر آج بھی سنائی جاتی ہیں۔ لیکن زمانے کی رفتار میں تیزی کے جس عہد کے ہم اور آپ گواہ ہیں اُس میں چند لمحوں میں مشرق کا کرب تفصیل کے ساتھ مغرب تک اور جنوب کی خوشی کی اطلاع شمال تک پہنچ جاتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ کسی اندیشے کو ٹالنے اور امکانات کے در بڑے پیمانے پر وا کرنے میں ہمیں دہائیوں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ ایک بڑا سوال ہے جو اُن حلقوں سے ہرگز نہیں جو ہر تبدیلی کا سہرا اپنے سر باندھنے کیلئے بے چین رہتے ہیں۔ اِس سوال پر حقیقی تعلیم یافتگان اور علمی ڈگر کے مسافر غور کریں، جواب ڈھونڈیں اور اُس سے نئی نسل کو بہرہ ور کریں تاکہ عظمت رفتہ کی بحالی کی بے ہنگم کوشش میں اپنا اور دوسروں کا حال تباہ کرنے والوں کو صراط مستقیم کا اصل مفہوم سمجھ میں آئے اور وہ اِس عہد کے ساتھ آگے بڑھیں کہ کوئی بھی جذبہ انسانی زندگی سے بڑھ کر مقدس نہیں۔ اِس طرح وہ نجی معاملات کے سارے فیصلے کا اختیار اللّٰہ کو واپس سونپ کر صرف اور صرف اجتماعی زندگی کو ہر قسم کے تشدد سے پاک کرنے پر کاربند ہو جائیں۔

افغانستان کی حالیہ تبدیلی کو محض کسی کی ہار اور کسی کی جیت کے ظاہری پس منظر میں نہ دیکھا جائے۔ بہ باطن یہ فطرت کی طرف سے زندگی کو معمول پر لانے کا ایک موقع ہے۔ اگر طالبان نے حسبِ سابق یہ موقع پھر ضائع کیا تو اس بار اُنہیں روس (سابق سوویت یونین) اور امریکہ کے بعد چین سے بھی شکایت ہو جائے گی جو ان کے استحصال کی پوری تیاریوں کے ساتھ میدان میں تقریباً اُتر چکا ہے۔

انسانی زندگی خواہ وہ مشرق کی ہو یا مغرب کی، فنا انجام ہونے کے باوجود تعمیر چاہتی ہے تخریب نہیں۔ مقصد ایزدی بھی تعمیری ہے۔ خدائے عز وجل بنیادی طور پر حیات بخش ہے، موت کا بیوپاری نہیں ہے۔ موت تو زندگی کی میعاد کی تکمیل کی لفظی پہچان ہے۔ اِس میعاد میں غیر حادثاتی یعنی منصوبہ بند خلل ایک غیر انسانی عمل ہے جس سے گریز کرنے والے ہی اپنی سوچ کا بہترتعمیری رُخ متعین کر سکتے ہیں۔

محکومی اور غلامی کی تمام اصطلاحوں کے خالق ہم ہیں خدا نہیں۔ وہ تو مختار کل ہوتے ہوئے بھی ہمیں آزاد خلق کرتا ہے اور سیدھے اور غلط راستے چننے کیلئے بے روک چھوڑ دیتا ہے۔ یہ غلطی ہماری ہے کہ ہم اپنی پسند کے راستے کو صراطِ مستقیم سمجھ لیتے ہیں اور جو راستہ پسند نہیں اسے باطل کا نام دے دیتے ہیں۔ اصل میں سیدھا راستہ اُن تمام سمتوں کا نام ہے جو خدا کی طرف سے متعین کردہ ہیں۔ اُس راستے میں اُس نے اپنی طرف سے بارش کی بوندوں کی گنجائش تو رکھی ہے خون کی بوندوں کی نہیں۔ غلط راستہ خدا کے نزدیک وہ ہے جسے ہم اپنی پسند سے چنتے ہیں اور اس کا ایک سے زیادہ نام رکھ دیتے ہیں۔

ہم اپنی پسند کے راستے سے اُس منزل تک نہیں پہنچ سکتے جس کا انتخاب خدا نے کیا ہے۔ سائنسی راہ نما آلہ GPS منزل رخی آلہ ہے، یہ پسندیدہ اور ناپسندیدہ راستے کا انتخاب نہیں کرتا۔ البتہ دوران سفر یہ ضرور بتا دیتا ہے کہ کس راستے میں ٹریفک (اندیشے) زیادہ ہے اور کون سا راستہ تھوڑی طوالت کے باوجود آسان (امکانات سے پُر) ہے۔خدا نے اپنی کتابی ہدایات میں ہمیشہ ہمیں علم و حکمت یعنی حقیقی تعلیم کے راستے سے متعینہ منزل کی طرف بڑھنے کا حکم دیا ہے۔ افسوس کہ ہم نے اُس کی اِس خواہش اور ہدایت دونوں کو نظریات اور عقائد کی بھینٹ چڑھا دیا اور آج زمانے میں اپنی خواری کیلئے دوسروں کو بدنام کرتے پھر رہے ہیں۔

دنیا کا آخرت رخی سفر ہمیں کہیں اور جا کر نہیں تسخیر کے دائرے میں ہی طے کرنا ہے اور اِس سرائے فانی کو اُس دن تک سنوارتے رہنا ہے جس دن آخری سانس کے ساتھ ہم سفر آخرت کی حتمی دہلیز پار نہیں کر لیتے۔ ایسا ہمیں اِس لئے کرنا ہے تاکہ ہر آنے والی نسل کیلئے ہم ایک اچھی دُنیا چھوڑ جائیں۔ بدقسمتی سے ہم نے اس کے بالکل برعکس راستہ چن رکھا ہے اور اُس پر اللہ سے کشادگی کی دعا مانگتے رہتے ہیں۔ فطرت کے تقاضوں کو سمجھے بغیر بے ہنگم طریقے سے جینے کے نتیجے میں نسل آئندہ کیلئے ہم نے دنیا کو اِس قدر تنگ اور بنجر بنا دیا ہے کہ از خود خاندانی منصوبہ بندی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ منصوبہ بندی تو پہلے کرنا چاہئے تھی۔فطرت کا تقاضہ ہے کہ نہ بلا وجہ کسی کی جان لی جائے نہ تولیدی عمل سے بے جا استفادہ کیا جائے۔ ہر چیز کی زیادتی بری ہوتی ہے۔ اس لئے منصوبہ بندی ہر محاذ پر کی جانی چاہئے۔

کوویڈ سے قبل میں ایک اسکولی تقریب میں شریک ہوا تھا۔ یہ تقریب ایک سے زیادہ حوالوں سے کامیاب بچوں کی حوصلہ افزائی کیلئے منعقد کی گئی تھی۔ وہاں جن باتوں کی کشش نے مجھے اپنی طرف کھینچا وہ حسب ذیل ہیں۔ اول اسکول کی پوری انتظامیہ کے ارکان کی پہلی توجہ کا مرکز وہ بچے تھے جنہیں پرفارم کرنا تھا اور نوازا جانا تھا۔دوئم ذی وقار اور خصوصی سمیت تمام مہمانان توجہ کی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھے۔ سوئم اسکولی بچوں کی فیملی کیلئے ضیافت کے محدود کارڈ کے ساتھ شرکت کے عام خواہشمندوں کیلئے قیمتاً کارڈ تقسیم کئے گئے تھے تاکہ کھانے پینے کی چیزوں کے انتظام میں اندازے کی مطلق کوئی غلطی نہ ہو۔

میں اس تقریب سے نکلنے کے بعد اپنی طالب علمی کے زمانے کی ایسی تقریبات کو یاد کرنے لگا جن میں بس مہمانوں تک انتظامیہ کی ساری توجہ مبذول رہا کرتی تھی۔تقریب کا حصہ بننے والے طالب علموں پر مدرسین کی نظریں اسی طرح خونخوار ہوا کرتی تھیں جیسی سال بھر رہا کرتی تھیں۔ سہمے ہوئے بچے شرارت تو درکنار مسکرانے سے پہلے بھی اساتذہ کی فوری عدم موجودگی کو یقینی بنا لیتے تھے۔میں نے بہر حال ماضی کی ان پر چھائیوں سے فوراً خود کو باہر نکالا اور یہ سوچ کر امید کا دامن تھامے آگے بڑھ گیا کہ چلو کہیں تو روشنی ہے جو کل دور تک پھیل سکتی ہے۔ویسے بھی:

ہم کو ہے فارغین سے شکوہ

طفلِ مکتب ہیں طالبان ابھی